بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 099
موضوع: متفرق / معلوماتی
تاریخ: 5 نومبر 2026 — ہجری: 24 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

جسم پر مستقل ٹیٹو بنوانا کیسا ہے؟ جو شخص بنوا چکا ہو، کیا اس پر اسے مٹانا لازم ہے؟ اگر لیزر وغیرہ سے مٹانے کی استطاعت نہ ہو یا ضرر کا اندیشہ ہو تو کیا حکم ہے؟ اور ٹیٹو کے ساتھ وضو اور نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب
مختصر جواب

وشم یہ ہے کہ سوئی وغیرہ سے جلد میں سوراخ کر کے اس میں رنگ (سرمہ، نیل وغیرہ) بھر دیا جائے، جس سے جسم پر مستقل نقش بن جاتا ہے۔ یہ عمل حرام ہے اور اس کے کرنے اور کروانے والے پر لعنت آئی ہے۔

الجواب وباللہ التوفیق:

۱۔ ٹیٹو (وشم) کا حکم:

وشم یہ ہے کہ سوئی وغیرہ سے جلد میں سوراخ کر کے اس میں رنگ (سرمہ، نیل وغیرہ) بھر دیا جائے، جس سے جسم پر مستقل نقش بن جاتا ہے۔ یہ عمل حرام ہے اور اس کے کرنے اور کروانے والے پر لعنت آئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ نے لعنت فرمائی ہے: ”ٹیٹو بنانے والیوں اور بنوانے والیوں پر... جو حسن کے لیے اللہ کی خلقت کو بدلتی ہیں“ (صحیح بخاری: ۵۹۳۱؛ صحیح مسلم: ۲۱۲۵)۔ امام ابن قدامہ رحمہ اللہ نے ”المغنی“ (۱/۹۴) میں اس کی حرمت پر علماء کا اجماع نقل کیا ہے۔ یہ اللہ کی خلقت کی تبدیلی ہے جسے قرآن نے شیطان کے عزم کے طور پر بیان کیا ہے: ﴿وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ﴾ (سورۃ النساء: ۱۱۹)۔ لہٰذا کسی بھی شکل، تحریر یا ڈیزائن کا مستقل ٹیٹو بنوانا جائز نہیں، چاہے اس پر کوئی مذہبی لفظ ہی کیوں نہ لکھا جائے۔

۲۔ جو بنوا چکا، اس پر کیا لازم ہے؟

اولاً سچی توبہ لازم ہے: گناہ پر ندامت، آئندہ کا پختہ عزم، اور اللہ سے استغفار۔ رہا مٹانا، تو تفصیل یہ ہے: اگر ٹیٹو بغیر کسی بڑے ضرر اور ناقابلِ برداشت مشقت کے مٹانا ممکن ہو (مثلاً جدید لیزر علاج میسر اور استطاعت ہو) تو اسے مٹانے کی کوشش کی جائے؛ لیکن اگر مٹانے سے بدنما داغ پڑنے یا جسم کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، یا اس کی مالی استطاعت ہی نہ ہو، تو توبہ کافی ہے اور اس حالت میں اس پر کوئی گناہ نہیں۔ امام نووی رحمہ اللہ نے ”المجموع“ میں یہی تفصیل نقل فرمائی ہے کہ جہاں علاج سے ازالہ ممکن ہو وہاں کوشش ہو، اور جہاں ازالہ بغیر ضرر کے ممکن نہ ہو وہاں توبہ کے بعد کوئی مؤاخذہ نہیں۔ اگر ٹیٹو پر ذی روح کی تصویر یا غیر شرعی عبارت ہو تو اسے مٹانے یا کم از کم چھپانے کی کوشش بہر صورت مقدم رکھنی چاہیے۔

۳۔ ٹیٹو کے ساتھ وضو اور نماز:

ٹیٹو کا رنگ جلد کے نیچے ہوتا ہے، جلد کی سطح پر کوئی ایسی تہہ نہیں ہوتی جو پانی کو روکے؛ اس لیے ٹیٹو والے مقام کو عام دھونے سے وضو اور غسل درست ہو جاتا ہے، اور اس حالت میں پڑھی گئی نمازیں صحیح ہیں — نہ ان کی قضا لازم ہے، نہ نماز کے لیے ٹیٹو مٹانا شرط ہے، جیسا کہ مفتیانِ کرام نے اس مسئلے میں صراحت کی ہے۔ البتہ اگر جسم پر اوپر سے کوئی ایسی چپکنے والی چیز (اسٹیکر، موٹی رنگت کی تہہ وغیرہ) ہو جو پانی جلد تک پہنچنے سے روکے، تو وضو سے پہلے اسے اتارنا ضروری ہوگا — یہ حکم تہہ کا ہے، ٹیٹو کے اندرونی رنگ کا نہیں۔

۴۔ عارضی نقش اور مہندی سے فرق:

خواتین کے لیے مہندی لگانا معروف جائز زینت ہے، کیونکہ وہ جلد کے اندر مستقل تبدیلی نہیں بلکہ عارضی رنگ ہے۔ عارضی ٹیٹو نما اسٹیکر وغیرہ میں اگرچہ وشم کی حقیقت (سوئی و رنگ کا جلد میں اترنا) نہیں پائی جاتی، تاہم انہیں فیشن و تشبہ کے طور پر مستقل ٹیٹو کی صورت و مشابہت کے لیے استعمال کرنا بھی مناسب نہیں، اور نماز و وضو سے پہلے پانی روکنے والی ہر تہہ کا اتارنا بہر حال لازم رہے گا۔

مقاصدی تنبیہ: انسانی جسم اللہ کی امانت ہے اور اس کی خلقت میں بے ضرورت تبدیلی اس امانت کے خلاف ہے۔ جس سے یہ غلطی ہو چکی، اس کے لیے مایوسی کا کوئی راستہ نہیں: توبہ کا دروازہ کھلا ہے، اور شریعت نے اسے اس قابلِ ازالہ حد تک ہی مکلف رکھا ہے جو اس کے بس میں ہے — دین آسانی ہے، خود کو ہلاکت میں ڈالنا نہیں۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔