بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 017
موضوع: زکاۃ، قربانی و عقیقہ
تاریخ: 19 فروری 2026 — ہجری: 2 رمضان 1447ھ
سوال

اسلام و علیکم قاری صاحب عید مبارک۔ امید ہے آپ بخیریت ہونگے۔ کیا نماز عید سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کر سکتے ہیں؟

الجواب
مختصر جواب

بنیادی حکم: نہیں — نمازِ عید سے پہلے ذبح کرنا جائز نہیں۔ نماز سے پہلے ذبح کیا گیا جانور قربانی (اضحیہ) شمار نہیں ہوگا، وہ محض گھر والوں کے کھانے کا گوشت ہے۔

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ خیر مبارک!

بنیادی حکم: نہیں — نمازِ عید سے پہلے ذبح کرنا جائز نہیں۔ نماز سے پہلے ذبح کیا گیا جانور قربانی (اضحیہ) شمار نہیں ہوگا، وہ محض گھر والوں کے کھانے کا گوشت ہے۔ قربانی کا وقت عید کی نماز مکمل ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے۔

دلائل: (1) سیدنا البراء بن عازب رضی اللہ عنہ: رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا: "إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لِأَهْلِهِ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ" [صحیح بخاری: 965، صحیح مسلم: 1961]۔ (2) حضرت جندب بن سفیان البجلی رضی اللہ عنہ: "مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى" [صحیح مسلم: 1960]۔

غلطی/لاعلمی میں پہلے ذبح ہو جائے تو: گناہ نہیں (غلطی معاف ہے)؛ قربانی کا ثواب چاہے اور استطاعت ہو تو دوسرا جانور نماز کے بعد ذبح کرے۔ پہلے جانور کا گوشت حلال ہے، کھایا و تقسیم کیا جا سکتا ہے، مگر قربانی کا اجر نہیں ملے گا۔

خلاصہ: اپنے علاقے کی عید گاہ/مسجد میں نمازِ عید کا انتظار کریں، اس کے بعد ذبح کریں۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔