بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 028
موضوع: نکاح، طلاق و خاندانی مسائل
تاریخ: 26 اپریل 2026 — ہجری: 9 ذوالقعدہ 1447ھ
سوال

اگر کوئی لڑکا یا لڑکی کسی مسیحی یا یہودی سے نکاح کرے جبکہ نکاح سے پہلے شرط ہو کہ شادی کے بعد وہ اپنے اپنے مذہب پر قائم رہیں گے، تو کیا نکاح ہو سکتا ہے؟ کتابی عورتوں کے ساتھ نکاح کی اس صورت کا حکم کیا ہے اور ایسی شرط لگانا جائز ہے؟

الجواب
مختصر جواب

1۔ مسلمان مرد کا کتابی عورت سے نکاح: جائز — "وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ" (سورۃ المائدہ: 5)، بشرطیکہ عورت پاکدامن و اپنے مذہب کی پابند ہو۔

1۔ مسلمان مرد کا کتابی عورت سے نکاح: جائز — "وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ" (سورۃ المائدہ: 5)، بشرطیکہ عورت پاکدامن و اپنے مذہب کی پابند ہو۔

2۔ مسلمان عورت کا کتابی مرد سے نکاح: حرام و باطل — "وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤْمِنُوا" (سورۃ البقرہ: 221)۔ حکمت: گھر کی سربراہی مرد کے پاس ہوتی ہے اور بچوں کی تربیت عموماً باپ کے مذہب پر ہوتی ہے — مسلمان عورت کے دین و بچوں کے ایمان کے لیے خطرہ۔

3۔ شرط کا حکم: مرد و کتابی عورت کے نکاح میں عورت کے اپنے مذہب پر رہنے کی شرط نکاح کو باطل نہیں کرتی (یہ حق اسے پہلے سے حاصل ہے؛ اسے اسلام پر مجبور نہیں کیا جا سکتا)۔ البتہ اگر شرط اسلام کی دعوت یا بچوں کی اسلامی تربیت میں رکاوٹ بنے تو وہ شرط باطل ہے۔ مسلمان عورت و کتابی مرد کے نکاح میں — نکاح ہی حرام ہے، کوئی شرط اسے حلال نہیں بنا سکتی۔

خلاصہ: مرد پاکدامن یہودی/مسیحی عورت سے نکاح کر سکتا ہے اور مذہب پر قائم رہنے کی شرط (دعوت و تربیت میں رکاوٹ نہ بنے تو) نکاح باطل نہیں کرتی؛ مسلمان عورت کا کتابی مرد سے نکاح کسی شرط کے ساتھ بھی جائز نہیں۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔