بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 006
موضوع: زکاۃ، قربانی و عقیقہ
تاریخ: 15 دسمبر 2025 — ہجری: 24 جمادی الآخرہ 1447ھ
سوال

Sir Aqeeqey k barey mein poochna tha

Ye sunnat hy, wajib hy ya mustahab hy?

Agar bachey badey ho jaen jese 7,8 saal k to bhi ker saktey hein?

Or is ka criteria kia hy maali tor pe jese qurbani ka hota hy wese iska kia hy

Larrkey k liye janwar ka kia hisaab hota hy or larrki k liye kia

Gaaye or bakrey ka

Gaaye mein agar hissa dalen jese qurbani k liye khareed k us k hissey kiye jatey hein wese 1 hissa qurbani or baki hissey aqeeqey mein shamil ker sakty hn?

Meri sister k 3 bachey hein to wo un ko aqeeqa krna chahti hein

badi betii 7 saal ki hy or baki 2 chotey betey hein

Maali tor per bhi wo normal hi hein kisi saal qurbani kertey hein kisi saal nahi krtey

Or fiqa e hanfi ka bhi bta dijiye ga us k mutabiq kia hukam hy

یہ سوالات ہیں ایک کولیگ نوروز کے مجھ سے

الجواب
مختصر جواب

نوروز صاحب کے عقیقے سے متعلق تمام سوالات کے محدثین اور کتاب و سنت کے دلائل پر مبنی جوابات درج ذیل ہیں، اور آخر میں فقہ حنفی کا موقف بھی الگ سے بیان کر دیا گیا ہے۔

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

نوروز صاحب کے عقیقے سے متعلق تمام سوالات کے محدثین اور کتاب و سنت کے دلائل پر مبنی جوابات درج ذیل ہیں، اور آخر میں فقہ حنفی کا موقف بھی الگ سے بیان کر دیا گیا ہے۔

کتاب و سنت کے دلائل کی روشنی میں جوابات

1۔ عقیقے کی شرعی حیثیت (سنت، واجب یا مستحب؟)

جمہور علمائے حدیث کے نزدیک عقیقہ کرنا سنتِ مؤکدہ (تاکیدی سنت) ہے، یہ واجب نہیں ہے۔

دلیل: نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: "ہر بچہ اپنے عقیقے کے بدل گروی ہوتا ہے، ساتویں دن اس کی طرف سے جانور ذبح کیا جائے، اس کا نام رکھا جائے اور اس کا سر منڈوایا جائے۔" (سنن ترمذی: 1522، امام ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا)۔

2۔ بڑے بچوں (7، 8 سال) کا عقیقہ کرنا

اگر بچہ بڑا ہو جائے اور بچپن میں مالی تنگی کی وجہ سے عقیقہ نہ ہو سکا ہو، تو بڑے ہونے کے بعد بھی عقیقہ کرنا بالکل جائز اور درست ہے۔

دلیل: شریعت میں عقیقے کا اصل وقت ساتواں دن ہے، لیکن اگر اس وقت گنجائش نہ ہو تو بعد میں جب بھی استطاعت ہو، عقیقہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ عقیقہ ایک شکرانے کی قربانی ہے جو فوت نہیں ہوتی۔ ائمہ حدیث کے نزدیک اگر والدین نہ کر سکیں تو انسان بڑا ہو کر اپنا عقیقہ خود بھی کر سکتا ہے۔

3۔ عقیقے کا مالی معیار (criteria)

عقیقے کے لیے قربانی یا زکوٰۃ کی طرح کا کوئی خاص "نصاب" مقرر نہیں ہے۔

اس کا معیار صرف "مالی استطاعت" ہے۔ اگر کسی شخص کے پاس اتنی رقم موجود ہو کہ وہ اپنی بنیادی ضرورتیں متاثر کیے بغیر جانور خرید سکتا ہے، تو اسے عقیقہ کر لینا چاہیے (یہ سنت ہے)۔ اگر نقد رقم نہ ہو تو عقیقے کے لیے قرض لینا یا اپنے اثاثے بیچنا ضروری نہیں ہے۔

4۔ لڑکے اور لڑکی کے لیے جانور کا حساب

سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق لڑکے اور لڑکی کے جانوروں میں فرق ہے:

لڑکے کے لیے: دو بکریاں یا دو دنبے (یا گائے میں دو حصے)۔

لڑکی کے لیے: ایک بکری یا ایک دنبہ (یا گائے میں ایک حصہ)۔

دلیل: رسول اللہ ﷺ کا واضح فرمان ہے: "لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ایک جیسی اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔" (سنن نسائی: 4212، صحیح)۔

5۔ گائے میں قربانی اور عقیقے کے حصے جمع کرنا

جی ہاں، ایک ہی گائے یا اونٹ میں قربانی اور عقیقے کے حصے شامل کرنا بالکل جائز ہے۔

چونکہ گائے میں سات حصے ہوتے ہیں، اس لیے اگر کوئی شخص گائے خریدتا ہے یا کسی گائے میں حصے لیتا ہے، تو وہ مثلاً ایک حصہ اپنی واجب/سنت قربانی کا اور باقی حصے بچوں کے عقیقے کے رکھ سکتا ہے۔ دونوں کا مقصد اللہ کی رضا کے لیے خون بہانا ہے، اس لیے یہ جائز ہے۔

6۔ نوروز صاحب کی سسٹر کے بچوں کا معاملہ (خصوصی مشورہ)

سسٹر کے تین بچے ہیں (7 سال کی بیٹی اور دو چھوٹے بیٹے)۔ سنت کے مطابق ان کا کل خرچ 5 بکریاں (یا گائے میں 5 حصے) بنتا ہے (بیٹی کا 1، اور دونوں بیٹوں کے 2+2=4)۔

چونکہ ان کے مالی حالات نارمل ہیں (کبھی قربانی کرتے ہیں کبھی نہیں)، اس لیے ان پر کوئی بوجھ نہیں ہے۔ وہ ایک ساتھ سب کا عقیقہ کرنے کے مکلف نہیں ہیں۔

وہ اس سال گائے میں ایک یا دو حصے ڈال کر ایک بیٹے کا کر لیں، اگلے سال دوسرے کا، اور پھر بیٹی کا کر لیں۔ شریعت میں آسانی ہے، جیسے جیسے مال میں وسعت ہو، وہ باری باری عقیقہ کر سکتی ہیں۔

فقہ حنفی کے مطابق موقف (Hanafi Fiqh)

فقہ حنفی میں عقیقے کے احکام جمہور سے تھوڑے مختلف ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

شرعی حیثیت: فقہ حنفی کے نزدیک عقیقہ سنتِ مؤکدہ نہیں ہے، بلکہ یہ "مباح" یا "مستحب" (تطوع یعنی نفل عبادت) ہے۔ احناف کے نزدیک جب عید الاضحیٰ کی قربانی کا حکم آیا تو اس نے پچھلی تمام قربانیوں (بشمول عقیقہ) کے وجوب یا سنتِ مؤکدہ ہونے کے حکم کو منسوخ کر دیا۔ اب یہ ایک نفل اور مستحب عمل ہے، کوئی کرے تو ثواب ہے نہ کرے تو کوئی گناہ نہیں ہے۔

بڑے بچوں کا عقیقہ: احناف کے نزدیک بھی اگر ساتویں دن عقیقہ نہ ہو سکے، تو بعد میں کسی بھی عمر میں (بلوغت کے بعد بھی) عقیقہ کرنا جائز اور مباح ہے۔

مالی معیار: چونکہ یہ مستحب/نفل ہے، اس لیے اس کا کوئی نصاب نہیں ہے۔ صاحبِ مال اپنی خوشی سے جب چاہے کر سکتا ہے۔

لڑکے اور لڑکی کا حساب: فقہ حنفی میں لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے ایک ایک جانور (بکری) بھی کافی ہے۔ اگر کوئی لڑکے کے لیے دو کرنا چاہے تو بہتر ہے، لیکن لڑکی کی طرح لڑکے کے لیے بھی ایک ہی بکری ذبح کر دی جائے تو عقیقہ ادا ہو جاتا ہے۔

گائے میں حصے ملانا: فقہ حنفی میں یہ بات بالکل جائز ہے کہ ایک گائے کے سات حصوں میں قربانی اور عقیقے کے حصے اکٹھے کر لیے جائیں۔ شرط یہ ہے کہ کسی بھی حصے دار کی نیت صرف گوشت کھانے کی نہ ہو، بلکہ سب کی نیت اللہ کا تقرب (قربانی/عقیقہ) ہو۔

خلاصہ برائے نوروز صاحب: ان کی سسٹر پر عقیقہ ہرگز فرض یا لازم نہیں ہے۔ وہ اپنی مالی گنجائش کے مطابق، جب آسانی ہو، ایک ایک جانور کر کے یا گائے میں حصے ڈال کر بچوں کا عقیقہ کر سکتی ہیں، اس سے سنت بھی ادا ہو جائے گی اور فقہ حنفی کے مطابق مستحب کا ثواب بھی مل جائے گا۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔