بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 051
موضوع: نکاح، طلاق و خاندانی مسائل
تاریخ: 11 ستمبر 2026 — ہجری: 28 ربیع الاول 1448ھ
سوال

آج کل لڑکے لڑکیاں گھر سے بھاگ کر شادی کرتے ہیں — کیا یہ جائز ہے؟ کہا جاتا ہے ولی کے بغیر نکاح نہیں تو جواب دیتے ہیں کہ وکیل ہمارا ولی تھا اور لڑکی 18 سال کی، بالغ و عاقل ہے؟

الجواب
مختصر جواب

1۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

1۔ ولی کے بغیر نکاح باطل ہے — اہلِ سنت و منہجِ سلف کا متفقہ و راجح موقف: ولی (والد، دادا، بھائی، چچا وغیرہ) کی اجازت و موجودگی کے بغیر نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» (ابی داؤد، ترمذی)؛ عائشہ رضی اللہ عنہا: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ» — تین بار (سنن ابی داؤد: 2083، ترمذی)۔

2۔ "وکیل ولی تھا" باطل دعویٰ: ولی و وکیل الگ حیثیتیں ہیں۔ ولی نسبی رشتے سے شریعت کا مقرر کردہ سرپرست؛ وکیل ولی کا مقرر کردہ نمائندہ ہوتا ہے جو خود ولی نہیں بن سکتا۔ ولی نے وکیل مقرر ہی نہ کیا ہو تو لڑکا/لڑکی کسی اجنبی کو "وکیل" بنا کر ولی کا درجہ نہیں دے سکتے — نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا۔

3۔ "بالغ و 18 سال" کی دلیل: بلوغت و عقل ولی کی شرط ختم نہیں کرتیں — شرط بالغ عورت کے لیے بھی لازم ہے؛ وجہ: حقوق کا تحفظ، مہر کی درستگی، دھوکے و جلد بازی سے بچاؤ۔

4۔ بھاگ کر شادی کے دیگر پہلو: والدین کی نافرمانی (کبیرہ گناہ)؛ خاندانوں میں دشمنی و فساد؛ نکاح کا مسنون طریقہ باوقار، اعلانیہ معاہدہ ہے — چھپ کر کرنا اس کے خلاف۔

خلاصہ: ایسا نکاح شرعاً باطل؛ درست طریقہ: ولی کی آزاد رضامندی و موجودگی، دو عادل گواہ، اعلانیہ نکاح۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔