پرائز بانڈ خریدنا اور رکھنا شرعاً کیسا ہے؟ اور آج کل موبائل ایپس اور دکانوں کی انعامی اسکیموں — مثلاً خریداری پر کوپن اور قرعہ اندازی، پوائنٹس کے بدلے اسپن وہیل، اور مخصوص رقم کی خریداری پر بڑے انعامات کی پیشکش — میں حصہ لینے کا کیا حکم ہے؟
پرائز بانڈ درحقیقت ریاست کو دیا ہوا قرض ہے جس کے ساتھ قرعہ اندازی کے ذریعے انعام کی شرط لگی ہوئی ہے۔ اس میں دو بنیادی خرابیاں جمع ہیں: لہٰذا پرائز بانڈ خریدنا، رکھنا اور اس کا انعام لینا جائز نہیں۔
الجواب وباللہ التوفیق:
۱۔ پرائز بانڈ کی حقیقت اور حکم:
پرائز بانڈ درحقیقت ریاست کو دیا ہوا قرض ہے جس کے ساتھ قرعہ اندازی کے ذریعے انعام کی شرط لگی ہوئی ہے۔ اس میں دو بنیادی خرابیاں جمع ہیں:
لہٰذا پرائز بانڈ خریدنا، رکھنا اور اس کا انعام لینا جائز نہیں۔ جس کے پاس پہلے سے موجود ہوں وہ اصل رقم نکلوا کر اس سے نکل آئے، اور اگر انعام مل چکا ہو تو اسے ذاتی استعمال میں لانے کے بجائے فقراء پر صدقہ کر دے، کیونکہ حرام طریقے سے حاصل شدہ مال سے خلاصی کا یہی شرعی راستہ اہلِ علم نے بتایا ہے۔
۲۔ انعامی ایپس اور دکانوں کی اسکیمیں:
ان کی تین صورتیں ہیں:
(الف) داخلے کے لیے ادائیگی کرنا: اگر قرعہ اندازی یا اسپن میں شامل ہونے کے لیے رقم دینی پڑے — خواہ موبائل بیلنس کٹوتی ہو، مہنگی ایس ایم ایس ہو، ایپ کے اندر سکے خریدنے ہوں یا انٹری فیس ہو — تو یہ خالص قمار ہے اور حرام ہے؛ کیونکہ آدمی مال داؤ پر لگا کر یا تو سب کھوتا ہے یا دوسروں کا مال پاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جو شخص نردشیر (چوسر) کھیلے گویا اس نے اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت اور خون میں ڈبویا» (صحیح مسلم: ۲۲۶۰)۔
(ب) خریداری سے مشروط قرعہ اندازی: اس میں معاصر اہلِ علم کے دو موقف ہیں۔ لجنہ دائمہ اور شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جائز نہیں، کیونکہ اس میں میسر اور غرر ہے، آدمی اصل خریداری کے بجائے انعام کی لالچ میں خریدتا ہے اور یہ لوگوں کے مال کو باطل طریقے سے کھانے کی صورت ہے (فتاویٰ اللجنہ الدائمہ: ۱۵/۱۹۱، ۱۵/۱۹۵؛ اور مجلسِ کبار علماء کا فیصلہ نمبر ۱۶۲ بھی اسی مفہوم پر ہے)۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے دو سخت شرطوں کے ساتھ گنجائش دی ہے: پہلی یہ کہ انعام کی وجہ سے اشیاء کی قیمت نہ بڑھائی گئی ہو؛ دوسری یہ کہ خریدار اصلًا اپنی ضرورت کی چیز خرید رہا ہو، محض انعام کی خاطر نہ خریدے۔ ہمارے نزدیک راجح اور احوط موقف لجنہ دائمہ کا ہے؛ اور جہاں قیمت بڑھا کر یا غیر ضروری خریداری کرا کر انعام کا لالچ دیا جائے وہاں حرمت بالکل واضح ہے، کیونکہ وہاں خریدار یا تو نقصان اٹھاتا ہے یا اتفاقی نفع پاتا ہے — یہی قمار کی حقیقت ہے۔
(ج) مکمل مفت داخلہ: جس اسکیم میں نہ خریداری شرط ہو نہ کوئی ادائیگی، اور شرکت محض مفت ہو، اس میں اپنا مال داؤ پر نہیں لگتا اس لیے قمار کی صورت نہیں بنتی؛ تاہم ایسی لالچ بھری فضا میں وقت ضائع کرنا اور اس کے پیچھے دوڑنا ایک مسلمان کے شایانِ شان نہیں۔
مقاصدی تنبیہ: شریعت نے مال کی حفاظت کو اپنے بنیادی مقاصد میں رکھا ہے اور مال کمانے کو محنت، تجارت اور جائز اسباب سے جوڑا ہے۔ قمار اسی نظام کو الٹ دیتا ہے: یہ مال کو اتفاق کے حوالے کر کے دلوں میں حرص، حسرت اور باہمی عداوت پیدا کرتا ہے — یہی وہ مفاسد ہیں جن کی طرف سورۃ المائدہ کی آیت ۹۱ نے اشارہ کیا ہے۔