بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 072
موضوع: معاملات، تجارت و ملازمت
تاریخ: 5 نومبر 2026 — ہجری: 24 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

آج کل دفتری اور آن لائن ملازمتوں میں مرد و خواتین کا مشترکہ کام عام ہے: مشترکہ پراجیکٹس، ویڈیو کالز اور چیٹ کے ذریعے نامحرم ساتھی کارکنوں سے مسلسل واسطہ پڑتا ہے۔ اس اختلاط کی شرعی حدود کیا ہیں؟ ملازم مرد و خاتون کن باتوں کا پابند ہے؟

الجواب
مختصر جواب

ملازمت اپنی ذات میں جائز ہے، لیکن اس کے گرد شرعی حدود قائم ہیں، جن میں سے اہم یہ ہیں: (الف) خلوت کی ممانعت: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کوئی مرد کسی (نامحرم) عورت کے ساتھ تنہا نہ ہو، مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو" (صحیح بخاری: ۵۲۳۳؛ صحیح مسلم: ۱۳۴۱)، اور فرمایا: "کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہا نہیں ہوتا مگر شیطان ان کا تیسرا ہوتا ہے" (جامع ترمذی: ۲۱۶۵، صحیح)۔

الجواب وباللہ التوفیق:

۱۔ بنیادی شرعی ضوابط:

ملازمت اپنی ذات میں جائز ہے، لیکن اس کے گرد شرعی حدود قائم ہیں، جن میں سے اہم یہ ہیں: (الف) خلوت کی ممانعت: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کوئی مرد کسی (نامحرم) عورت کے ساتھ تنہا نہ ہو، مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو" (صحیح بخاری: ۵۲۳۳؛ صحیح مسلم: ۱۳۴۱)، اور فرمایا: "کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہا نہیں ہوتا مگر شیطان ان کا تیسرا ہوتا ہے" (جامع ترمذی: ۲۱۶۵، صحیح)۔ (ب) نظر کی حفاظت: ﴿قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ﴾ (سورۃ النور: ۳۰) اور مومنات کو بھی نظر جھکانے اور زینت چھپانے کا حکم ہے (سورۃ النور: ۳۱)۔ (ج) گفتگو کا ادب: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ﴾ (سورۃ الاحزاب: ۳۲) یعنی بات میں نرمی و لوچ اختیار نہ کرو کہ بیمار دل والا لالچ میں پڑ جائے۔ (د) فتنے کی سنگینی: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے بڑا نقصان دہ فتنہ نہیں چھوڑا" (صحیح بخاری: ۵۰۹۶؛ صحیح مسلم: ۲۷۴۰)۔ اسی بنا پر اللجنۃ الدائمہ کا فتویٰ ہے کہ مخلوط ماحول — جہاں مرد و خواتین کا بے تکلف اختلاط ہو — میں عورت کا تعلیم و ملازمت کے لیے جانا جائز نہیں (فتاویٰ اللجنہ الدائمہ: ۱۲/۱۵۶)، اور شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے نظر کے انتشار اور کام کی جگہ پر اختلاط کو فساد کے بڑے اسباب میں شمار کیا ہے۔

۲۔ جسمانی خلوت — دفتر کے اندر:

بند کمرے میں نامحرم ساتھی کے ساتھ تنہا ہونا اوپر مذکور اصل ممنوع صورت ہے۔ میٹنگز کھلی جگہ میں یا شفاف/اجتماعی ماحول میں ہونی چاہئیں؛ یہ ذمہ داری مرد و خاتون دونوں پر یکساں ہے۔

۳۔ ویڈیو کال کی حدود:

ون آن ون ویڈیو کال جسمانی خلوت کی تعریف میں تو ہرگز نہیں آتی، لیکن اس میں نجی گفتگو اور دیر تک باہمی نظر کی وہ علت پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے خلوت ممنوع ہوئی؛ اس لیے بلا ضرورت اس سے اجتناب کیا جائے۔ اگر پیشہ ورانہ ضرورت ہو تو یہ شرائط ہیں: گفتگو صرف کام تک محدود اور لہجہ سنجیدہ ہو؛ دورانیہ بقدرِ ضرورت مختصر ہو؛ خاتون شرعی حجاب میں ہو اور مرد نگاہ کی حفاظت کرے؛ اور جہاں ممکن ہو میٹنگ گروپ کی صورت میں یا ریکارڈ شدہ سرکاری چینل پر ہو۔

۴۔ چیٹ اور پیغامات کی حدود:

نجی چیٹ بھی شرعی خلوت نہیں کہلاتی، تاہم بلا ضرورت ذاتی اور طویل گفتگو فتنے کا ذریعہ بننے کی وجہ سے ممنوع ہے؛ اہلِ علم کے فتاویٰ اسی مفہوم پر ہیں۔ کام کی تحریری رابطہ کاری سرکاری ذرائع (آفیشل ای میل، گروپ چیٹ) سے، اختصار کے ساتھ اور صرف بقدرِ ضرورت ہونی چاہیے۔ کام کے بہانے ذاتی نمبروں اور سوشل میڈیا پر رابطے قائم کرنا، مزاح اور غیر ضروری گفتگو اسی ممانعت میں داخل ہے۔

۵۔ مشترکہ پراجیکٹس:

اجتماعی پلیٹ فارم پر، شفاف نظام اور پیشہ ورانہ حدود کے اندر مشترکہ کام جائز ہے بشرطیکہ مذکورہ آداب برقرار رہیں۔ لیکن اگر کسی ملازمت میں ان حدود کی پابندی ممکن ہی نہ ہو — مثلاً بے تکلف اختلاط لازم ہو یا بار بار خلوت کی نوبت آئے — تو ایسی ملازمت چھوڑ کر حلال ذریعۂ رزق تلاش کرنا چاہیے؛ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے: ﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾ (سورۃ الطلاق: ۲–۳)۔

مقاصدی تنبیہ:

حفظِ دین اور حفظِ عِرض کے مقاصد سدِّ ذرائع کا تقاضا کرتے ہیں: شریعت نے مقصد (زنا و فساد) سے پہلے اس تک لے جانے والے راستوں کو بند کیا ہے۔ ٹیکنالوجی بذاتِ خود نعمت ہے؛ اس کی برکت انہی حدود کی حفاظت سے باقی رہتی ہے۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔