بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 033
موضوع: معاملات، تجارت و ملازمت
تاریخ: 26 مئی 2026 — ہجری: 9 ذوالحجہ 1447ھ
سوال

اسٹاک مارکیٹ میں شیئرز خریدنا کیسا ہے؟ اگر کسی کمپنی کا بنیادی کاروبار حلال ہو، لیکن اس کی آمدنی کا ایک چھوٹا سا حصہ حرام ذرائع جیسے سود سے آتا ہو، تو کیا اس کمپنی کے شیئرز خریدنا جائز ہے؟ اور علماء کرام نے شیئرز کے حلال ہونے کے لیے کون سے مخصوص معیارات مقرر کیے ہیں؟

الجواب
مختصر جواب

1۔ بنیادی حیثیت: شیئر کمپنی کی ملکیت میں حصہ داری (مشارکت) ہے — کاروبار حلال ہو (ٹیکسٹائل، خوراک، ٹیکنالوجی، دواسازی) تو شیئرز خریدنا بنیادی طور پر جائز؛ شیئر ہولڈر نفع و نقصان میں شریک ہوتا ہے۔

1۔ بنیادی حیثیت: شیئر کمپنی کی ملکیت میں حصہ داری (مشارکت) ہے — کاروبار حلال ہو (ٹیکسٹائل، خوراک، ٹیکنالوجی، دواسازی) تو شیئرز خریدنا بنیادی طور پر جائز؛ شیئر ہولڈر نفع و نقصان میں شریک ہوتا ہے۔

2۔ حرام کاروبار والی کمپنی: بنیادی کاروبار ہی حرام ہو (شراب، جوا، سودی بینکاری، فحاشی) تو شیئرز قطعاً حرام — شیئر ہولڈر حرام کاروبار کا حصہ دار بنتا ہے: "وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ" (سورۃ المائدہ: 2)۔

3۔ حلال کاروبار + معمولی حرام آمدنی: معاصر علماء (شیخ محمد تقی عثمانی و دیگر) کے نزدیک گنجائش ہے بشرطیکہ: (الف) بنیادی کاروبار حلال و غالب ہو؛ (ب) حرام آمدنی کل آمدنی کے 5 فیصد سے زیادہ نہ ہو (اجتہادی حد)؛ (ج) تطہیر: شیئر ہولڈر منافع کے حرام حصے کا حساب لگا کر صدقہ کر دے (مثلاً حرام 3٪ تو منافع کا 3٪ صدقہ)؛ (د) سودی قرضے کل مارکیٹ ویلیو کے 30 فیصد سے زیادہ نہ ہوں؛ (ہ) غیر مائع اثاثے کل مارکیٹ ویلیو کے 30 فیصد سے زیادہ ہوں۔

4۔ ممنوع صورتیں: (الف) ڈے ٹریڈنگ و قیاس آرائی — جوئے کے قریب، بچیں؛ (ب) مارجن ٹریڈنگ — سودی قرض، حرام؛ (ج) فیوچرز، آپشنز، CFDs — جوا و غرر، اصل اثاثے کی خرید و فروخت نہیں۔

خلاصہ: بنیادی کاروبار حلال + حرام آمدنی 5٪ سے کم ہو تو شرائط کے ساتھ جائز اور تطہیر لازم؛ حرام کاروبار یا سودی/جوئے والے نظام سے ٹریڈنگ حرام۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔