اگر کوئی اپنے قرض کو کسی مالدار کے حوالے کر دے، مگر مالدار بظاہر مالدار لگتا ہو لیکن صاحبِ استطاعت نہ ہو — تو کیا اس پر بھی اسے قبول کرنا ہوگا؟ کیونکہ حدیث میں ہے کہ اگر کوئی حوالہ کرے تو قبول کرے۔
صحیح بخاری، کتاب الحوالہ (2287، 2288) کی رو سے: اگر اگلا شخص درحقیقت صاحبِ استطاعت و دینے پر قادر نہیں (خواہ بظاہر کتنا ہی مالدار لگے) تو قرض خواہ پر ایسا حوالہ قبول کرنا واجب نہیں۔
صحیح بخاری، کتاب الحوالہ (2287، 2288) کی رو سے: اگر اگلا شخص درحقیقت صاحبِ استطاعت و دینے پر قادر نہیں (خواہ بظاہر کتنا ہی مالدار لگے) تو قرض خواہ پر ایسا حوالہ قبول کرنا واجب نہیں۔
1۔ کلیدی لفظ «مَلِیٍّ»: «مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيٍّ فَلْيَتْبَعْ» (صحیح بخاری: 2287، صحیح مسلم: 1564) — حکم ہر شخص کے لیے نہیں، صرف "ملیء" کے لیے ہے۔ محدثین و فقہاء کے نزدیک ملیء میں تین صفات بیک وقت لازم ہیں: (الف) حقیقی مالی استطاعت — واقعی نقد/قابلِ وصول مال؛ محض جائیداد/ٹھاٹھ باٹھ کافی نہیں اگر اندر سے مقروض/دیوالیہ ہو؛ (ب) ٹال مٹول سے پاک — نادہندہ و بددیانت نہ ہو؛ (ج) پہنچ و رسائی — اتنا بااثر/سرکش نہ ہو کہ تقاضا ناممکن ہو، نہ نامعلوم جگہ پر ہو۔ ایک بھی صفت مفقود ہو تو وہ ملیء نہیں اور حوالہ قبول کرنا لازم نہیں۔
2۔ نفیِ ضرر: «لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ» — حقیقت میں نادار کا حوالہ دینا قرض خواہ سے دھوکہ (غرور) ہے، شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی۔
3۔ قبول کرنے کے بعد حقیقت کھلے تو؟ حوالہ کالعدم؛ قرض خواہ اصل مقروض کی طرف رجوع کرے گا — آثار: عثمان و علی رضی اللہ عنہما کا فیصلہ: «لَيْسَ عَلَى مَالٍ مُسْلِمٍ تَوًى» (کسی مسلمان کا مال ضائع نہیں کیا جا سکتا) (مصنف عبد الرزاق، بیہقی)۔
خلاصہ: حوالہ قبول کرنے کا حکم صرف حقیقی استطاعت و دیانت والے کے لیے ہے؛ ظاہری مالداری پر قرض خواہ مسترد کر کے اصل مقروض سے تقاضا کر سکتا ہے۔