بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 104
موضوع: عبادات (نماز، روزہ وغیرہ)
تاریخ: 7 نومبر 2026 — ہجری: 26 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

انڈونیشیا سے ایک سائل (عبداللہ) نے آڈیو پیغام میں دریافت کیا ہے کہ اس پر غسل واجب تھا (حالتِ جنابت)، اور بالٹی میں سے مگ وغیرہ اٹھاتے وقت اس کا ہاتھ پانی کے اندر چلا گیا۔ کیا اس سے پانی ناپاک یا ضائع ہو گیا؟ کیا اسے دوسرا پانی لینا پڑے گا اور غسل نئے سرے سے کرنا پڑے گا؟

الجواب
مختصر جواب

آپ نے آڈیو میں غسل کے پانی میں ہاتھ چلے جانے کا مسئلہ دریافت کیا ہے۔ قرآن، صحیح احادیث اور فقہائے محدثین کے راجح موقف کی روشنی میں اس کا تفصیلی اور تسلی بخش شرعی حکم درج ذیل ہے:۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، عبداللہ بیٹا! اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے اور دین و دنیا میں کامیابی عطا فرمائے۔

آپ نے آڈیو میں غسل کے پانی میں ہاتھ چلے جانے کا مسئلہ دریافت کیا ہے۔ قرآن، صحیح احادیث اور فقہائے محدثین کے راجح موقف کی روشنی میں اس کا تفصیلی اور تسلی بخش شرعی حکم درج ذیل ہے:

۱۔ اصل حکم: پانی پاک رہتا ہے، غسل اسی سے درست ہے

اگر غسل واجب ہو اور بالٹی یا برتن سے مگ اٹھاتے وقت ہاتھ پانی کے اندر چلا جائے تو پانی بالکل پاک رہتا ہے، ضائع نہیں ہوتا، اور اسی پانی سے غسل کرنا مکمل طور پر درست اور جائز ہے؛ نہ دوسرا پانی لینے کی ضرورت ہے، نہ غسل دہرانے کی۔

(الف) مومن کا جسم نجس نہیں ہوتا: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حالتِ جنابت میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ سے ملاقات ہوئی تو وہ آہستہ سے کھسک گئے، غسل کر کے آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ابو ہریرہ! تم کہاں تھے؟ انہوں نے عرض کیا: میں جنابت کی حالت میں تھا، اس حالت میں آپ کے ساتھ بیٹھنا مجھے پسند نہ آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «سُبْحَانَ اللهِ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ» (سبحان اللہ! بے شک مومن نجس نہیں ہوتا)۔ (صحیح بخاری: 283؛ صحیح مسلم: 371) جنابت ایک حکمی (شرعی) ناپاکی ہے جس سے نماز وغیرہ رُکی رہتی ہے؛ اس سے انسان کا جسم یا ہاتھ حقیقتاً گندا یا نجس نہیں ہو جاتا۔

(ب) نبی کریم ﷺ اور ام المؤمنین کا اپنا عمل: ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: «كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنْ قَدَحٍ يُقَالُ لَهُ الْفَرَقُ» (میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن — فرق نامی پیالے — سے غسل فرمایا کرتے تھے) (صحیح بخاری: 261)؛ اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے: «كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، تَخْتَلِفُ أَيْدِينَا فِيهِ مِنَ الْجَنَابَةِ» (میں اور رسول اللہ ﷺ جنابت (کے غسل) میں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے اور ہمارے ہاتھ باری باری اس میں پڑتے تھے)۔ (صحیح مسلم: 321) اگر حالتِ جنابت میں برتن کے پانی میں ہاتھ پڑ جانے سے پانی ناپاک یا ناقابلِ استعمال ہو جاتا تو یہ عمل ہی نہ ہوتا۔

(ج) امام بخاری رحمہ اللہ کی ترجمۃ الباب اور صحابہ کا عمل: امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں باب باندھا ہے: «بَابُ هَلْ يُدْخِلُ الْجُنُبُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا، إِذَا لَمْ يَكُنْ عَلَى يَدِهِ قَذَرٌ غَيْرُ الْجَنَابَةِ» (کیا جنبی اپنا ہاتھ دھوئے بغیر برتن میں ڈال سکتا ہے، جبکہ اس کے ہاتھ پر جنابت کے سوا کوئی گندگی نہ ہو؟) اور اس کے تحت ذکر کیا کہ سیدنا ابن عمر اور سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہم نے ہاتھ دھوئے بغیر طہارت کے پانی میں ہاتھ ڈالا پھر وضو کیا، اور سیدنا ابن عمر و ابن عباس رضی اللہ عنہم غسلِ جنابت کے پانی کے چھینٹوں میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ اس باب کی شرح میں فرماتے ہیں کہ صحیح بات یہی ہے کہ شریعت میں «طاہر غیر مطہر» (پاک، مگر پاک کرنے والا نہیں) نام کی کوئی قسم نہیں؛ پانی یا تو طہور ہے یا نجس: نجاست سے اس کی کوئی صفت بدل جائے تو نجس، ورنہ طہور ہی رہتا ہے — لہٰذا جنبی کے ہاتھ ڈالنے سے پانی اپنی طہوریت پر باقی رہتا ہے۔

(د) مستعمل پانی بھی طہور ہے: رہا یہ خیال کہ استعمال شدہ پانی «مستعمل» ہو کر پاک کرنے کے قابل نہیں رہتا، تو راجح قول — جسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اختیار کیا اور شیخ ابن باز و ابن عثیمین رحمہما اللہ نے اسی کی تائید کی — یہ ہے کہ طہارت میں استعمال شدہ پانی بھی طہور (پاک اور پاک کرنے والا) ہی رہتا ہے، جب تک اس میں نجاست سے تبدیلی نہ آئے۔ نبی کریم ﷺ نے خود ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے غسل سے بچے ہوئے پانی سے غسل فرمایا اور اس کی ممانعت کو رد فرمایا (صحیح مسلم: 323)۔

۲۔ پانی کب ناپاک ہوتا ہے؟

اصل قاعدہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: «إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ» (بے شک پانی پاک کرنے والا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی) (سنن ابی داؤد: 66؛ جامع الترمذی: 66 — امام ترمذی نے اسے «حسن صحیح» کہا اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا) — سوائے اس کے کہ نجاست اس کے رنگ، بو یا ذائقے کو بدل دے۔

لہٰذا اگر ہاتھ پر کوئی ظاہری نجاست (مثلاً پیشاب یا پاخانہ) لگی ہو اور اس کی وجہ سے اس تھوڑے پانی کی کوئی صفت (رنگ، بو یا ذائقہ) بدل جائے تو وہ پانی ناپاک ہو جائے گا۔ لیکن صرف ہاتھ کا چھو جانا یا پانی میں چلا جانا — بغیر کسی ظاہری نجاست اور بغیر کسی تبدیلی کے — پانی کو ہرگز ناپاک نہیں کرتا، خواہ پانی تھوڑا ہی کیوں نہ ہو؛ یہی قول شیخ ابن باز رحمہ اللہ کا ہے کہ اگر نیند سے اٹھ کر (دھوئے بغیر) ہاتھ برتن میں ڈال بھی دیا جائے تو «پانی ناپاک نہیں ہوتا اور نہ خراب ہوتا ہے؛ پانی اپنی طہوریت پر باقی رہتا ہے، البتہ اس نے (نہی کی خلاف ورزی کر کے) اچھا نہیں کیا»؛ کیونکہ اصل یہی ہے کہ «پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی»۔

۳۔ ایک متعلق حدیث کی وضاحت — نیند سے اٹھ کر ہاتھ ڈبونا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ» (جب تم میں سے کوئی نیند سے جاگے تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈبوئے یہاں تک کہ اسے تین مرتبہ دھو لے، کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری)۔ (صحیح بخاری: 162؛ صحیح مسلم: 278)

اس حدیث کی مناسبت آپ کے مسئلے سے اس قدر ہے کہ: (۱) یہ حکم نیند سے جاگنے کی حالت کے ساتھ خاص ہے، اور اس کی علت بھی خود حدیث میں بیان ہے — نیند میں ہاتھ کہیں بھی پھر سکتا ہے؛ جبکہ آپ جاگتے ہوئے، جان بوجھ کر اور صاف ہاتھ کے ساتھ غسل کر رہے تھے۔ (۲) اہلِ علم کے نزدیک اس نہی کا مطلب بھی پانی کا ناپاک ہو جانا نہیں — امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے کہ اہلِ علم کا اتفاق ہے کہ اگر (نیند والا) ہاتھ پانی میں ڈال بھی دے تو پانی خراب نہیں ہوتا؛ البتہ نہی کی خلاف ورزی پر وہ خطاکار ہوگا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ (۳) غسل کا مسنون طریقہ بہرحال یہی ہے کہ غسل شروع کرنے سے پہلے دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھو لیے جائیں — سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب جنابت کا غسل فرماتے تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے (صحیح بخاری: 248) — لہٰذا آئندہ احتیاطاً پہلے ہاتھ دھو لیا کریں؛ مگر اگر کبھی ہاتھ پہلے پانی میں چلا بھی جائے تو غسل اور پانی دونوں درست ہیں، وہم کا شکار نہ ہوں۔

۴۔ آخری تنبیہ — وسوسوں سے بچیں

عبداللہ بیٹا! وسوسوں اور وہم پر بالکل دھیان نہ دیں۔ دین میں بڑی وسعت اور آسانی ہے؛ اصل یہی ہے کہ پانی پاک ہے اور مومن کا جسم بھی نجس نہیں ہوتا۔ جو غسل آپ نے اسی پانی سے کر لیا، وہ شرعاً مکمل اور درست ہے — اسے دہرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔