ایک شخص کی بیوی حاملہ ہے، حمل کا پانچواں ماہ شروع ہو چکا ہے۔ الٹراساؤنڈ رپورٹس کے مطابق بچے میں پیچیدگیاں ہیں جن کی بناء پر بچہ معذور پیدا ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹرز بچہ ضائع کروانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ میاں بیوی کا دل نہیں مان رہا، اللہ کی ناراضگی کا خوف بھی ہے اور معذور بچے کی دیکھ بھال کا خوف بھی۔ شریعت کی روشنی میں کیا فیصلہ کیا جائے؟
1۔ زندگی کی تقدیس: انسانی زندگی مقدس ہے، چاہے بچہ پیٹ میں ہو: "وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ" (سورۃ الانعام: 151) — کسی خوف یا مشکل سے اولاد ختم کرنا ممنوع؛ معذوری کا خوف جواز نہیں بنتا، رزق و زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
1۔ زندگی کی تقدیس: انسانی زندگی مقدس ہے، چاہے بچہ پیٹ میں ہو: "وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ" (سورۃ الانعام: 151) — کسی خوف یا مشکل سے اولاد ختم کرنا ممنوع؛ معذوری کا خوف جواز نہیں بنتا، رزق و زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
2۔ معذوری کا خوف و توکل: فطری احساس ہے مگر علاج توکل ہے: "وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ" (سورۃ الطلاق: 3)۔ معذور بچہ نعمت و آزمائش ہو سکتا ہے؛ اس کی دیکھ بھال پر عظیم اجر ہے؛ خوف سے ضائع کرنا اللہ کی رحمت سے مایوسی کے مترادف ہے۔
3۔ روح کا مرحلہ: 120 دن (تقریباً 4 ماہ) پر روح پھونکی جاتی ہے — تخلیق کے مراحل والی حدیث (صحیح بخاری: 3208، صحیح مسلم: 2643)۔ پانچواں ماہ شروع ہو چکا، یعنی بچے میں روح آ چکی ہے؛ اس مرحلے پر اسقاط قتل کے مترادف و کبیرہ گناہ ہے۔
4۔ حکم: (الف) روح والی جان کا قتل جائز نہیں؛ (ب) معذوری — کتنی ہی شدید ہو — اسقاط کا جواز نہیں، معذور بچے کو بھی جینے کا پورا حق ہے؛ (ج) الٹراساؤنڈ پیش گوئیاں یقینی نہیں، کئی بار غلط ثابت ہوتی ہیں اور بچہ صحت مند پیدا ہوتا ہے — محض شک پر اسقاط درست نہیں۔
5۔ ڈاکٹرز کی رائے: طبی مشورہ شرعی حکم سے بالاتر نہیں۔ صرف ایک صورت میں علماء نے اجازت دی ہے: ماں کی جان کو یقینی خطرہ ہو اور اسقاط کے بغیر جان نہ بچ سکے (ماں کی جان مقدم)۔ یہاں ماں کی جان کو خطرہ نہیں، صرف معذوری کا اندیشہ ہے — گنجائش نہیں۔
6۔ عملی رہنمائی: بچے کو اللہ کی امانت سمجھ کر قبول کریں؛ توکل کریں — اللہ دیکھ بھال کی طاقت و وسائل دے گا؛ صدقہ و دعا کا اہتمام کریں (صدقہ بلائیں ٹالتا ہے)؛ کسی ماہر ڈاکٹر سے دوسری رائے لیں۔ میاں بیوی کا دل جو اسقاط کے خلاف ہے وہی ایمان و فطرت کی آواز ہے۔
7۔ صبر کی فضیلت: صبر پر عظیم اجر کا وعدہ؛ معذور بچہ پیدا بھی ہو جائے تو اس کی پرورش جنت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
خلاصہ: پانچویں ماہ میں، روح آ چکی ہونے کے بعد، معذوری کے اندیشے پر اسقاط حرام و قتل کے مترادف ہے — بچے کو قبول کریں، توکل کریں، پیدائش کا انتظار کریں۔