فیس کی تاخیر میں اضافی چارجز کا سلفی حکم
فیس کی ادائیگی میں تاخیر پر اضافی چارجز یا مالی جرمانہ عائد کرنے کے حوالے سے کتاب و سنت کے دلائل اور معتبر علمائے تحقیق کے فتاویٰ کی روشنی میں شرعی حکم درج ذیل ہے:۔
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
فیس کی ادائیگی میں تاخیر پر اضافی چارجز یا مالی جرمانہ عائد کرنے کے حوالے سے کتاب و سنت کے دلائل اور معتبر علمائے تحقیق کے فتاویٰ کی روشنی میں شرعی حکم درج ذیل ہے:
بنیادی شرعی حکم
مروجہ اصولوں اور شرعی نصوص کی رو سے، فیس کی ادائیگی میں تاخیر پر اضافی رقم یا چارجز وصول کرنا جائز نہیں ہے اور یہ ربا یعنی سود کے زمرے میں آتا ہے۔
جب کسی ادارے (اسکول، یونیورسٹی یا کسی بھی سروس فراہم کرنے والے ادارے) کی فیس کی تاریخ مقرر ہو جاتی ہے اور وہ واجب الادا ہو جائے، تو وہ رقم طالب علم یا صارف کے ذمے ایک شرعی قرض (دَین) بن جاتی ہے۔ شریعت کا یہ طے شدہ اصول ہے کہ قرض کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے اس کی اصل رقم پر کوئی بھی مالی اضافہ وصول کرنا سود کہلاتا ہے۔
شرعی دلائل اور فقہی قواعد
1۔ ربا الجاہلیہ سے مشابہت: دورِ جاہلیت میں سود کا بنیادی طریقہ یہی تھا کہ جب کسی کے ذمے ادھار کی رقم واجب الادا ہوتی اور وہ وقت پر ادا نہ کر پاتا، تو قرض خواہ کہتا تھا: "یا تو رقم ادا کرو، یا پھر رقم بڑھاؤ"۔ فیس کی تاخیر پر لگنے والا جرمانہ بعینہ اسی اصول پر کام کرتا ہے کہ وقت پر فیس نہ دینے کی صورت میں رقم بڑھا دی جاتی ہے، جو کہ واضح سود ہے۔
2۔ قرآنی اصول: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
"وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُؤُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ" (اور اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے لیے تمہارا اصل مال ہے، نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔) [سورۃ البقرہ: 279]
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اصل رقم (خواہ وہ قرض ہو یا واجب الادا فیس) پر وقت گزرنے کی وجہ سے زائد کچھ بھی لینا ظلم اور ناجائز ہے۔
3۔ فقہی قاعدہ: شریعت کا مشہور فقہی قاعدہ ہے کہ ہر وہ قرض جو اپنے ساتھ کوئی فائدہ یا اضافہ کھینچ کر لائے، وہ سود ہے۔ چونکہ واجب الادا فیس بھی بندے کے ذمے ایک دین اور قرض کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے، اس لیے اس پر ہونے والا مالی اضافہ سود کے حکم میں چلا جاتا ہے۔
اداروں کے لیے متبادل شرعی طریقے
اداروں کو مالی نقصان اور صارفین کی طرف سے تاخیر سے بچانے کے لیے علمائے کرام نے ایسے متبادل طریقے بتائے ہیں جو سود کے دائرے میں نہیں آتے اور جنہیں اختیار کیا جانا چاہیے:
انتظامی کارروائی: ادارہ فیس لیٹ ہونے پر مالی جرمانہ لگانے کے بجائے دیگر انتظامی اقدامات کر سکتا ہے، جیسے طالب علم کا داخلہ یا نام عارضی طور پر معطل کر دینا، امتحان میں بیٹھنے سے روکنا، رزلٹ روک لینا، یا لائبریری کارڈ بلاک کر دینا۔
پہلے سے رعایت دینا: ادارہ یہ طریقہ اختیار کر سکتا ہے کہ وہ اصل فیس (مثلاً 10 ہزار) مقرر کرے، اور یہ اعلان کرے کہ جو شخص مقررہ تاریخ سے پہلے ادا کرے گا، اسے ایک ہزار روپے رعایت دی جائے گی اور اس سے 9 ہزار لیے جائیں گے۔ مقررہ تاریخ گزرنے کے بعد رعایت ختم ہو جائے گی اور اصل فیس (10 ہزار) ہی لی جائے گی۔ یہ طریقہ شرعاً جائز ہے کیونکہ اس میں اصل فیس سے اوپر کوئی اضافہ نہیں لیا جا رہا۔
خلاصہ: مستند فتاویٰ کمیٹیوں کے مطابق (مثلاً مجمع الفقہ الإسلامی الدولی — او آئی سی — کے قرار نمبر 109 (12/3) میں تصریح ہے کہ جس معاہدے میں اصل ذمے داری دین ہو، اس میں تاخیر پر مالی اضافہ صریح ربا ہے) اسکول، یونیورسٹی یا کسی بھی ادارے کی فیس میں تاخیر پر لیٹ فیس چارجز عائد کرنا سود کی ایک شکل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، لہٰذا اداروں کو اس کے متبادل جائز طریقے اختیار کرنے چاہئیں۔