بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 031
موضوع: نکاح، طلاق و خاندانی مسائل
تاریخ: 14 مئی 2026 — ہجری: 27 ذوالقعدہ 1447ھ
سوال

اگر ایک لڑکی کو زبردستی کار میں بٹھایا گیا ہو اور گھر سے باہر جا کر اس کا نکاح کر دیا گیا ہو، جبکہ اس کے والدین کی طرف سے اس نکاح کی اجازت نہ دی گئی ہو، لیکن لڑکی کے دل میں اس لڑکے کے لیے سافٹ کارنر (پسندیدگی) موجود تھی، تو کیا یہ نکاح شرعاً درست ہوگا؟

الجواب
مختصر جواب

یہ نکاح درست و صحیح نہیں ہوگا — دو بنیادی شرطیں پوری نہیں ہو رہیں: (1) لڑکی کی آزادانہ رضامندی نہیں تھی؛ (2) ولی کی اجازت شامل نہیں تھی۔ 1۔ رضامندی کی شرط: "کنواری لڑکی کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے" (صحیح بخاری)۔

یہ نکاح درست و صحیح نہیں ہوگا — دو بنیادی شرطیں پوری نہیں ہو رہیں: (1) لڑکی کی آزادانہ رضامندی نہیں تھی؛ (2) ولی کی اجازت شامل نہیں تھی۔

1۔ رضامندی کی شرط: "کنواری لڑکی کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے" (صحیح بخاری)۔ زبردستی کار میں بٹھانا رضامندی کے خلاف جبری عمل ہے۔ دل میں پسندیدگی (سافٹ کارنر) نکاح کی رضامندی کے برابر نہیں — رضامندی وہ ہے جو نکاح کے وقت اپنی مرضی سے، بغیر دباؤ کے ظاہر ہو۔ زبردستی و دباؤ میں کیا گیا نکاح شرعاً درست نہیں ہوتا، چاہے پسندیدگی موجود ہو۔

2۔ ولی کی اجازت: جمہور کے نزدیک ولی (والد، دادا، بھائی وغیرہ) کی اجازت لازمی شرط ہے: "جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا، اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے" (سنن ابی داؤد، سنن ترمذی)۔ یہاں والدین کی اجازت نہیں تھی، لڑکی کو باہر لے جا کر نکاح کیا گیا — اس وجہ سے بھی درست نہیں۔

3۔ سافٹ کارنر: دل کی کیفیت ہے؛ نکاح کی رضامندی ایک شرعی عمل ہے جو وقت پر واضح ظاہر ہونا چاہیے۔ پسندیدگی کے باوجود دباؤ میں رضامندی ثابت نہیں ہوتی۔

خلاصہ: نکاح درست نہیں۔ درست کرنے کے لیے لڑکی کی آزادانہ رضامندی اور ولی کی اجازت سے دوبارہ نکاح کیا جائے؛ لڑکی اور والدین راضی ہو جائیں تو شرعی طریقے سے دوبارہ انجام دیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔