بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
فتویٰ نمبر 01
موضوع: معاملات، تجارت و ملازمت
تاریخ: 4 نومبر 2026 — ہجری: 23 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

کال سینٹر میں لائف، گاڑی یا گھر کی کمرشل انشورنس پالیسیاں بیچنے، غیر مسلم ممالک میں کلائنٹس کو کال کر کے راغب کرنے اور اس جاب سے حاصل ہونے والی آمدنی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

الجواب
مختصر جواب

اسلامی فقہ اکیڈمی (جدہ) اور جمہور معاصر اہلِ علم کے متفقہ فیصلے کے مطابق مروجہ کمرشل انشورنس (خواہ وہ زندگی کی ہو، گاڑی کی ہو یا جائیداد کی) شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔

الجواب وباللہ التوفیق:

۱۔ مروجہ کمرشل انشورنس کی شرعی حیثیت:

اسلامی فقہ اکیڈمی (جدہ) اور جمہور معاصر اہلِ علم کے متفقہ فیصلے کے مطابق مروجہ کمرشل انشورنس (خواہ وہ زندگی کی ہو، گاڑی کی ہو یا جائیداد کی) شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔ اس کے حرام ہونے کی تین بنیادی وجوہات ہیں:

۲۔ غیر مسلموں کو انشورنس پالیسی بیچنے کا حکم:

کال سینٹرز میں یہ مغالطہ دیا جاتا ہے کہ چونکہ کلائنٹس غیر مسلم ہیں اس لیے ان کو انشورنس بیچنا جائز ہے۔ شرعی اعتبار سے یہ بات درست نہیں:

۳۔ کم عمر افراد کو ٹارگٹ کرنا:

کم عمر افراد کو خاص طور پر تلاش کرنا تاکہ وہ طویل عرصے تک قسطیں بھرتے رہیں، انشورنس کمپنیوں کے تجارتی استحصال کا حصہ ہے، جس کی ترویج کرنا ایک مسلمان کے شایانِ شان نہیں۔

۴۔ کال سینٹر میں اس نوکری اور تنخواہ کا حکم:

اگر کسی ملازم کا بنیادی کام ہی لوگوں کو کال کر کے انشورنس کی پالیسیاں بیچنا، ان کے معاہدے کروانا اور ان پر کمیشن یا تنخواہ لینا ہے، تو یہ ملازمت شرعاً ناجائز ہے اور اس کی آمدنی حلال و طیب رزق کے زمرے میں نہیں آتی۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔