بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 061
موضوع: معاملات، تجارت و ملازمت
تاریخ: 1 نومبر 2026 — ہجری: 20 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

سونے کے بدلے سونا یا چاندی کے بدلے چاندی بیچتے وقت کوالٹی میں فرق ہو تو کیا وزن کی برابری ضروری ہے؟ اور زیور کے تبادلے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟

الجواب
مختصر جواب

1۔ اصل نبوی قانون: «الذھب بالذھب، والفضۃ بالفضۃ مثلا بمثل، سواء بسواء، یدا بید» — سونا سونے کے بدلے و چاندی چاندی کے بدلے برابر برابر، نقد بنقد (صحیح مسلم: 1587، صحیح بخاری: 2175)۔

الجواب وباللہ التوفیق:

1۔ اصل نبوی قانون: «الذھب بالذھب، والفضۃ بالفضۃ مثلا بمثل، سواء بسواء، یدا بید» — سونا سونے کے بدلے و چاندی چاندی کے بدلے برابر برابر، نقد بنقد (صحیح مسلم: 1587، صحیح بخاری: 2175)۔ دو شرائط فرض: (اول) سودا بالکل نقد و دست بدست — ادھار حرام؛ (دوم) دونوں طرف وزن بالکل برابر — رتی برابر کمی بیشی جائز نہیں۔

2۔ کوالٹی کا اعتبار: سونے کے سونے سے تبادلے میں کوالٹی، خوبصورتی، پرانا/نیا ہونا شریعت نے ساقط الاعتبار قرار دیا۔ دلیل: بلال رضی اللہ عنہ نے دو صاع عام کھجور کے بدلے ایک صاع عمدہ کھجور کا تبادلہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: "افسوس! یہ تو صریح سود ہے، ایسا ہرگز مت کرو — اپنی کھجور درہم کے عوض بیچ دو، پھر ان درہموں سے عمدہ کھجور خرید لو" (صحیح بخاری: 2312)۔

3۔ زیور کی تبدیلی کا مسنون طریقہ: پرانا سونا دے کر کم وزن کا نیا زیور لینا صریح سود۔ حل دو مراحل: (مرحلہ اول) پرانا سونا سنار کو نقد پیسوں کے عوض بیچ کر پوری رقم وصول کریں؛ (مرحلہ دوم) پھر اسی رقم سے مرضی کا نیا زیور — ڈیزائن و بنوائی کی مزدوری طے کر کے — نقد خریدیں۔ نہ وزن کی کمی بیشی کا شبہ، نہ سودی گناہ۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔