بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 093
موضوع: معاملات، تجارت و ملازمت
تاریخ: 5 نومبر 2026 — ہجری: 24 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

کیا آج کی مروجہ "اسلامی بینکاری" واقعی حلال ہے؟ میزان بینک وغیرہ کے ہوم فنانس (مشارکہ متناقصہ) میں جب منافع کی شرح KIBOR سے جڑی ہو اور ماہانہ قسط روایتی سودی قرض جتنی ہی بنتی ہو تو اصل فرق کہاں رہا؟ کیا ان اداروں سے معاملہ کرنا جائز ہے؟

الجواب
مختصر جواب

۱۔ بنیادی اصول — شریعت نام نہیں، عقد کی حقیقت دیکھتی ہے: سود کی حرمت قطعی اور اجماعی ہے: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (سورۃ البقرہ: ۲۷۵)۔

الجواب وباللہ التوفیق:

۱۔ بنیادی اصول — شریعت نام نہیں، عقد کی حقیقت دیکھتی ہے:

سود کی حرمت قطعی اور اجماعی ہے: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (سورۃ البقرہ: ۲۷۵)۔ کسی معاملے پر "اسلامی" کا بورڈ لگ جانے سے وہ حلال نہیں ہو جاتا، اور نہ محض مشابہت سے ہر معاملہ حرام ہو جاتا ہے؛ فیصلہ اس پر ہوگا کہ معاہدہ درحقیقت کس شرعی عقد پر قائم ہے اور اس کی شرائط واقعۃً پوری ہوتی ہیں یا نہیں۔ پس اس دار الافتاء کا موقف نہ بلا قید سب کو حلال کہنا ہے، نہ سب کو سود کا دوسرا نام؛ حکم ہر پروڈکٹ کی اصل ساخت کے مطابق ہوگا۔

۲۔ مشارکہ متناقصہ (ہوم فنانس) کی ساخت اور اس کی شرائط:

اس پروڈکٹ کی اصل ساخت یہ ہے کہ بینک اور صارف گھر میں مشترکہ ملکیت (شرکت الملک) رکھتے ہیں؛ بینک کا حصہ یونٹس میں تقسیم ہوتا ہے؛ صارف بینک کے حصے پر کرایہ ادا کرتا ہے اور ہر ماہ کچھ یونٹس خریدتا جاتا ہے، یہاں تک کہ پورا گھر اس کا ہو جاتا ہے؛ بینک کا حصہ گھٹنے سے کرایہ بھی گھٹتا جاتا ہے۔ بین الاقوامی فقہ اکیڈمی (المجمع الفقہی الاسلامی الدولی) نے اپنے پندرہویں اجلاس (مسقط، ۲۰۰۴ء) کی قرارداد نمبر ۱۳۶ (۲/۱۵) میں اس عقد کو ان شرائط کے ساتھ جائز قرار دیا ہے: بینک یونٹس اصل قیمت پر واپس خریدنے کا پابند نہ ہو — یونٹ کی قیمت دنِ فروخت کی بازاری یا متفقہ قیمت ہو، تاکہ سرمایہ کی ضمانت لازم نہ آئے؛ بیمہ و مرمت کے اخراجات ملکیت کے تناسب سے ہوں؛ منافع سرمایے کے فیصد یا متعین رقم کی صورت میں طے نہ ہو؛ اور مشارکت، کرایہ و فروخت کے معاہدے باہم آزاد رکھے جائیں۔ جہاں یہ شرائط حقیقتاً پوری ہوں، عقد شرعاً درست ساخت رکھتا ہے؛ اور جہاں سرمایہ و متعین منافع کی ضمانت داخل کر دی جائے، وہاں یہ مشارکت نہیں رہتی، قرض بن جاتی ہے۔

۳۔ مرابحہ کی فیصلہ کن شرط — ملکیت و قبضہ:

کار و دیگر خریداری کی فنانسنگ میں اصل امتحان یہ ہے کہ بینک پہلے خود وہ چیز خرید کر اس کی ملکیت اور قبضہ حاصل کرے، پھر نفع کے ساتھ صارف کو بیچے۔ نبی ﷺ نے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جو چیز تمہارے قبضے میں نہیں، اسے مت بیچو“ (مسند احمد: ۱۵۳۹۹؛ سنن النسائی: ۴۶۱۳؛ صحیح عند الالبانی، صحیح الجامع: ۳۴۲)۔ اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ خریدی ہوئی چیز کو وہیں دوبارہ بیچنا منع ہے جب تک تاجر اسے اپنے ٹھکانے تک منتقل نہ کر لیں (سنن ابی داؤد: ۳۴۹۹)۔ لہٰذا اگر بینک حقیقی خرید و قبضہ کے بغیر محض چیک جاری کر دے اور صارف سے مقررہ اضافے کے ساتھ قسطیں لے، تو یہ مرابحہ نہیں، اپنے نام کے سوا سودی قرض ہی ہے۔ اسی اصول پر بین الاقوامی فقہ اکیڈمی نے اپنے انیسویں اجلاس (شارجہ، ۲۰۰۹ء) کی قرارداد نمبر ۱۷۹ (۱۹/۵) میں منظم تورق (Organized Tawarruq) کو ناجائز قرار دیا ہے، کیونکہ وہ ظاہری خرید و فروخت کے پردے میں حقیقتاً سود پر مبنی قرض ہے۔

۴۔ KIBOR بینچ مارکنگ کا مسئلہ:

یہ اعتراض وزن رکھتا ہے کہ قیمت کا تعین سودی شرح سے جوڑنا نظام کی کمزوری ہے۔ تاہم راجح تصریح یہ ہے کہ اگر عقد حقیقی بیع یا مشارکت ہو تو محض حسابی پیمانے (بینچ مارک) کے طور پر سودی شرح کا استعمال اسے بذاتِ خود حرام نہیں کرتا؛ البتہ یہ ناپسندیدہ مشابہت ہے جسے اسلامی بینکوں کو جلد از جلد ترک کر کے اپنا آزاد شرعی پیمانہ وضع کرنا چاہیے — یہی مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی تصریح ہے (An Introduction to Islamic Finance)۔ پس KIBOR سے جڑاؤ عقد کی صحت کا نہیں، نظام کی اصلاح کا مسئلہ ہے؛ اصل سوال ہمیشہ ساخت و شرائط کی درستگی ہی رہے گا۔

۵۔ نتیجہ و عملی رہنمائی:

اداروں پر شخصی حملہ اس فتوے کا موضوع نہیں؛ اصول یہ ہے کہ مسلمان معاملے سے پہلے معاہدہ پڑھے۔ جہاں پروڈکٹ درج بالا شرائط پر واقعۃً قائم ہو — حقیقی ملکیت، حقیقی خطرہ، ضمانتِ سرمایہ کی عدم موجودگی — وہاں فقہ اکیڈمیوں کے معیار کے مطابق معاملہ کی گنجائش ہے۔ اور جہاں معلوم ہو کہ یہ محض کاغذی صورت ہے اور حقیقت طے شدہ اضافے والا قرض ہے، وہاں اجتناب لازم ہے، خواہ نام کوئی بھی چسپاں ہو۔ شک کی صورت میں معاہدے کی نقل لے کر مستند عالم یا شریعہ بورڈ سے رجوع کیا جائے۔

مقاصدی تنبیہ: اسلامی مالیات کا مقصد صرف سود کا نام بدلنا نہیں، بلکہ مال کی گردش کو حقیقی تجارت، ملکیت اور خطرے کی شراکت پر قائم کرنا ہے۔ صارف کا یہ حق ہے کہ وہ بینک سے اپنے معاہدے کی شرعی ساخت پوچھے؛ اور بینکوں پر فرض ہے کہ وہ صورت کے ساتھ حقیقت بھی درست کریں۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔