اگر کوئی لڑکا یا لڑکی کسی مسیحی یا یہودی سے نکاح کرے جبکہ نکاح سے پہلے شرط ہو کہ شادی کے بعد وہ اپنے اپنے مذہب پر قائم رہیں گے، تو کیا نکاح ہو سکتا ہے؟ کتابی عورتوں کے ساتھ نکاح کی اس صورت کا حکم کیا ہے اور ایسی شرط لگانا جائز ہے؟
1۔ مسلمان مرد کا کتابی عورت سے نکاح: جائز — "وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ" (سورۃ المائدہ: 5)، بشرطیکہ عورت پاکدامن و اپنے مذہب کی پابند ہو۔
1۔ مسلمان مرد کا کتابی عورت سے نکاح: جائز — "وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ" (سورۃ المائدہ: 5)، بشرطیکہ عورت پاکدامن و اپنے مذہب کی پابند ہو۔
2۔ مسلمان عورت کا کتابی مرد سے نکاح: حرام و باطل — "وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤْمِنُوا" (سورۃ البقرہ: 221)۔ حکمت: گھر کی سربراہی مرد کے پاس ہوتی ہے اور بچوں کی تربیت عموماً باپ کے مذہب پر ہوتی ہے — مسلمان عورت کے دین و بچوں کے ایمان کے لیے خطرہ۔
3۔ شرط کا حکم: مرد و کتابی عورت کے نکاح میں عورت کے اپنے مذہب پر رہنے کی شرط نکاح کو باطل نہیں کرتی (یہ حق اسے پہلے سے حاصل ہے؛ اسے اسلام پر مجبور نہیں کیا جا سکتا)۔ البتہ اگر شرط اسلام کی دعوت یا بچوں کی اسلامی تربیت میں رکاوٹ بنے تو وہ شرط باطل ہے۔ مسلمان عورت و کتابی مرد کے نکاح میں — نکاح ہی حرام ہے، کوئی شرط اسے حلال نہیں بنا سکتی۔
خلاصہ: مرد پاکدامن یہودی/مسیحی عورت سے نکاح کر سکتا ہے اور مذہب پر قائم رہنے کی شرط (دعوت و تربیت میں رکاوٹ نہ بنے تو) نکاح باطل نہیں کرتی؛ مسلمان عورت کا کتابی مرد سے نکاح کسی شرط کے ساتھ بھی جائز نہیں۔