بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 092
موضوع: زکاۃ، قربانی و عقیقہ
تاریخ: 5 نومبر 2026 — ہجری: 24 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

کیا عورت کے زیرِ استعمال سونے کے زیورات پر بھی زکاۃ فرض ہے؟ میں نے سنا ہے کہ پہنے جانے والے زیورات پر زکاۃ نہیں ہوتی۔ اگر زکاۃ ہو تو نصاب کتنا ہے، قیمت کس دن کی لگے گی، اور جن گزشتہ برسوں کی زکاۃ میں نے نہیں دی ان کا کیا حکم ہے؟

الجواب
مختصر جواب

پہنے جانے والے سونے کے زیورات کی زکاۃ میں اہلِ علم کے دو مشہور قول ہیں: - جمہور (مالکیہ، شافعیہ، حنابلہ) کا قول: جو زیور مباح استعمال کے لیے ہو، اس پر زکاۃ نہیں — یہ گھر کے دیگر سامانِ استعمال کی طرح ہے۔

الجواب وباللہ التوفیق:

۱۔ مسئلے کی نوعیت — یہ قدیم مختلف فیہ مسئلہ ہے:

پہنے جانے والے سونے کے زیورات کی زکاۃ میں اہلِ علم کے دو مشہور قول ہیں: - جمہور (مالکیہ، شافعیہ، حنابلہ) کا قول: جو زیور مباح استعمال کے لیے ہو، اس پر زکاۃ نہیں — یہ گھر کے دیگر سامانِ استعمال کی طرح ہے۔ ان کی دلیل بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے آثار ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے گھروں کے زیورات کی زکاۃ نہیں دیتے تھے۔ - احناف اور وجوب کے قائلین کا قول: زیور ہو یا نہ ہو، سونا اپنے اصل کے اعتبار سے مالِ نامی ہے؛ جب نصاب کو پہنچے اور سال گزرے تو زکاۃ فرض ہے۔ اس دار الافتاء کے نزدیک دلائل کی روشنی میں دوسرا قول راجح ہے، جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔ یہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ اور اللجنۃ الدائمہ کا بھی اختیار کردہ موقف ہے — لجنہ کے فتویٰ (نمبر ۱۵۲۱) میں صراحت ہے کہ عورت کے زیورات، پہننے کے لیے ہوں یا ادھار دینے کے لیے، سونا ہوں یا چاندی، ان میں زکاۃ واجب ہے، کیونکہ وہ کتاب و سنت کی ان عمومی دلیلوں کے تحت آتے ہیں جو سونے چاندی میں زکاۃ کو واجب کرتی ہیں۔

۲۔ راجح قول کی دلیلیں:

- اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ (سورۃ التوبہ: ۳۴) — یہ عموم سونے کی ہر صورت کو شامل ہے؛ زیور کو اس سے خارج کرنے کی کوئی صریح دلیل نہیں۔ - حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت اپنی بیٹی کے ساتھ حاضر ہوئی، بچی کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے کنگن تھے۔ نبی ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم ان کی زکاۃ دیتی ہو؟“ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: ”کیا تمہیں پسند ہے کہ اللہ قیامت کے دن تمہیں ان کے بدلے آگ کے دو کنگن پہنائے؟“ یہ سن کر اس نے دونوں کنگن اتار کر پیش کر دیے (سنن ابی داؤد: ۱۵۶۳؛ حسن عند البانی رحمہ اللہ)۔ یہ واقعہ زیور ہی سے متعلق ہے اور استعمال کا عذر اس میں قبول نہیں کیا گیا۔ - حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سونے کے اوضاح (زیور) پہنتی تھیں؛ انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا یہ کنز (خزانہ) ہے؟ فرمایا: ”جو مال نصاب کو پہنچے اور اس کی زکاۃ ادا کر دی جائے، وہ کنز نہیں“ (سنن ابی داؤد: ۱۵۶۴) — یعنی زیور بھی نصاب پر آئے تو زکاۃ سے ہی کنز کے حکم سے نکلتا ہے۔

۳۔ نصاب، مقدار اور قیمت کا طریقہ:

سونے کا نصاب بیس مثقال ہے — ساڑھے سات تولے، یعنی تقریباً ۸۵ گرام خالص سونا۔ جس خاتون کے پاس اس مقدار یا اس سے زیادہ سونا ہو — زیور ہو یا کسی اور صورت میں، یا سونا و نقدی و مالِ تجارت ملا کر نصاب بنتا ہو — اور اس پر قمری سال گزر جائے تو اس پر ڈھائی فیصد (ربع العشر) زکاۃ فرض ہے۔ قیمت اس دن کی لگے گی جس دن زکاۃ واجب ہوئی (سال مکمل ہونے کا دن)، موجودہ بازار نرخ کے مطابق، خریداری قیمت نہیں دیکھی جائے گی۔ زکاۃ نقد رقم سے ادا کی جا سکتی ہے؛ ضروری نہیں کہ زیور ہی سے نکالی جائے۔ اگر نقدی نہ ہو تو زیور کا کچھ حصہ بیچ کر ادا کرے، یا شوہر وغیرہ اس کی اجازت سے اس کی طرف سے ادا کر دیں تو جائز ہے۔

۴۔ گزشتہ برسوں کی زکاۃ:

- جو خاتون یہ جانتی تھی کہ زیورات پر زکاۃ ہے پھر بھی ادا نہیں کی، وہ گزشتہ تمام برسوں کی زکاۃ اب ادا کرے — یہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ کی تصریح ہے (مجموع فتاویٰ: ۱۴/۱۱۲ وما بعد)۔ - جو لاعلمی میں نہیں دیتی رہی اور اسے اس قول کا علم ہی نہیں تھا، تو علم ہونے کے بعد آئندہ ہر سال ادا کرے؛ جس مسئلے میں اہلِ علم کا اختلاف معروف ہو اس میں لاعلمی کی مدت کے بارے میں شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے آئندہ سے ادائیگی ہی کو لازم قرار دیا ہے۔ پس سائلہ آج سے پابندی کرے اور توبہ کرے — یہی اس کے مال کی پاکیزگی ہے۔

مقاصدی تنبیہ: زکاۃ مال کی حفاظت اور فقیروں کا حق ہے؛ زیور عورت کی زینت ضرور ہے، مگر جب وہ نصاب جیسا ذخیرہ بن جائے تو اس میں محتاجوں کا حق پیدا ہو جاتا ہے۔ زکاۃ ادا کرنے سے مال کم نہیں ہوتا، پاک اور محفوظ ہوتا ہے۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔