بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 039
موضوع: عبادات (نماز، روزہ وغیرہ)
تاریخ: 1 جولائی 2026 — ہجری: 15 محرم 1448ھ
سوال

جناب سفر کی نماز کتنے فاصلے کے بعد ہوتی ہے؟

الجواب
مختصر جواب

1۔ کلومیٹر میں اندازہ: جمہور صحابہ و محدثین کے آثار — ابن عمر و ابن عباس رضی اللہ عنہم 4 بُرُد (تقریباً 77 تا 80 کلومیٹر) پر قصر کا فتویٰ دیا کرتے تھے۔

1۔ کلومیٹر میں اندازہ: جمہور صحابہ و محدثین کے آثار — ابن عمر و ابن عباس رضی اللہ عنہم 4 بُرُد (تقریباً 77 تا 80 کلومیٹر) پر قصر کا فتویٰ دیا کرتے تھے۔ معاصرین کا فتویٰ: احتیاطاً سفر اپنے شہر کی آبادی سے باہر تقریباً 77 تا 80 کلومیٹر یا زیادہ ہو تو قصر جائز و مسنون۔

2۔ راجح تحقیقی موقف (عرف): ابن تیمیہ و ابن عثیمین رحمہما اللہ کے نزدیک قرآن و سنت میں سفر کی متعین حد مقرر نہیں — دارومدار عرفِ عام پر ہے: ہر وہ مسافت جسے معاشرے میں "سفر" سمجھا جائے اور انسان اس کی باقاعدہ تیاری کرے (زادِ راہ، سواری)، اس پر سفر کے احکام لاگو۔ دلیل: انس بن مالک رضی اللہ عنہ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِذَا خَرَجَ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَمْيَالٍ أَوْ ثَلَاثَةِ فَرَاسِخَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ» (صحیح مسلم: 691)۔

3۔ قصر کا مقام: اپنے گھر/شہر کے اندر قصر جائز نہیں؛ شہر کی حدود و آخری آبادی سے باہر نکلتے ہی شروع ہوتا ہے۔

خلاصہ: سفر تقریباً 77–80 کلومیٹر یا زائد ہو (یا عرف میں باقاعدہ سفر سمجھا جائے) تو شہر کی حدود سے باہر نکلتے ہی قصر پڑھ سکتے ہیں۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔