بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 077
موضوع: معاملات، تجارت و ملازمت
تاریخ: 5 نومبر 2026 — ہجری: 24 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

گھر خریدنے یا بنانے کے لیے بینک سے سودی قرض (مورگیج/ہوم لون) لینا شرعاً کیسا ہے؟ اور جو ادارے اپنی فنانسنگ کو "اسلامی متبادل" کہتے ہیں، ان کے ماڈلز اختیار کرنے میں کیا احتیاط لازم ہے؟

الجواب
مختصر جواب

سود قرآن، سنت اور اجماعِ امت سے قطعی حرام اور کبائر میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۝ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾ (سورۃ البقرہ: ۲۷۸–۲۷۹)۔

الجواب وباللہ التوفیق:

۱۔ سودی قرض کی قطعی حرمت:

سود قرآن، سنت اور اجماعِ امت سے قطعی حرام اور کبائر میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۝ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾ (سورۃ البقرہ: ۲۷۸–۲۷۹)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اسے لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ وہ سب (گناہ میں) برابر ہیں (صحیح مسلم: ۱۵۹۸)۔ ہر وہ قرض جس میں اصل سے زائد کی شرط ہو سود ہے، خواہ وہ گھر کے لیے ہو یا کسی اور مقصد کے لیے۔

۲۔ ضرورت اور کرائے کا متبادل:

اللجنۃ الدائمہ کا فتویٰ ہے کہ بینک یا کسی بھی جگہ سے سود پر قرض لینا حرام ہے، خواہ گھر بنانے کے لیے ہو یا کھانے، کپڑے، علاج یا تجارت کے لیے (فتاویٰ اللجنۃ الدائمہ: ۱۳/۳۸۵)۔ رہائش کی حاجت کرائے کے مکان سے پوری ہو جاتی ہے، اس لیے گھر کی ملکیت شرعی ضرورت (ضرورۃ) کے درجے کو نہیں پہنچتی؛ اور سودی قسط کا کرائے سے سستا ہونا بھی اسے جائز نہیں کرتا۔ مسلمان کو چاہیے کہ کرائے پر صبر کرے، قرضِ حسنہ یا واقعی شرعی متبادل تلاش کرے — جو شخص اللہ کی خاطر حرام چھوڑتا ہے، اللہ اسے اس سے بہتر عطا فرماتا ہے۔

۳۔ اختلاف کا ذکر:

یورپی کونسل برائے فتویٰ و تحقیق نے اپنی قرارداد (چوتھا اجلاس، ڈبلن، ۱۹۹۹ء) میں غیر مسلم ممالک کے مسلمانوں کے لیے حاجہ کو ضرورت کے درجے میں رکھ کر سخت شرائط کے ساتھ اجازت دی تھی: گھر اس کے اپنے اور اہلِ خانہ کے لیے ہو، اس کے پاس دوسرا گھر نہ ہو، اور قرض کے سوا خریدنے کی استطاعت نہ ہو۔ مگر جمہور محققین اہلِ علم — بشمول اللجنۃ الدائمہ — نے یہ توسع قبول نہیں کیا، کیونکہ ضرورت کا شرعی پیمانہ یہ ہے کہ اس کے بغیر زندگی کا نظام درہم برہم ہو جائے، جبکہ رہائش کا مقصد کرائے سے حاصل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا راجح اور محتاط قول عدمِ جواز ہی ہے، اور اس اجازت کو عام لائسنس سمجھنا درست نہیں۔

۴۔ "اسلامی متبادل" کی تنقیدی جانچ:

مرابحہ، اجارہ اور مشارکۂ متناقصہ کے نام سے پیش کیے جانے والے ماڈلز اسی وقت جائز ہیں جب ان کی حقیقت بھی شرعی اصولوں کے مطابق ہو: (الف) بینک یا ادارہ پہلے واقعی جائیداد خرید کر اس کا مالک بنے اور ملکیت کے خطرے (risk) کو برداشت کرے، پھر آگے فروخت کرے یا کرائے پر دے؛ (ب) تاخیر کی صورت میں عائد ہونے والا جرمانہ ادارے کی آمدنی نہ بنتا ہو؛ (ج) معاہدے میں سود کی کوئی صورت صریحاً یا حیلے سے موجود نہ ہو۔ اگر ادارہ کبھی مالک ہی نہ بنے، اس کا "منافع" وقت کے ساتھ طے شدہ سود ہی کی شکل میں ہو، اور تاخیر کے جرمانے بھی اسی کے حق میں جاتے ہوں، تو نام "اسلامی" ہونے کے باوجود حقیقت وہی سود ہے — شریعت میں حکم نام سے نہیں، حقیقت و مفہوم سے بدلتا ہے۔ لہٰذا کوئی بھی ہاؤسنگ فنانس معاہدہ کرنے سے پہلے اسے کسی مستند عالم یا معتبر شریعہ بورڈ کے سامنے رکھنا ضروری ہے۔

مقاصدی تنبیہ: حفظِ دین اور حفظِ مال دونوں کا تقاضا ہے کہ رہائش جیسی جائز حاجت بھی حرام ذریعے سے پوری نہ کی جائے۔ سودی قرض انسان کو دہائیوں تک قرض اور معاشی ذلت میں جکڑ دیتا ہے؛ انہی مفاسد کی وجہ سے شریعت نے سود کا دروازہ سختی سے بند کیا ہے، اور اسی بندش میں فرد و معاشرے کی بھلائی ہے۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔