وٹہ سٹہ (شغار) کے مکمل شرعی احکامات کیا ہیں؟ اس کی تعریف، اقسام، ممانعت کی دلائل، نکاح کی صحت، مہر کا حکم، اور اگر ایسا نکاح ہو جائے تو اس کا شرعی حل کیا ہے؟
1۔ تعریف: شغار کا لغوی معنی کسی چیز کو اونچا اٹھانا یا خالی کر دینا۔
1۔ تعریف: شغار کا لغوی معنی کسی چیز کو اونچا اٹھانا یا خالی کر دینا۔ اصطلاح میں: دو خاندان معاہدہ کریں کہ ایک اپنی بیٹی/بہن/زیرِ کفالت لڑکی کا نکاح دوسرے کے لڑکے سے اس شرط پر کرے کہ دوسرا اپنی بیٹی/بہن کا نکاح پہلے کے لڑکے سے کرے گا، اور دونوں نکاحوں میں کوئی شرعی مہر مقرر نہ ہو — ایک لڑکی کا نکاح ہی دوسری کی قیمت و بدل بن جائے۔
2۔ ممانعت کے دلائل: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شغار سے منع فرمایا (صحیح بخاری و مسلم)؛ دوسری روایت: "اسلام میں شغار نہیں ہے" (صحیح مسلم)۔ وجہ: لڑکیوں کے مہر کا حق ضائع ہوتا ہے اور نکاح تجارت و تبادلے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
3۔ اقسام: (الف) مہر کے بغیر وٹہ سٹہ — واضح و متفقہ حرام۔ (ب) مہر کے ساتھ مگر ایک نکاح دوسرے کی شرط — جمہور کے نزدیک مکروہ و ناپسندیدہ (رضامندی و آزادی متاثر ہوتی ہے)؛ اگر دونوں نکاح مکمل آزادانہ ہوں، مہر مقرر ہو، کوئی شرط نہ ہو تو محض دو خاندانوں میں دو رشتے وٹہ سٹہ نہیں — جائز ہے۔
4۔ نکاح ہو جائے تو: (پہلا موقف — جمہور احناف، مالکیہ، شوافع) نکاح فاسد؛ خلوت ہو چکی ہو تو مہرِ مثل لازم؛ الگ کر کے چاہیں تو نیا نکاح شرعی مہر سے دوبارہ کریں۔ (دوسرا موقف — بعض حنابلہ) نکاح منعقد، شرط باطل؛ عورت کو مہرِ مثل ملے گا، نکاح برقرار، شرط ختم کرنی ہوگی۔
5۔ بچنے کا طریقہ: ہر نکاح دوسرے سے مکمل آزاد؛ ہر لڑکی کا مہر الگ مقرر؛ لڑکی کی آزادانہ رضامندی؛ دو رشتے ہوں تو الگ الگ فیصلے، ایک کی منظوری دوسرے پر موقوف نہ ہو۔
خلاصہ: وٹہ سٹہ اسلام میں حرام ہے — نکاح کی حرمت اور عورت کے حقوق کے خلاف ہے۔