(الف) مردوں کے لیے ریشم حرام ہے — آج کل شادیوں میں مرد جو شیروانی پہنتے ہیں کیا یہ صحیح ہے؟
(ب) گھروں میں انسانی شکل کی مورتیاں جن کی آنکھیں وغیرہ نہیں مگر جسمانی ساخت سے مرد/عورت/بچہ معلوم ہوتا ہے — رکھنا جائز ہے؟
(ج) "میرے نام پر نام رکھو، میری کنیت نہ رکھو" — کیا آج نام و کنیت دونوں ایک ساتھ رکھ سکتے ہیں؟
(الف) قدرتی ریشم مردوں پر قطعاً حرام: "یہ دونوں چیزیں (سونا اور ریشم) میری امت کے مردوں پر حرام ہیں اور ان کی عورتوں کے لیے حلال ہیں" (سنن ابی داؤد)۔ موجودہ شیروانیاں زیادہ تر مصنوعی ریشم (پالئیےسٹر/نایلان/وسکوز) کی ہوتی ہیں — شرعاً ریشم نہیں، پہننا جائز۔
(الف) قدرتی ریشم مردوں پر قطعاً حرام: "یہ دونوں چیزیں (سونا اور ریشم) میری امت کے مردوں پر حرام ہیں اور ان کی عورتوں کے لیے حلال ہیں" (سنن ابی داؤد)۔ موجودہ شیروانیاں زیادہ تر مصنوعی ریشم (پالئیےسٹر/نایلان/وسکوز) کی ہوتی ہیں — شرعاً ریشم نہیں، پہننا جائز۔ خالص قدرتی ریشم (ریشم کے کیڑے سے) ہو تو شادی کے دن بھی حرام۔ مشورہ: عیاشی، نسوانیت یا تکبر جھلکنے والے لباس سے بھی بچیں — سادگی ایمان کا حصہ ہے۔
(ب) بنیادی اصول: حرمت کا مدار سر و چہرے کے نقش پر ہے — حدیثِ قدسی میں جبرائیل علیہ السلام: "فَمُرْ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ فَلْيُقْطَعْ، فَيَصِيرَ كَهَيْئَةِ الشَّجَرَةِ" (سنن ترمذی)۔ ابن عثیمین رحمہ اللہ کے نزدیک چہرہ بالکل سپاٹ ہو تو ممنوعہ تصویر/مجسمے کے حکم میں نہیں آتا۔ تاہم احتیاط و تقویٰ کا تقاضا ہے کہ ایسی مورتیاں گھروں میں نہ رکھی جائیں: غیر مسلم طرزِ آرائش کی مشابہت، پہلی نظر میں جاندار کا گمان، رحمت کے فرشتوں کے آنے میں رکاوٹ کا شبہ۔
(ج) فرمان: "تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي" (صحیح بخاری)۔ ممانعت کی وجہ عہدِ رسالت میں الجھن تھی (بازار میں "یا ابا القاسم" کی آواز پر آپ ﷺ متوجہ ہوئے جبکہ بلایا کسی اور کو گیا تھا)۔ راجح موقف (صحابہ، تابعین، امام مالک و کبار محدثین): وفات کے بعد ممانعت ختم — سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیٹے کا نام "محمد" اور کنیت "ابو القاسم" رکھی (محمد بن الحنفیہ)۔ خلاصہ: آج نام "محمد" اور کنیت "ابو القاسم" دونوں جائز ہیں؛ احتیاطاً نہ رکھنا تقویٰ ہے۔