بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 001
موضوع: معاملات، تجارت و ملازمت
تاریخ: 15 نومبر 2025 — ہجری: 24 جمادی الاولیٰ 1447ھ
سوال

Assalamualaikum wa rahmatullilahi wa barakatuh mam,

As we know it is permissible to eat Haram meat when in dire need if no food is available and hunger could kill you, so likewise why it's not permissible to give interest when there's no money and if one has to take money for emergencies like if someone is in hospital?

الجواب
مختصر جواب

علماء (جیسے کہ شیخ بن باز اور شیخ ابن عثیمین رحمہما اللہ) کے نزدیک مردار کھانے اور سودی قرض لینے کے درمیان فرق درج ذیل بنیادوں پر ہے: گناہ کی نوعیت: مردار کھانا ایک حرام فعل ہے، لیکن ربا (سود) ان سات ہلاک کر دینے والے گناہوں میں سے ہے جن کے خلاف اللہ اور اس کے رسول نے اعلانِ جنگ کیا ہے۔

Walaikum Assalam wa rahmatullahi wa barakatuh,

This is a profound question that touches upon the delicate balance between Necessity (Darurah) and the Prohibitions (Muharramat) in Islamic Jurisprudence (Fiqh).

The scholars (following the understanding of the Pious Predecessors) differentiate between eating haram meat and taking an interest-based (Riba) loan based on several principles:

The Severity of the Sin: While eating swine or unslaughtered meat is haram, Riba is considered one of the seven "Destructive Sins." The Quran declares a state of war from Allah and His Messenger against those who deal in interest.

The Nature of Necessity: To eat haram meat, the danger must be certain death. In the case of medical emergencies, scholars argue that there are often alternatives (charities, public hospitals, borrowing without interest, or selling assets) that haven't been exhausted.

Individual vs. Social Harm: Eating haram meat only affects the individual. However, Riba is an oppressive system that destroys the economy and exploits the poor. Engaging in it, even in need, strengthens a system that Islam came to dismantle.

The Legal Maxim: "Necessity permits the prohibited" is restricted by another maxim: "Necessity is measured by its extent." Most scholars (like Ibn Baz and Al-Uthaymeen) maintained that a medical bill rarely justifies entering into a contract that invokes the curse of Allah, as long as any other humanly possible means exists.

قرآن و سنت کی روشنی میں جواب

علماء (جیسے کہ شیخ بن باز اور شیخ ابن عثیمین رحمہما اللہ) کے نزدیک مردار کھانے اور سودی قرض لینے کے درمیان فرق درج ذیل بنیادوں پر ہے:

گناہ کی نوعیت: مردار کھانا ایک حرام فعل ہے، لیکن ربا (سود) ان سات ہلاک کر دینے والے گناہوں میں سے ہے جن کے خلاف اللہ اور اس کے رسول نے اعلانِ جنگ کیا ہے۔

اضطرار (مجبوری) کی حد: مردار کھانے کی اجازت اس وقت ہوتی ہے جب موت یقینی ہو اور کوئی دوسری چیز موجود نہ ہو۔ ہسپتال یا ہنگامی صورتحال میں اکثر متبادل راستے موجود ہوتے ہیں (جیسے صدقات، قرضِ حسنہ، جائیداد کی فروخت، یا سرکاری علاج)۔ جب تک تمام حلال راستے مکمل ختم نہ ہو جائیں، سود کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انفرادی بمقابلہ اجتماعی نقصان: حرام گوشت کھانے کا نقصان صرف ایک انسان تک محدود ہے، جبکہ سود ایک ایسا ظالمانہ نظام ہے جو پورے معاشرے کو تباہ کرتا ہے۔ اس میں ملوث ہونا اس باطل نظام کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔

فقہی قاعدہ: یہ قاعدہ کہ "ضرورت حرام کو مباح کر دیتی ہے" اپنی جگہ درست ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ شرط بھی ہے کہ "ضرورت کو اس کی اصل قدر کے مطابق ناپا جائے گا"۔ اہلِ علم کے نزدیک مالی تنگی یا علاج کے لیے سودی قرض لینا "اضطرارِ شرعی" (ایسی مجبوری جس میں کوئی راستہ نہ ہو) کے معیار پر پورا نہیں اترتا جب تک کہ زندگی بچانے کا واقعی کوئی دوسرا راستہ باقی نہ رہے۔

خلاصہ: سود کی حرمت اتنی سخت ہے کہ اسے محض مالی تنگی یا ہسپتال کے اخراجات کے لیے حلال نہیں کیا جا سکتا، الا یہ کہ واقعی موت سامنے کھڑی ہو اور کائنات کا کوئی دوسرا راستہ (مانگنے یا بیچنے کا) باقی نہ رہا ہو۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔