اگر ایک لڑکی کو زبردستی کار میں بٹھایا گیا ہو اور گھر سے باہر جا کر اس کا نکاح کر دیا گیا ہو، جبکہ اس کے والدین کی طرف سے اس نکاح کی اجازت نہ دی گئی ہو، لیکن لڑکی کے دل میں اس لڑکے کے لیے سافٹ کارنر (پسندیدگی) موجود تھی، تو کیا یہ نکاح شرعاً درست ہوگا؟
یہ نکاح درست و صحیح نہیں ہوگا — دو بنیادی شرطیں پوری نہیں ہو رہیں: (1) لڑکی کی آزادانہ رضامندی نہیں تھی؛ (2) ولی کی اجازت شامل نہیں تھی۔ 1۔ رضامندی کی شرط: "کنواری لڑکی کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے" (صحیح بخاری)۔
یہ نکاح درست و صحیح نہیں ہوگا — دو بنیادی شرطیں پوری نہیں ہو رہیں: (1) لڑکی کی آزادانہ رضامندی نہیں تھی؛ (2) ولی کی اجازت شامل نہیں تھی۔
1۔ رضامندی کی شرط: "کنواری لڑکی کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے" (صحیح بخاری)۔ زبردستی کار میں بٹھانا رضامندی کے خلاف جبری عمل ہے۔ دل میں پسندیدگی (سافٹ کارنر) نکاح کی رضامندی کے برابر نہیں — رضامندی وہ ہے جو نکاح کے وقت اپنی مرضی سے، بغیر دباؤ کے ظاہر ہو۔ زبردستی و دباؤ میں کیا گیا نکاح شرعاً درست نہیں ہوتا، چاہے پسندیدگی موجود ہو۔
2۔ ولی کی اجازت: جمہور کے نزدیک ولی (والد، دادا، بھائی وغیرہ) کی اجازت لازمی شرط ہے: "جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا، اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے" (سنن ابی داؤد، سنن ترمذی)۔ یہاں والدین کی اجازت نہیں تھی، لڑکی کو باہر لے جا کر نکاح کیا گیا — اس وجہ سے بھی درست نہیں۔
3۔ سافٹ کارنر: دل کی کیفیت ہے؛ نکاح کی رضامندی ایک شرعی عمل ہے جو وقت پر واضح ظاہر ہونا چاہیے۔ پسندیدگی کے باوجود دباؤ میں رضامندی ثابت نہیں ہوتی۔
خلاصہ: نکاح درست نہیں۔ درست کرنے کے لیے لڑکی کی آزادانہ رضامندی اور ولی کی اجازت سے دوبارہ نکاح کیا جائے؛ لڑکی اور والدین راضی ہو جائیں تو شرعی طریقے سے دوبارہ انجام دیا جا سکتا ہے۔