بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 103
موضوع: عبادات (نماز، روزہ وغیرہ)
تاریخ: 7 نومبر 2026 — ہجری: 26 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

انڈونیشیا سے ایک سائل (عبداللہ) نے آڈیو پیغام میں دریافت کیا ہے کہ اس کے تایا جان کا انتقال ہو گیا تھا، اور وہ جنازے میں بنفسِ نفیس شریک نہ ہو سکا، تو اس نے ویڈیو کال / لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے دور بیٹھ کر نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ اس نماز کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور اس کے لیے صحیح شرعی راستہ کیا تھا؟

الجواب
مختصر جواب

آپ نے آڈیو میں ویڈیو کال کے ذریعے نمازِ جنازہ پڑھنے کا مسئلہ دریافت کیا ہے۔ قرآن، صحیح احادیث اور فقہائے محدثین کے راجح موقف کی روشنی میں اس کا تفصیلی اور تسلی بخش شرعی حکم درج ذیل ہے:۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، عبداللہ بیٹا! اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے؛ آپ کے تایا جان کی وفات پر ہم دلی تعزیت کرتے ہیں — اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور آپ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

آپ نے آڈیو میں ویڈیو کال کے ذریعے نمازِ جنازہ پڑھنے کا مسئلہ دریافت کیا ہے۔ قرآن، صحیح احادیث اور فقہائے محدثین کے راجح موقف کی روشنی میں اس کا تفصیلی اور تسلی بخش شرعی حکم درج ذیل ہے:

۱۔ ویڈیو کال یا لائیو اسٹریمنگ سے نمازِ جنازہ پڑھنا

ویڈیو کال، لائیو اسٹریمنگ یا ٹی وی پر نشریات دیکھ کر دور بیٹھ کر نمازِ جنازہ پڑھنا شرعاً درست نہیں؛ یہ نماز ادا نہیں ہوتی، کیونکہ اقتدا کی بنیادی شرائط یہاں پائی ہی نہیں جاتیں:

(الف) اتحادِ مکان (ایک جگہ ہونا) شرط ہے: باجماعت نماز — خواہ فرض ہو یا نمازِ جنازہ — کی صحت کے لیے شرط ہے کہ امام اور مقتدی ایک ہی جگہ موجود ہوں اور صفیں آپس میں تسلسل کے ساتھ ملی ہوئی ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اللجنۃ الدائمہ للإفتاء نے گھر بیٹھ کر لاؤڈ اسپیکر یا نشریات کے ذریعے مسجد کے امام کی اقتدا کو ناجائز قرار دیا ہے (فتاویٰ اللجنۃ الدائمہ: 9/218؛ نیز فتویٰ نمبر: 6744 — کہ نشریات سنائی دینے کے باوجود گھر سے اقتدا جائز نہیں)۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "کسی کے لیے ریڈیو یا ٹی وی کے ذریعے امام کی اقتدا جائز نہیں، کیونکہ نمازِ جماعت کا مطلب ہے ایک ہی جگہ پر اکٹھے ہونا؛ چنانچہ نماز ایک ہی جگہ میں ہو اور صفیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہوں۔ ریڈیو یا ٹی وی سے نماز پڑھنا جائز نہیں کیونکہ ان میں یہ شرائط مفقود ہیں؛ اگر اس کی اجازت دے دی جائے تو ہر شخص گھر بیٹھے پانچوں نمازیں، حتیٰ کہ جمعہ بھی، پڑھ لیا کرے۔" (مجموع فتاویٰ ابن عثیمین: 15/213) سینکڑوں یا ہزاروں میل دور بیٹھ کر اسکرین دیکھ کر اقتدا کرنا اسی ممانعت میں داخل ہے۔

(ب) حاضر نمازِ جنازہ کے لیے میت کا سامنے ہونا شرط ہے: نمازِ جنازہ (حاضر) اس نماز کو کہتے ہیں جس میں میت امام کے آگے عملاً موجود ہو؛ آپ کے سامنے میت موجود ہی نہیں تھی، لہٰذا آپ کی پڑھی ہوئی نماز نمازِ جنازہ شمار نہیں ہوتی۔

البتہ چونکہ آپ نے یہ عمل لاعلمی میں، نیک نیتی اور اپنے تایا جان سے محبت کی بنا پر کیا، اس لیے ان شاء اللہ آپ پر کوئی گناہ نہیں — اللہ تعالیٰ نیتوں کا جاننے والا ہے؛ البتہ وہ نماز شرعی نمازِ جنازہ ادا نہیں ہوئی۔

۲۔ صحیح اور مسنون راستہ کیا تھا؟

(الف) انفرادی دعا و استغفار: جو شخص جنازے میں شرکت نہ کر سکے، اس کے لیے شریعت کا سب سے آسان اور پکا راستہ یہ ہے کہ وہ اپنی جگہ بیٹھ کر میت کے لیے خلوصِ دل سے مغفرت، بلندیٔ درجات اور رحمت کی دعا کرے اور حسبِ توفیق صدقہ کرے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ» (جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے: صدقۂ جاریہ، یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے)۔ (صحیح مسلم: 1631)

(ب) نمازِ جنازہ غائبانہ کا اصل حکم: اس مسئلے میں نبی کریم ﷺ کا واحد واقعہ نجاشی (شاہِ حبشہ) کا ہے: آپ ﷺ نے ان کی وفات کی خبر دی، صحابہ کو صفوں میں کھڑا کر کے ان کی غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھی — چار تکبیروں کے ساتھ (صحیح بخاری: 1333؛ صحیح مسلم: 951)۔ اس واقعے کی بنیاد پر اہلِ علم کے اقوال کی تفصیل یہ ہے:

آپ کے تایا جان کے معاملے پر اس کا اطلاق: ان کی نمازِ جنازہ ان کے اپنے شہر میں باقاعدہ مسلمانوں نے پڑھ لی تھی، اس لیے اوپر بیان کردہ راجح تفصیل کے مطابق ان پر دوبارہ غائبانہ نماز مشروع نہیں تھی۔ آپ کے لیے اصل مسنون عمل یہی تھا — اور آئندہ بھی یہی ہے — کہ ان کے لیے کثرت سے دعائے مغفرت کریں اور حسبِ استطاعت صدقہ کریں؛ یہی عمل یقینی طور پر انہیں پہنچتا ہے۔

۳۔ خلاصہ آپ کے لیے

آپ کی ویڈیو کال والی نماز شرعی نمازِ جنازہ ادا نہیں ہوئی، لیکن لاعلمی کی بنا پر گناہ بھی نہیں ہوا۔ اپنے تایا جان کے لیے دعا و استغفار اور صدقہ جاری رکھیں — یہی ان کے حق میں سب سے نافع اور مسنون عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور آپ کو اس غم میں صبر و اجر عطا فرمائے۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔