پراپ فرم (Prop Firm) ٹریڈنگ کا شرعی حکم کیا ہے؟ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ٹریڈر ایک چیلنج/ایویلیوایشن فیس ادا کرتا ہے؛ مقررہ ہدف پورا کرنے پر اسے "فنڈڈ اکاؤنٹ" ملتا ہے جو عموماً مصنوعی (simulated) ہوتا ہے؛ منافع کی صورت میں ایک طے شدہ حصہ ٹریڈر کو ملتا ہے، جبکہ ناکام ہونے والوں کی فیس واپس نہیں ملتی۔
اس سوال کا جواب ماڈل کی حقیقت جاننے پر موقوف ہے، اور اس کی موجودہ مروجہ صورت میں درج ذیل شرعی خرابیاں پائی جاتی ہیں: ٹریڈر ایک ناقابلِ واپسی رقم داؤ پر لگاتا ہے: ہدف پورا ہو تو اسے فیس سے کئی گنا ادائیگی ملتی ہے، اور نہ ہو تو رقم ضائع۔
الجواب وباللہ التوفیق:
اس سوال کا جواب ماڈل کی حقیقت جاننے پر موقوف ہے، اور اس کی موجودہ مروجہ صورت میں درج ذیل شرعی خرابیاں پائی جاتی ہیں:
۱۔ فیس کی حیثیت — قمار کی ساخت:
ٹریڈر ایک ناقابلِ واپسی رقم داؤ پر لگاتا ہے: ہدف پورا ہو تو اسے فیس سے کئی گنا ادائیگی ملتی ہے، اور نہ ہو تو رقم ضائع۔ یہ وہی ساخت ہے جس میں ایک فریق کا فائدہ دوسرے کے نقصان سے مشروط ہوتا ہے — یعنی قمار و میسر کی حقیقت، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ﴾ (سورۃ المائدہ: ۹۰)۔ فرم کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق شرکاء کی بھاری اکثریت چیلنج میں ناکام ہوتی ہے، اور کامیابوں کی ادائیگیاں عملاً انہی ناکام شرکاء کی فیسوں سے پوری ہوتی ہیں۔
۲۔ حقیقی تجارت کی عدم موجودگی:
فنڈڈ اکاؤنٹ عموماً demo/simulated ہوتا ہے: نہ کوئی اصل اثاثہ خریدا بیچا جاتا ہے، نہ ملکیت منتقل ہوتی ہے اور نہ قبضہ (تقابض) پایا جاتا ہے۔ جس "منافع" پر ٹریڈر کو حصہ ملتا ہے وہ کسی حقیقی بیع کا منافع نہیں، بلکہ فرم کی طرف سے دی جانے والی رقم ہے جس کا بڑا ذریعہ دوسرے شرکاء کی ضائع شدہ فیس ہوتی ہے — یہ اکلِ مال بالباطل کے زمرے میں آتا ہے: ﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ﴾ (سورۃ البقرہ: ۱۸۸)۔
۳۔ غررِ فاحش:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غرر والی بیع سے منع فرمایا ہے (صحیح مسلم: ۱۵۱۳)۔ یہاں فیس کے بدلے میں ملنے والی چیز سرے سے مجہول اور ایک غیر یقینی نتیجے سے مشروط ہے؛ شرعی طور پر ایسی فیس کسی معلوم و جائز منفعت کا معاوضہ نہیں بن سکتی۔
۴۔ حرام آلات کی مشق اور گناہ پر معاونت:
ان اکاؤنٹس میں عام طور پر CFD، فیوچرز اور لیوریج پر مبنی ٹریڈنگ ہوتی ہے، جن میں سود، عدمِ قبضہ اور غرر کے مفاسد پائے جاتے ہیں۔ اس ماحول میں مہارت حاصل کرنا، اس کی مشق کرنا اور فرم کو اپنا ٹریڈنگ ڈیٹا فراہم کرنا گناہ کے کام میں معاون بننا ہے: ﴿وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ (سورۃ المائدہ: ۲)۔
۵۔ معاصر اہلِ علم کے فتاویٰ:
انہی وجوہات کی بنا پر دار الافتاء برمنگھم نے مصنوعی (simulated) پراپ فرموں کی ٹریڈنگ کو ناجائز قرار دیا ہے (فتویٰ نمبر ۰۷۹۹۷، ۲۰۲۵ء)، اور ۲۰۲۶ء میں شائع ہونے والے متعدد مفصل فتاویٰ کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ اس ماڈل سے حاصل ہونے والی آمدنی جائز نہیں، کیونکہ فیس کسی شرعاً معتبر منفعت کے بدلے نہیں اور ادائیگی غیر یقینی نتیجے سے جڑی ہے۔
تفصیل: اگر کوئی ادارہ واقعی حقیقی سرمایہ فراہم کرے، شمولیت کی فیس کسی داؤ کی صورت نہ رکھتی ہو، تجارت صرف شرعاً جائز اسپاٹ اثاثوں میں حقیقی ملکیت و قبضے کے ساتھ ہو، اور ٹریڈر کی آمدنی اصل خدمت کی اجرت یا حقیقی شراکت کے نفع کی صورت میں ہو، تو اس مخصوص صورت کا حکم اس کا مکمل معاہدہ دیکھ کر الگ سے دیا جائے گا۔ مروجہ چیلنج ماڈل اس سے بالکل مختلف ہے۔
مقاصدی تنبیہ: حفظِ مال کا تقاضا ہے کہ کمائی حقیقی قدر — اصل تجارت، جائز خدمت یا حقیقی شراکت — کے بدلے میں ہو۔ جو نظام اکثریت کی فیس جمع کر کے اقلیت کو ادائیگی کرتا ہے، وہ دولت کی منصفانہ گردش نہیں بلکہ اس کا استحصال ہے؛ مسلمان کو اپنے مال اور وقت دونوں کو ایسی ساختوں سے بچانا چاہیے۔