بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 067
موضوع: معاملات، تجارت و ملازمت
تاریخ: 5 نومبر 2026 — ہجری: 24 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

آج کل ایپس اور کمپنیاں یہ سہولت دیتی ہیں کہ چیز ابھی لے لو اور قیمت بعد میں تین چار اقساط میں ادا کر دو؛ نقد قیمت وہی رہتی ہے، لیکن اگر کسی قسط میں تاخیر ہو جائے تو جرمانہ (لیٹ فیس) عائد ہوتا ہے۔ کیا ایسی ایپس کے ذریعے خریداری جائز ہے؟

الجواب
مختصر جواب

ادھار اور اقساط پر خریدنا بذاتِ خود جائز ہے، اور اگر عقد کے وقت ایک ہی متعین قیمت پر اتفاق ہو گیا ہو تو نقد کے مقابلے میں زیادہ قیمت لینا بھی جائز ہے۔ ناجائز چیز قیمت کی مقدار نہیں، بلکہ قرض پر تاخیر کے بدلے اضافہ ہے۔

الجواب وباللہ التوفیق:

۱۔ پہلے اصل مسئلہ الگ کر کے سمجھیں:

ادھار اور اقساط پر خریدنا بذاتِ خود جائز ہے، اور اگر عقد کے وقت ایک ہی متعین قیمت پر اتفاق ہو گیا ہو تو نقد کے مقابلے میں زیادہ قیمت لینا بھی جائز ہے۔ ناجائز چیز قیمت کی مقدار نہیں، بلکہ قرض پر تاخیر کے بدلے اضافہ ہے۔

۲۔ BNPL کی اصل صورت اور تاخیر کے جرمانے کا حکم:

ان ایپس کی عام صورت یہ ہے کہ کمپنی دکان دار کو قیمت ادا کر کے گاہک کو اپنی طرف مدین بنا لیتی ہے؛ اب گاہک کے ذمے قیمتِ مبیع نہیں بلکہ قرض ہے۔ اس قرض کی ادائیگی میں تاخیر پر جو اضافہ — لیٹ فیس یا جرمانہ — لیا جاتا ہے، وہ صریح سود ہے، اور یہی وہ ربا الجاہلیہ ہے جس کی حرمت پر قرآن نازل ہوا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (سورۃ البقرہ: ۲۷۵)، اور فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ (سورۃ البقرہ: ۲۷۸)۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اس کے لکھنے والے اور دونوں گواہوں پر لعنت فرمائی ہے (صحیح مسلم: ۱۵۹۸)۔

۳۔ اہلِ علم کے فیصلے:

- لجنہ دائمہ (سعودی عرب) کا فتویٰ ہے کہ قسط کی تاخیر پر مقررہ فیصد اضافے کی شرط "باطل شرط ہے؛ کیونکہ یہ ربا الجاہلیہ ہے" (فتاویٰ اللجنہ الدائمہ، فتویٰ نمبر: ۱۸۷۰۶)۔ - لجنہ دائمہ ہی کے ایک اور فتویٰ (نمبر: ۲۹۹۹۸) میں یہ بھی ہے کہ یہ اضافہ اگر خیرات میں صرف کرنے کے لیے رکھا جائے تب بھی سود ہی رہتا ہے، اور جن دکانوں و کمپنیوں کے معاہدوں میں یہ شرط شامل ہو، ان سے خریداری اس شخص کے لیے بھی جائز نہیں جو خود کو وقت پر ادائیگی کا یقین رکھتا ہو، کیونکہ ایسا معاہدہ کرنا حرام کی منظوری ہے۔ - اسلامی فقہ اکیڈمی (مجمع الفقہ الإسلامی، جدہ) کا فیصلہ ہے کہ مدین خریدار اقساط میں تاخیر کرے تو اس پر دین سے زائد کوئی رقم لازم کرنا جائز نہیں — پہلے سے شرط ہو یا نہ ہو — کیونکہ یہ حرام سود ہے۔ واضح رہے کہ جرمانے کی شرط (شرطِ جزائی) صرف ان معاہدوں میں ہو سکتی ہے جن میں اصل التزام قرض نہ ہو، مثلاً تعمیر و فراہمی کے ٹھیکے؛ قرض کے معاملے میں یہ عین سود ہے۔

۴۔ تو کیا ہر ایپ کا یہی حکم ہے؟

حکم ہر ایپ کے معاہدے کی شرائط پر لگے گا۔ جس معاہدے میں تاخیر پر کمپنی کے لیے کوئی بھی اضافہ مشروط ہو — چاہے اس کا نام لیٹ فیس ہو، سروس چارج ہو یا کچھ اور — اس میں داخل ہونا جائز نہیں، اگرچہ آپ کو یقین ہو کہ ہمیشہ وقت پر ادا کر دیں گے۔ اور اگر واقعی کسی صورت میں تاخیر پر کوئی اضافہ مشروط نہ ہو تو اس کی تفصیل اہلِ علم کے سامنے رکھ کر حکم لیا جائے؛ نام و اشتہار پر نہیں، تحریری شرائط پر فیصلہ ہوگا۔ مشتبہ معاہدوں سے بچنا ہی دینداری ہے۔

۵۔ جو شخص پہلے سے ایسے معاہدے میں آ چکا ہو:

اصل قرض کی ادائیگی اس کے ذمے ہے، وہ ادا کرے۔ سودی اضافہ دینے سے بچنے کی ہر جائز کوشش کرے، آئندہ ایسے معاہدے سے توبہ و اجتناب کرے، کیونکہ سود دینے والا بھی اسی وعید میں شریک ہے جس کا ذکر اوپر حدیث میں آیا۔

۶۔ مقاصدی تنبیہ:

سود کی حرمت کا ایک بڑا مقصد مال کی حفاظت اور محتاج و کمزور کے استحصال کی روک تھام ہے۔ آج یہی استحصال "سہولت" کے حسین نام سے پیش کیا جا رہا ہے؛ چند دن کی آسانی کے بدلے اپنے مال اور دین دونوں کو خطرے میں ڈالنا عقل مندی نہیں۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔