بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 014
موضوع: زکاۃ، قربانی و عقیقہ
تاریخ: 1 فروری 2026 — ہجری: 13 شعبان 1447ھ
سوال

Nails hairs cut nhi kerwaty in 10 dino ma. kia ye darust ha k agr hum nail hairs cut krin gy tw gunah ho ga

الجواب
مختصر جواب

بنیادی شرعی حکم: جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، اس کے لیے ذوالحجہ کا چاند نظر آنے سے لے کر قربانی کا جانور ذبح ہونے تک جسم کے کسی بھی حصے کے بال، ناخن یا چمڑی کاٹنا شرعاً ممنوع اور حرام ہے۔

بنیادی شرعی حکم: جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، اس کے لیے ذوالحجہ کا چاند نظر آنے سے لے کر قربانی کا جانور ذبح ہونے تک جسم کے کسی بھی حصے کے بال، ناخن یا چمڑی کاٹنا شرعاً ممنوع اور حرام ہے۔ جان بوجھ کر بلا عذر کاٹے تو گناہ گار ہوگا؛ توبہ و استغفار کرے، تاہم اس کی قربانی فاسد نہیں ہوتی۔

دلائل: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی صحیح مسلم کی روایات: "جب ذوالحجہ کا دسواں دن (یعنی چاند) شروع ہو جائے اور تم میں سے کوئی قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، تو وہ اپنے بال اور ناخنوں میں سے کچھ بھی نہ کاٹے"؛ دوسری روایت: "پس وہ اپنے بال اور اپنی جلد کو ہرگز ہاتھ نہ لگائے"۔ لفظ "فلا يأخذن" ممانعت کے لیے ہے اور صریح ممانعت تحریم پر دلالت کرتی ہے؛ ائمہ (امام احمد، اسحاق بن راہویہ، سعید بن المسیب) اسے حرام و گناہ مانتے ہیں۔

وضاحتی مسائل: پابندی صرف قربانی کے اصل مالک پر ہے، گھر کے باقی افراد پر نہیں۔ بھول چوک یا لاعلمی میں کاٹ لے تو گناہ نہیں، نہ فدیہ لازم۔ شدید ضرورت (ٹوٹا ناخن، زخم) میں کاٹنا جائز ہے — ضرورت کے وقت ممنوعات مباح ہو جاتی ہیں۔

خلاصہ: قربانی کرنے والے کے لیے ان دس دنوں میں بال و ناخن کاٹنا بلا عذر ناجائز و گناہ ہے؛ اگر ہو جائے تو استغفار کرے، قربانی درست رہے گی۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔