(۱) روایتی (سودی) بینک میں ملازمت کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟ (۲) کریڈٹ کارڈ رکھنا، اور اس کے ذریعے ملنے والے کیش بیک اور پوائنٹس استعمال کرنا کیسا ہے؟
اللہ تعالیٰ نے سود کو صراحتاً حرام قرار دیا اور اس سے باز نہ آنے والوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان فرمایا (سورۃ البقرہ: ۲۷۵، ۲۷۸–۲۷۹)۔
الجواب وباللہ التوفیق:
۱۔ سود کی سنگینی — بنیادی اصل:
اللہ تعالیٰ نے سود کو صراحتاً حرام قرار دیا اور اس سے باز نہ آنے والوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان فرمایا (سورۃ البقرہ: ۲۷۵، ۲۷۸–۲۷۹)۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے، سود کھلانے والے، اس کے لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا: "یہ سب (گناہ میں) برابر ہیں" (صحیح مسلم: ۱۵۹۸)۔
۲۔ سودی بینک میں ملازمت کا حکم:
اللجنۃ الدائمہ للبحوث العلمیۃ والافتاء کا فتویٰ ہے کہ سودی بینک میں ملازمت جائز نہیں، خواہ ملازم کا کام براہِ راست سود سے متعلق نہ ہو، کیونکہ بینک کا پورا نظام سود پر قائم ہے اور ہر کارکن کسی نہ کسی درجے میں اسی نظام کی اعانت کرتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ (سورۃ المائدہ: ۲) (فتاویٰ اللجنہ الدائمہ: ۱۵/۴۱)۔ اور جو عہدے براہِ راست سودی لین دین سے متعلق ہوں — قرضوں کی منظوری، سود کا حساب اور اس کا اندراج — ان کی حرمت مزید واضح ہے، کیونکہ حدیث میں سود کے "لکھنے والے" کو بھی لعنت میں شامل کیا گیا ہے۔ بعض معاصر اداروں نے بینک کے بالکل غیر متعلقہ عہدوں میں نرمی کی رائے بھی دی ہے، مگر راجح اور احوط قول یہی ہے کہ سودی بینک کی ملازمت سے اجتناب کیا جائے۔ اس کے برعکس اسلامی بینک یا شریعت کے اصولوں پر چلنے والے مالیاتی ادارے میں ملازمت جائز ہے۔
۳۔ گزشتہ آمدنی کا حکم:
جو شخص حکم سے ناواقفیت کی حالت میں سودی بینک میں ملازمت کرتا رہا، اس کے بارے میں اللجنۃ الدائمہ کا فتویٰ ہے کہ گزشتہ عرصے کے گناہ کی اللہ سے معافی کی امید ہے اور اس دوران حاصل شدہ مال اس کے لیے مسئلہ نہیں، بشرطیکہ حکم معلوم ہوتے ہی وہ ملازمت چھوڑ دے (فتاویٰ اللجنہ الدائمہ: ۱۵/۴۶)۔ لیکن حکم جان لینے کے بعد وہی ملازمت جاری رکھنا جائز نہیں۔
۴۔ کریڈٹ کارڈ کا حکم:
عام کریڈٹ کارڈ کے معاہدے میں ادائیگی میں تاخیر پر سود یا جرمانے کی شرط شامل ہوتی ہے۔ اسلامی فقہ کونسل (مجمع الفقہ الاسلامی الدولی) کے فیصلے کے مطابق ایسا کارڈ لینا اور استعمال کرنا جائز نہیں جس میں سودی شرط پائی جائے، خواہ کارڈ رکھنے والا وقت پر مکمل ادائیگی کا پختہ ارادہ ہی کیوں نہ رکھتا ہو؛ کیونکہ سودی شرط کو قبول کر کے معاہدہ کرنا بذاتِ خود محلِ اعتراض ہے۔ اس کے برعکس ڈیبٹ کارڈ اور پری پیڈ کارڈ جائز ہیں، کیونکہ ان میں صارف اپنے ہی مال سے ادائیگی کرتا ہے اور سودی قرض کی نوبت نہیں آتی۔
۵۔ کیش بیک اور پوائنٹس کا حکم:
جب بنیادی کارڈ ہی ایسے معاہدے پر مبنی ہو جو شرعاً جائز نہیں، تو اس کارڈ کے استعمال سے حاصل ہونے والے کیش بیک اور پوائنٹس کا استعمال بھی جائز نہیں؛ جو فوائد وصول ہو چکے ہوں، انہیں ثواب کی نیت کیے بغیر فقراء و مساکین پر خرچ کر دیا جائے اور کارڈ کا استعمال ترک کر دیا جائے۔ واضح رہے کہ بعض معاصر اہلِ علم نے کیش بیک کو کمپنی کی طرف سے ہبہ (تحفہ) قرار دے کر — بشرطیکہ سود ادا ہی نہ ہوا ہو — اس کی گنجائش دی ہے؛ مگر راجح اور احوط قول پہلا ہی ہے، خصوصاً جبکہ کارڈ کے معاہدے میں سودی شرط موجود ہو۔ البتہ ڈیبٹ یا پری پیڈ کارڈ پر دکان دار یا ادارے کی طرف سے ملنے والے عام تجارتی ڈسکاؤنٹ میں یہ علت نہیں پائی جاتی۔
مقاصدی تنبیہ:
حفظِ مال کا مقصد صرف مال کی حفاظت نہیں، اس کی طہارت بھی ہے؛ سودی نظام کی اعانت معاشرے میں مالی فساد اور استحصال کا ذریعہ بنتی ہے، جبکہ حلال اور طیب رزق ہی میں برکت اور قرار ہے۔ رزق کی تلاش میں حدودِ شرع کی پاسداری خود عبادت ہے۔