بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 094
موضوع: معاملات، تجارت و ملازمت
تاریخ: 5 نومبر 2026 — ہجری: 24 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

اعلیٰ تعلیم کے لیے سودی اسٹوڈنٹ لون لینا کیسا ہے؟ تعلیم آج کے دور کی بنیادی ضرورت ہے، کیا اس پر ضرورت کا حکم لگے گا؟ جو طالب علم لون لے چکا ہے، اس کی ڈگری اور اس سے حاصل ہونے والی ملازمت و آمدنی کا کیا حکم ہے؟ اور اگر والدین کے دباؤ پر لون لینا پڑے تو کیا حکم ہے؟

الجواب
مختصر جواب

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۝ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾ (سورۃ البقرہ: ۲۷۸–۲۷۹)۔

الجواب وباللہ التوفیق:

۱۔ سودی قرض کی حرمت میں تعلیم کوئی استثنا نہیں:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۝ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾ (سورۃ البقرہ: ۲۷۸–۲۷۹)۔ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اس کے لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا: ”وہ سب (گناہ میں) برابر ہیں“ (صحیح مسلم: ۱۵۹۸)۔ IslamQA کے فتویٰ (نمبر ۱۱۰۱۵۹) میں صراحت ہے کہ سودی قرض لینا حرام ہے — چاہے گھر خریدنے کے لیے ہو یا تعلیم کی فیس کے لیے یا کسی اور مقصد کے لیے؛ مقصد اچھا ہونے سے حرام ذریعہ حلال نہیں ہو جاتا۔ اسی طرح دیکھ بھال (Maintenance) کا لون بھی سود کی بناء پر ناجائز ہے، خواہ سود کی شرح کتنی ہی کم ہو، بلکہ ایک درہم کا سود بھی حرام ہے (IslamQA فتویٰ نمبر ۲۴۹۳۶۹)۔

۲۔ تعلیم "ضرورت" کے شرعی معنی میں نہیں آتی:

شرعاً ضرورت وہ حالت ہے جس میں جان یا کسی عضو کے تلف ہونے کا خطرہ ہو — یہی امام زرکشی رحمہ اللہ کی بیان کردہ تحدید ہے (المنثور فی القواعد: ۲/۳۱۹؛ منقول در IslamQA ۱۱۰۱۵۹)۔ ڈگری کی خواہش اور اچھی ملازمت کی امید حاجت (Need) ضرور ہے، مگر اس درجے کی ضرورت نہیں جو سود جیسے کبیرہ گناہ کو مباح کر دے۔ دنیا میں تعلیم کے حلال راستے موجود ہیں: وظائف و اسکالرشپس، قرضِ حسنہ، جز وقتی محنت مزدوری، کم فیس والے ادارے، اور تعلیم میں ایک دو سال کی تاخیر بھی سود میں پڑنے سے کہیں بہتر ہے۔ جس راستے کی ابتدا اللہ و رسول سے جنگ کے اعلان سے ہو، اس میں برکت کی امید عبث ہے۔

۳۔ جو لون لے چکا، اس کا حکم:

اسلام ویب کے فتویٰ (نمبر ۴۵۸۱۰۷) کی روشنی میں: اگر معاہدہ ختم کرنا ممکن ہو تو فوراً نکلے۔ اگر رقم لے چکا ہے تو اب اس پر تین باتیں لازم ہیں: (۱) سچی توبہ — گناہ پر ندامت اور آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم؛ (۲) جتنی جلدی ممکن ہو اصل رقم واپس کر کے اس بوجھ سے نکلنا، خصوصاً جہاں قبل از وقت ادائیگی سے سود کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہو؛ (۳) یہ ذہن میں رہے کہ نیک نیتی اور ادائیگی کا ارادہ حرام کو حلال نہیں بناتا، لہٰذا اس معاملے کو معمول نہ سمجھے۔ رہی ڈگری اور ملازمت: گناہ سود کے معاہدے کا ہے، حاصل شدہ علم اور حلال محنت کا نہیں؛ اس لیے حلال کام کی ملازمت سے ملنے والی تنخواہ بذاتِ خود حرام نہیں — البتہ توبہ اور جلد ادائیگی بہرحال لازم ہے۔

۴۔ والدین کے دباؤ کا حکم:

والدین کی اطاعت اور حسنِ سلوک شرعاً عظیم فریضہ ہے، مگر گناہ میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے: ”اللہ کی نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں؛ اطاعت صرف نیکی کے کام میں ہے“ (صحیح البخاری: ۷۲۵۷؛ صحیح مسلم: ۱۸۴۰)۔ پس طالب علم نرمی، ادب اور دلیل کے ساتھ والدین کو سمجھائے، حلال متبادل ان کے سامنے رکھے، اور ان کی خدمت و دعا میں کوئی کمی نہ کرے — مگر سودی معاہدے پر دستخط کا گناہ والدین کی خوشنودی کے لیے بھی نہیں کیا جائے گا۔ والدین کو بھی چاہیے کہ اولاد کو اس آزمائش میں نہ ڈالیں جس کا بوجھ قیامت میں سب کو اٹھانا پڑے۔

۵۔ خلاصہ و عملی رہنمائی:

جو ابھی لون لینے کا سوچ رہا ہے، وہ اس ارادے سے باز آئے اور حلال متبادل تلاش کرے — اسکالرشپ، قرضِ حسنہ، داخلے کی ایک سال تاخیر یا سستا ادارہ۔ جو لے چکا ہے، وہ مایوس نہ ہو: توبہ کا دروازہ کھلا ہے، اور پہلا قدم جلد از جلد اصل رقم کی ادائیگی کا نظم بنانا ہے۔ دین و دنیا کی کامیابی اسی تعلیم میں ہے جس کی بنیاد حلال پر ہو۔

مقاصدی تنبیہ: تعلیم دین کے مقاصد میں سے ہے، مگر مقصد کی عظمت وسیلے کی حرمت کو ختم نہیں کرتی۔ سود فرد کی زندگی سے برکت اور معاشرے سے عدل کو ختم کرتا ہے؛ اس لیے شریعت نے اس باب میں کوئی نرمی نہیں رکھی، تاکہ علم کا راستہ بھی پاک رہے اور کمائی بھی۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔