بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 064
موضوع: معاملات، تجارت و ملازمت
تاریخ: 5 نومبر 2026 — ہجری: 24 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

آج کل طلبہ ChatGPT جیسے مصنوعی ذہانت کے پروگراموں سے اپنی اسائنمنٹس، مضامین اور تحقیقی مقالے لکھوا کر اپنے نام سے جمع کروا دیتے ہیں، اور بعض فری لانسر حضرات ان کے لیے یہی کام اجرت پر بھی کرتے ہیں۔ اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ اور عام حلال تحریری کاموں میں ان آلات کا استعمال کیسا ہے؟

الجواب
مختصر جواب

اسائنمنٹ اور تحقیقی مقالے کا مقصد طالب علم کی تربیت، اس کی صلاحیت کی جانچ اور اس کی اپنی محنت کا امتحان ہوتا ہے۔ جو طالب علم پورا کام مصنوعی ذہانت سے یا کسی دوسرے شخص سے لکھوا کر اپنے نام سے پیش کرتا ہے، وہ دھوکے اور جھوٹ کا مرتکب ہوتا ہے اور ایسی چیز کا دعویٰ کرتا ہے جو اس نے خود نہیں کی۔

الجواب وباللہ التوفیق:

۱۔ طالب علم کا حکم:

اسائنمنٹ اور تحقیقی مقالے کا مقصد طالب علم کی تربیت، اس کی صلاحیت کی جانچ اور اس کی اپنی محنت کا امتحان ہوتا ہے۔ جو طالب علم پورا کام مصنوعی ذہانت سے یا کسی دوسرے شخص سے لکھوا کر اپنے نام سے پیش کرتا ہے، وہ دھوکے اور جھوٹ کا مرتکب ہوتا ہے اور ایسی چیز کا دعویٰ کرتا ہے جو اس نے خود نہیں کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو ہمیں دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں" (صحیح مسلم: ۱۰۱)۔ اور فرمایا: "جس نے خود کو اس چیز سے مالا مال ظاہر کیا جو اسے دی ہی نہیں گئی، وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی مانند ہے" (صحیح بخاری: ۵۲۱۹، صحیح مسلم: ۲۱۲۹)۔ جب نمبر، ڈگری اور سند اسی جھوٹ کی بنیاد پر ملتی ہے تو یہ صورت قطعاً حرام ہے۔ یہی حکم اس وقت بھی ہے جب کام کسی ہم جماعت یا کسی انسان لکھنے والے سے کروایا جائے؛ وسیلہ بدلنے سے حقیقت نہیں بدلتی۔

۲۔ اجرت پر لکھنے والے کا حکم:

جو شخص اجرت لے کر دوسروں کے لیے اسائنمنٹس، مضامین یا مقالے لکھتا ہے تاکہ وہ اپنے نام سے جمع کروائیں، وہ اس دھوکے میں شریک اور گناہ پر معاون ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ (سورۃ المائدہ: ۲)۔ شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ سے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا جو طلبہ کے لیے رپورٹس اور مضامین لکھ کر انہیں ڈگریاں دلواتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا کہ یہ درحقیقت خیانت ہے، کیونکہ اس کا حاصل صرف سند لینا ہوتا ہے، اور لکھنے والوں کو اس کے بُرے انجام سے خبردار کیا۔ پس ایسی کمائی حلال و طیب نہیں، اس سے اجتناب لازم ہے۔

۳۔ جائز صورتیں:

- سیکھنے اور تحقیق میں معاون کے طور پر استعمال جائز ہے: معلومات اور ذرائع جمع کرنا، مشکل نکتہ سمجھنا، زبان و اسلوب کی درستگی — بشرطیکہ اصل علمی محنت طالب علم کی اپنی ہو۔ جس طرح کسی کا کام دیکھ کر سمجھ لینا اور پھر خود لکھنا جائز ہے، اسی طرح ان آلات سے سمجھنا بھی جائز ہے۔ - تعلیمی ادارے نے جتنی مدد کی اجازت دے رکھی ہو، اسی حد میں رہنا لازم ہے؛ شبہ ہو تو استاد سے پوچھ لینا چاہیے، کیونکہ معاہدے اور ادارے کے ضابطے کی پابندی امانت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا﴾ (سورۃ النساء: ۵۸)۔ - ظاہری خدمات اجرت پر کرنا جائز ہے: ٹائپنگ، فارمیٹنگ، پروف ریڈنگ، اور اپنے لکھے ہوئے کا ترجمہ۔ - غیر تعلیمی حلال تحریری و دفتری کاموں میں ان آلات کا استعمال اصلاً مباح ہے، بشرطیکہ جھوٹ، کسی کے علمی حق کی چوری، اور معاہدے کی خلاف ورزی نہ ہو۔

۴۔ مقاصدی تنبیہ:

شریعت کے مقاصد میں دیانت و صدق کی حفاظت اور علم کی قدر و قیمت کی بقا ہے۔ جب شہادتیں بے محنت ملنے لگیں تو نااہل لوگ ذمہ دار مناصب تک پہنچتے ہیں اور پورا معاشرہ اس فساد کی قیمت چکاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾ (سورۃ التوبہ: ۱۱۹)۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔