بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 095
موضوع: عقیدہ، اصول و تزکیہ
تاریخ: 5 نومبر 2026 — ہجری: 24 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

تعویذ پہننا یا بچوں کو پہنانا کیسا ہے؟ ہمارے ہاں نظرِ بد اور بیماری سے بچاؤ کے لیے بچوں کے گلے میں تعویذ ڈالنا عام ہے۔ اگر تعویذ میں قرآنی آیات لکھی ہوں تو کیا اس کی گنجائش ہے؟ اور نامعلوم الفاظ، نقش و عدد والے تعویذ کا کیا حکم ہے؟

الجواب
مختصر جواب

ام المؤمنین کی خادمہ حضرت زینب، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک (ناجائز) دم، تعویذ اور تولہ (محبت کا تعویذ) شرک ہیں“ (سنن ابی داؤد: ۳۸۸۳؛ حاکم و ابن حبان نے اسے صحیح کہا اور البانی رحمہ اللہ نے بھی صحیح قرار دیا)۔

الجواب وباللہ التوفیق:

۱۔ غیر قرآنی و نامعلوم تعویذ — نص سے شرک و حرام:

ام المؤمنین کی خادمہ حضرت زینب، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک (ناجائز) دم، تعویذ اور تولہ (محبت کا تعویذ) شرک ہیں“ (سنن ابی داؤد: ۳۸۸۳؛ حاکم و ابن حبان نے اسے صحیح کہا اور البانی رحمہ اللہ نے بھی صحیح قرار دیا)۔ اور حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ”جس نے تعویذ لٹکایا، اس نے شرک کیا“ (مسند احمد: ۱۷۴۲۲؛ صحیح عند المحققین)، اور ایک روایت میں ہے: ”جس نے تعویذ لٹکایا، اللہ اس کی مراد پوری نہ کرے، اور جس نے سیپی (وَدعہ) لٹکائی، اللہ اسے چین نہ دے“ (مسند احمد: ۱۷۴۰۴؛ حسن)۔ اللجنۃ الدائمہ کے فتویٰ (فتاویٰ اللجنہ: ۱/۲۱۲) میں تصریح ہے کہ غیر قرآنی تعویذ کے حرام ہونے پر اہلِ علم کا اتفاق ہے؛ اور جس تعویذ کے الفاظ سمجھ نہ آئیں، یا اس میں نقش، عدد، ستاروں کے نشانات یا غیر اللہ سے مدد کی بات ہو، وہ اسی شرک کی قبیل سے ہے جس سے یہ احادیث روکتی ہیں — ایسا تعویذ پہننا و پہنانا دونوں حرام، اور اسے اتار کر ضائع کرنا لازم ہے۔

۲۔ قرآنی تعویذ میں اہلِ علم کا اختلاف اور راجح قول:

جو تعویذ صرف قرآنی آیات یا مسنون دعاؤں پر مشتمل ہو، اس میں سلف کے دو قول ہیں: حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما وغیرہ سے اس کی اجازت منقول ہے، جبکہ حضرت ابن مسعود، ابن عباس، حذیفہ اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہم وغیرہ اس سے منع کرتے تھے۔ اللجنۃ الدائمہ (فتاویٰ اللجنہ: ۱/۲۱۲) نے فرمایا کہ علماء کا اس میں اختلاف ہے، البتہ ناجائز ہونے کا قول ہی زیادہ قوی و راجح ہے، تین وجوہ سے: (۱) تعویذ سے ممانعت کی احادیث عام ہیں، قرآنی و غیر قرآنی میں فرق نہیں کرتیں؛ (۲) شرک کی طرف جانے والے راستے بند کرنا شریعت کا مقصد ہے — آج کا قرآنی تعویذ کل نامعلوم نقشوں تک پہنچنے کا ذریعہ بنتا ہے؛ (۳) لٹکائے ہوئے آیات والے کاغذ کے ساتھ بیت الخلا جانا، سوتے ہوئے اس کی بے حرمتی ہونا وغیرہ آیات کی تعظیم کے خلاف ہے۔ اس دار الافتاء کے نزدیک بھی یہی راجح ہے کہ ہر قسم کے تعویذ سے اجتناب کیا جائے۔ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے منقول دعا (”أعوذ بكلمات الله التامة من غضبه وشر عباده...“) بچوں کو سکھا کر پڑھائی جاتی تھی؛ اس دعا کے لکھ کر بچوں کے گلے میں لٹکانے والی زیادتی کو امام البانی رحمہ اللہ نے صحیح ثابت نہیں مانا (دیکھیے: IslamQA فتویٰ نمبر ۱۹۴۳۰۲؛ اصل روایت: سنن ابی داؤد: ۳۸۹۳، جامع الترمذی: ۳۵۲۸)۔

۳۔ بچوں کو پہنانے کا حکم:

حکم بڑوں و بچوں کے لیے ایک ہے؛ بچہ نابالغ ہونے سے تعویذ شرعاً جائز نہیں ہو جاتا، بلکہ والدین اس کے ذمہ دار ہیں۔ بچے کو تعویذ کے بجائے وہ دیا جائے جو سنت سے ثابت ہے: صبح و شام کی مسنون دعائیں، معوذتین اور آیۃ الکرسی پڑھ کر دم کرنا، اور خود بچے کو عمر کے مطابق یہ کلمات سکھانا۔ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے، آپ کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: ”اپنے دم مجھے سناؤ؛ دم میں کوئی حرج نہیں جب تک اس میں شرک نہ ہو“ (صحیح مسلم: ۲۲۰۰)۔ اہلِ علم نے جائز دم کی تین شرطیں بیان کی ہیں (حافظ ابن حجر، فتح الباری: ۱۰/۱۹۵): اللہ کے کلام، ناموں یا صفات کے ساتھ ہو؛ سمجھ آنے والی زبان میں ہو؛ اور یہ عقیدہ ہو کہ اثر اللہ ہی کی طرف سے ہے، دم بذاتِ خود مؤثر نہیں۔ جو حفاظت ان شرائط کے ساتھ میسر ہے، اس کے بعد تعویذ کی کوئی حاجت نہیں رہتی۔

۴۔ خلاصہ:

نامعلوم و غیر قرآنی تعویذ نصوص کی رو سے شرک و حرام ہے؛ قرآنی تعویذ میں اختلاف معروف ہے مگر راجح قول اس کی بھی ممانعت کا ہے، اور اس دار الافتاء کا فتویٰ اسی پر ہے۔ جس کے گلے یا بازو پر تعویذ ہو، وہ اسے اتار کر اللہ پر توکل کرے اور مسنون دم و اذکار کو اپنا معمول بنائے — یہی وہ حفاظت ہے جو سنت سے ثابت ہے۔

مقاصدی تنبیہ: تعویذ کی اصل خرابی دل کا اللہ کے سوا کسی چیز سے لگ جانا ہے۔ شریعت نے حفاظت کے دروازے بند نہیں کیے، بلکہ انہیں اللہ کے کلام اور مسنون دعاؤں کی راہ سے کھولا ہے؛ مومن کا دل اپنے رب سے جُڑا رہے تو یہی سب سے بڑی حفاظت ہے۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔