اسلام میں لائف انشورنس کیوں حرام ہے؟
نظام: بیمہ کروانے والا کمپنی کو باقاعدہ پریمیم دیتا ہے؛ کمپنی وعدہ کرتی ہے کہ موت یا مقررہ مدت پر ورثاء/اسے بڑی رقم دے گی — رقم ادا شدہ پریمیم سے کئی گنا زیادہ بھی ہو سکتی ہے، کم بھی۔
نظام: بیمہ کروانے والا کمپنی کو باقاعدہ پریمیم دیتا ہے؛ کمپنی وعدہ کرتی ہے کہ موت یا مقررہ مدت پر ورثاء/اسے بڑی رقم دے گی — رقم ادا شدہ پریمیم سے کئی گنا زیادہ بھی ہو سکتی ہے، کم بھی۔
حرمت کی وجوہات:
1۔ غرر: غیر یقینی — کتنا ملے گا، کب ملے گا، ملے گا بھی یا نہیں، دونوں فریقوں کو نامعلوم؛ نبی ﷺ نے غرر والے معاملات سے منع فرمایا (صحیح مسلم)۔
2۔ قمار: جلد موت پر ورثاء کو کئی گنا، لمبی عمر پر کم — قسمت پر منحصر نفع/نقصان، جوئے سے مشابہ: "اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ" (سورۃ المائدہ: 90)۔
3۔ ربا: کمپنیاں جمع رقم زیادہ تر سودی کاروبار میں لگاتی ہیں؛ پریمیم کی تاخیر پر جرمانہ اور پالیسی قرض پر سود بھی ربا ہے: "وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَيْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا" (سورۃ البقرہ: 275)۔
4۔ توکل کی کمی: موت کے بعد خاندان کی کفالت کے لیے کمپنی پر انحصار توکل کے خلاف؛ حلال کمائی، بچت اور اللہ پر بھروسہ مطلوب ہے۔
5۔ وراثت کی خلاف ورزی: پوری رقم نامزد شخص کو ملتی ہے — اسلامی وراثت کے مقررہ حصوں کے خلاف، ورثاء کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔
خلاصہ: نظام غرر، قمار و ربا پر مبنی ہے — حرام ہے۔ متبادل: بچت، حلال سرمایہ کاری، توکل۔