بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 032
موضوع: معاملات، تجارت و ملازمت
تاریخ: 20 مئی 2026 — ہجری: 3 ذوالحجہ 1447ھ
سوال

اسلام میں لائف انشورنس کیوں حرام ہے؟

الجواب
مختصر جواب

نظام: بیمہ کروانے والا کمپنی کو باقاعدہ پریمیم دیتا ہے؛ کمپنی وعدہ کرتی ہے کہ موت یا مقررہ مدت پر ورثاء/اسے بڑی رقم دے گی — رقم ادا شدہ پریمیم سے کئی گنا زیادہ بھی ہو سکتی ہے، کم بھی۔

نظام: بیمہ کروانے والا کمپنی کو باقاعدہ پریمیم دیتا ہے؛ کمپنی وعدہ کرتی ہے کہ موت یا مقررہ مدت پر ورثاء/اسے بڑی رقم دے گی — رقم ادا شدہ پریمیم سے کئی گنا زیادہ بھی ہو سکتی ہے، کم بھی۔

حرمت کی وجوہات:

1۔ غرر: غیر یقینی — کتنا ملے گا، کب ملے گا، ملے گا بھی یا نہیں، دونوں فریقوں کو نامعلوم؛ نبی ﷺ نے غرر والے معاملات سے منع فرمایا (صحیح مسلم)۔

2۔ قمار: جلد موت پر ورثاء کو کئی گنا، لمبی عمر پر کم — قسمت پر منحصر نفع/نقصان، جوئے سے مشابہ: "اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ" (سورۃ المائدہ: 90)۔

3۔ ربا: کمپنیاں جمع رقم زیادہ تر سودی کاروبار میں لگاتی ہیں؛ پریمیم کی تاخیر پر جرمانہ اور پالیسی قرض پر سود بھی ربا ہے: "وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَيْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا" (سورۃ البقرہ: 275)۔

4۔ توکل کی کمی: موت کے بعد خاندان کی کفالت کے لیے کمپنی پر انحصار توکل کے خلاف؛ حلال کمائی، بچت اور اللہ پر بھروسہ مطلوب ہے۔

5۔ وراثت کی خلاف ورزی: پوری رقم نامزد شخص کو ملتی ہے — اسلامی وراثت کے مقررہ حصوں کے خلاف، ورثاء کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔

خلاصہ: نظام غرر، قمار و ربا پر مبنی ہے — حرام ہے۔ متبادل: بچت، حلال سرمایہ کاری، توکل۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔