بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 078
موضوع: معاملات، تجارت و ملازمت
تاریخ: 5 نومبر 2026 — ہجری: 24 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

میرے بینک کے سیونگ (PLS) کھاتے میں سود کی رقم (جسے بینک ”منافع“ کہتا ہے) جمع ہوتی رہتی ہے۔ اس رقم کا کیا کیا جائے؟ کیا اسے اپنے استعمال میں لانا جائز ہے، یا کھاتے میں چھوڑ دیا جائے، یا نکال کر کسی مصرف میں دے دیا جائے؟ اور جو سود میں پہلے ناواقفیت میں استعمال کر چکا ہوں، اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب
مختصر جواب

بینک کھاتے پر ملنے والا مقررہ ”منافع“ شرعی اصطلاح میں عین سود (ربا) ہے، اور سود کی حرمت قرآن سے قطعی ثابت ہے: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (سورۃ البقرہ: ۲۷۵)۔

الجواب وباللہ التوفیق:

۱۔ سودی رقم کی حقیقت اور اس کا بنیادی حکم:

بینک کھاتے پر ملنے والا مقررہ ”منافع“ شرعی اصطلاح میں عین سود (ربا) ہے، اور سود کی حرمت قرآن سے قطعی ثابت ہے: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (سورۃ البقرہ: ۲۷۵)۔ اللجنۃ الدائمہ للبحوث العلمیۃ والافتاء کا فتویٰ ہے: ”بینک کھاتہ داروں کو ان کی جمع شدہ رقم پر جو منافع دیتا ہے وہ سود ہے اور اس سے نفع اٹھانا اس کے لیے جائز نہیں۔ اس پر لازم ہے کہ وہ سودی بینکوں میں رقم رکھنے سے اللہ سے توبہ کرے، اپنی رقم اور اس کا سود نکال لے، اصل سرمایہ اپنے پاس رکھے اور سود کو خیر کے کاموں میں صرف کر دے: مسکینوں اور محتاجوں کی مدد اور عوامی سہولتوں کی فراہمی وغیرہ میں“ (فتاویٰ اللجنہ الدائمہ، منقول در فتاویٰ اسلامیہ: ۲/۴۰۴)۔ لہٰذا نہ اس رقم کو خود استعمال کرنا جائز ہے نہ بینک میں پڑا چھوڑنا درست، کیونکہ چھوڑ دینے سے وہ رقم بینک ہی کے سودی کاروبار میں کام آئے گی؛ حکم یہی ہے کہ نکال کر مصرفِ خیر میں دے دی جائے۔

۲۔ یہ صرف کرنا ”تخلّص“ ہے، صدقہ نہیں:

واضح رہے کہ یہ رقم کسی مستحق کو دینا صدقہ و خیرات کے ثواب کی نیت سے نہیں ہوتا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ”بے شک اللہ طیب (پاک) ہے اور صرف طیب (پاک مال) ہی قبول فرماتا ہے“ (صحیح مسلم: ۱۰۱۵)۔ سودی مال دینے والے کے حق میں طیب نہیں، اس لیے اس پر نہ ثواب کی نیت کی جائے، نہ اسے اپنی زکاۃ میں شمار کیا جائے، اور نہ یہ توقع رکھی جائے کہ یہ اللہ کے ہاں اس کے صدقے کے طور پر قبول ہوگا۔ یہ دراصل حرام مال سے براءت اور تخلّص ہے۔ البتہ جس فقیر و مسکین کو یہ رقم ملے، اس کے لیے اس کا استعمال حلال ہے، کیونکہ اس کے حق میں یہ مال حرام کمائی نہیں۔

۳۔ مصارف کی تفصیل:

اس رقم کو فقراء و مسکینوں پر، یتیموں و بیواؤں کی کفالت پر، اور عوامی رفاہ کے کاموں (مثلاً راستوں، پانی، علاج وغیرہ کی سہولتوں) پر صرف کیا جائے۔ اپنے یا اپنے اہل و عیال کے ذاتی استعمال میں، اپنے قرض کی ادائیگی میں، یا اپنے واجب الادا اخراجات میں اسے لگانا جائز نہیں، کیونکہ یہ اسی سے نفع اٹھانے کے مترادف ہے جس سے منع کیا گیا ہے۔

۴۔ جو سود پہلے ناواقفیت میں استعمال ہو چکا:

جو شخص حکم سے ناواقفیت کی بنا پر ماضی میں یہ رقم استعمال کر چکا ہو، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فَمَن جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ فَانتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ﴾ (سورۃ البقرہ: ۲۷۵)، یعنی جس کے پاس اس کے رب کی طرف سے نصیحت آ گئی اور وہ باز آ گیا تو جو پہلے ہو چکا وہ اسی کا ہے اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ شیخ عبد اللہ بن جبرین رحمہ اللہ کا فتویٰ ہے کہ ایسے شخص پر لازم ہے کہ وہ اس سود سے توبہ کرے جو بینک نے اسے دیا اور اس نے کھا لیا، لیکن گزشتہ کھائی ہوئی رقم اسے واپس نکال کر دینا لازم نہیں، کیونکہ اللہ نے اسے معاف فرما دیا ہے؛ البتہ اگر آئندہ اسے سود ملے تو اسے ان لوگوں کو دے دے جو صدقے کے مستحق ہیں، خواہ رشتہ دار ہوں یا غیر (فتاویٰ اسلامیہ: ۲/۴۰۶–۴۰۷)۔ اور اصل سرمایے پر زکاۃ حسبِ قواعد الگ سے واجب رہے گی، سودی رقم نہ زکاۃ ہے نہ زکاۃ میں شمار ہوگی۔

مقاصدی تنبیہ: حفظ المال کا تقاضا صرف مال کی بڑھوتری نہیں بلکہ اس کی پاکیزگی ہے، کیونکہ مال کی حلّت عبادت و دعا کی قبولیت سے جڑی ہے۔ سود سے تخلّص اپنے مال، اپنے دین اور اپنی آخرت تینوں کی حفاظت ہے۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔