بچوں کی سالگرہ منانا یا سالگرہ کی تقریب میں شریک ہونا کیسا ہے؟ غیر مسلم دوستوں و ساتھیوں کو کرسمس کی مبارکباد دینا، ان کے تہواروں کی دعوت و تحائف کا کیا حکم ہے؟ اور مدرز ڈے اور ویلنٹائنز ڈے منانا کیسا ہے؟ ہر صورت کی الگ الگ وضاحت مطلوب ہے۔
رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو اہلِ مدینہ کے دو دن تھے جن میں وہ کھیلتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تمہیں ان دونوں کے عوض ان سے بہتر دو دن عطا فرما دیے ہیں: عید الاضحیٰ اور عید الفطر“ (سنن ابی داؤد: ۱۱۳۴؛ صحیح عند البانی رحمہ اللہ)۔
الجواب وباللہ التوفیق:
۱۔ بنیادی اصول — شرعی تہوار صرف دو ہیں:
رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو اہلِ مدینہ کے دو دن تھے جن میں وہ کھیلتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تمہیں ان دونوں کے عوض ان سے بہتر دو دن عطا فرما دیے ہیں: عید الاضحیٰ اور عید الفطر“ (سنن ابی داؤد: ۱۱۳۴؛ صحیح عند البانی رحمہ اللہ)۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے عید کے دن فرمایا: ”ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے“ (صحیح بخاری: ۹۵۲؛ صحیح مسلم: ۸۹۲)۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایام کو بطورِ تہوار مقرر کرنا شریعت کا حق ہے، اور غیر مسلموں کے ساتھ ان کے ایام و رسوم میں مشابہت ممنوع ہے: ”جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے“ (سنن ابی داؤد: ۴۰۳۱؛ حسن صحیح عند البانی رحمہ اللہ)۔ اسی اصول پر درج ذیل تمام صورتوں کا فیصلہ ہوتا ہے۔
۲۔ سالگرہ منانا اور اس میں شرکت:
سالگرہ منانا — کیک، موم بتیاں، مقررہ تاریخ پر سالانہ تقریب — شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں؛ یہ غیر مسلموں سے آئی ہوئی رسم ہے جسے بطورِ ”عید“ اپنایا جاتا ہے۔ اللجنۃ الدائمہ سے بچوں کی سالگرہ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: ”سالگرہ منانا یا سالگرہ کی وجہ سے روزہ رکھنا، سب بدعت ہے جس کی کوئی بنیاد نہیں؛ مسلمان کو چاہیے کہ اللہ کی فرض کردہ اور نفل عبادات کے ذریعے اس کا تقرب حاصل کرے اور ہر حال میں اس کا شکر ادا کرے“ (فتاویٰ اللجنۃ الدائمہ: ۲/۲۶۰–۲۶۱)۔ شیخ ابن باز رحمہ اللہ کا فتویٰ بھی یہی ہے کہ سالگرہ منانے کی شریعتِ مطہرہ میں کوئی اصل نہیں۔ چونکہ یہ تقریب خود ناجائز بنیاد پر ہے، اس کی دعوت قبول کر کے شرکت کرنا اور اسی مناسبت سے تحفہ دینا بھی اسی میں شمولیت شمار ہوتا ہے، لہٰذا اس سے بھی اجتناب کیا جائے۔ بعض علماء نے سالگرہ کو خالص دنیوی رسم قرار دے کر تکنیکی بدعت تو نہیں کہا، مگر مشابہتِ کفار کی وجہ سے ناجائز ہی کہا ہے — چنانچہ اجتناب پر حاصل ایک ہے۔ بچے کو خوش کرنا اور اللہ کا شکر ادا کرنا البتہ مشروع ہے، مگر اس کے لیے تاریخ کی سالانہ تخصیص شرط نہیں؛ کسی بھی دن تحفہ، دعا اور شکر یہ مقصد پورا کر دیتا ہے۔
۳۔ کرسمس اور غیر مسلم مذہبی تہواروں کی مبارکباد و شرکت:
غیر مسلموں کو ان کے مذہبی تہواروں (کرسمس، ایسٹر وغیرہ) کی مبارکباد دینا جائز نہیں۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ نے ”احکام اہل الذمہ“ میں لکھا ہے کہ کفار کو ان کے خاص مذہبی شعائر پر مبارکباد دینا بالاجماع حرام ہے، کیونکہ اس میں ان کے باطل عقائد و اعمال کی تائید پائی جاتی ہے؛ اور شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے یہی بات اپنے فتاویٰ میں نقل فرما کر اسی پر فتویٰ دیا ہے۔ ان کے تہواروں کی دعوتوں میں شرکت اس سے آگے کی بات ہے، وہ بھی جائز نہیں۔ اگر وہ ہمیں مبارکباد دیں تو ان کے مذہبی الفاظ میں جواب نہ دیا جائے؛ ادب و مروت کی حدود میں عام حسنِ سلوک الگ چیز ہے۔ اسی طرح ان دنوں میں ان کے تہوار کی رسموں جیسی محفلیں خود سجانا، درخت و سجاوٹ کی ان کی مخصوص صورتیں اپنانا بھی اسی مشابہت میں داخل ہے۔
۴۔ مدرز ڈے اور ویلنٹائنز ڈے:
مدرز ڈے بھی اسی قسم کی درآمد شدہ رسم ہے؛ اللجنۃ الدائمہ اور شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے اسے بھی غیر مسلموں کی مشابہت والے ایام میں شمار کیا ہے۔ ماں کی خدمت، اس کی دعا لینا اور اسے تحفہ دینا ہر دن کا فرض و فضیلت ہے؛ اسے کسی غیر شرعی مقررہ دن سے باندھنا درست نہیں۔ ویلنٹائنز ڈے کی ممانعت دو وجہ سے ہے: ایک تو یہ غیر مسلموں کا تہوار ہے، دوسرے اس کا مواد ہی نامحرم تعلقات کی ترغیب ہے، اس لیے اسے منانا، اس کے تحائف اور اس کی مبارکباد سب ناجائز ہیں۔
۵۔ حسنِ سلوک کی حد کیا ہے؟
اس ممانعت کا یہ مطلب نہیں کہ غیر مسلم پڑوسیوں اور ساتھیوں سے اخلاق و تعلق ختم کر دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَّا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ﴾ (سورۃ الممتحنہ: ۸)۔ عام زندگی میں ان کے تحائف قبول کرنا اور عدل و احسان برقرار ہے؛ ممانعت صرف ان کے مذہبی تہوار کی تائید، مبارکباد اور رسموں کی مشابہت میں ہے۔ جہاں دفتر یا ماحول کی مجبوری ہو، وہاں نرمی اور وضاحت سے معذرت کر لی جائے — عقیدے کی حد پر سمجھوتہ نہیں، لہجے میں سختی بھی نہیں۔
مقاصدی تنبیہ: شریعت نے مسلمان کو ممتاز شناخت عطا کی ہے؛ تہوار کسی قوم کے شعائر ہوتے ہیں۔ اپنی دونوں عیدوں کو زندہ کرنا اور غیر مسلم شعائر سے امتیاز برقرار رکھنا اسی شناخت کی حفاظت ہے، جبکہ عام انسانی اخلاق و برتاؤ میں اسلام نے کبھی کسی سے انصاف و احسان روکنے کی تعلیم نہیں دی۔