بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 037
موضوع: عبادات (نماز، روزہ وغیرہ)
تاریخ: 19 جون 2026 — ہجری: 3 محرم 1448ھ
سوال

سجدہ سہو والا (طریقہ بتا دیں)

الجواب
مختصر جواب

(الف) نماز میں کمی: مثلاً پہلا تشہد چھوڑ کر تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو جانا — دلیل: عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کی روایت، نبی ﷺ نے سلام سے پہلے دو سجدے کیے (صحیح بخاری: 829، صحیح مسلم: 570)۔

1۔ سلام سے پہلے (قبل السلام) — دو حالتیں:

(الف) نماز میں کمی: مثلاً پہلا تشہد چھوڑ کر تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو جانا — دلیل: عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کی روایت، نبی ﷺ نے سلام سے پہلے دو سجدے کیے (صحیح بخاری: 829، صحیح مسلم: 570)۔

(ب) شک میں کم تعداد پر بنیاد: تین پڑھیں یا چار اور کوئی جانب غالب نہ ہو تو کم (تین) پر بنیاد رکھیں — دلیل: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ: شک ہو جائے تو کم تعداد پر بنیاد رکھے اور سلام سے پہلے دو سجدے کرے (صحیح مسلم: 571)۔

طریقہ: آخری رکعت میں التحیات، درود و دعا مکمل کر کے سلام پھیرے بغیر «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہہ کر دو سجدے کریں (تسبیح «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» تین بار)، پھر بیٹھ کر دونوں طرف سلام پھیر دیں۔

2۔ سلام کے بعد (بعد السلام) — حالتیں:

(الف) زیادتی: چار کی جگہ پانچ رکعت پڑھ لینا — دلیل: ابن مسعود رضی اللہ عنہ، نبی ﷺ نے پانچ رکعتیں پڑھیں تو سلام کے بعد دو سجدے کیے (صحیح بخاری: 401، صحیح مسلم: 572)۔

(ب) وقت سے پہلے سلام: دو/تین رکعت پر سلام پھیر دیا، پھر یاد آنے پر باقی مکمل کی — دلیل: حدیثِ ذوالیدین، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (صحیح بخاری: 482، صحیح مسلم: 573)۔

(ج) شک میں غالب گمان: غور کر کے ایک جانب غالب ہو تو اسی پر نماز مکمل کر کے سلام کے بعد سجدہ سہو۔

طریقہ: نماز مکمل کر کے دونوں طرف سلام پھیر دیں، پھر تکبیر کہہ کر دو سجدے کریں، پھر بیٹھ کر دوبارہ دونوں طرف سلام پھیر دیں۔

بنیادی اصول: دونوں سجدوں میں عام تسبیح «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى»؛ سجدہ سہو کے بعد دوبارہ التحیات/درود صحیح احادیث سے ثابت نہیں؛ سنت طریقہ یہی ہے کہ سجدہ سہو کے بعد صرف سلام پھیرا جائے۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔