کیا فرض نمازوں کے بعد امام اور مقتدیوں کا باقاعدہ ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا مانگنا بدعت ہے؟ اور اگر یہ اجتماعی دعا روزانہ کے بجائے صرف جمعہ کی نماز کے بعد کی جائے، تو کیا اس کا بھی یہی حکم ہوگا؟ قرآن و سنت اور فہمِ سلف کی روشنی میں مدلل رہنمائی فرما دیں۔
پنج وقتہ فرض نمازوں کے بعد، یا صرف جمعہ کے بعد، امام و مقتدیوں کا ایک ہیئت پر جمع ہو کر مستقل و باقاعدہ اجتماعی دعا کو معمول بنا لینا ثابت نہیں ہے؛ اسے نماز کا لازمی حصہ یا سنت سمجھ کر اپنانا بدعتِ اضافی (غیر مسنون طریقہ) ہے۔
پنج وقتہ فرض نمازوں کے بعد، یا صرف جمعہ کے بعد، امام و مقتدیوں کا ایک ہیئت پر جمع ہو کر مستقل و باقاعدہ اجتماعی دعا کو معمول بنا لینا ثابت نہیں ہے؛ اسے نماز کا لازمی حصہ یا سنت سمجھ کر اپنانا بدعتِ اضافی (غیر مسنون طریقہ) ہے۔
1۔ نبوی و صحابہ کا طریقہ: نبی ﷺ نے تقریباً دس سال مدینہ میں پنج وقتہ و جمعہ پڑھائے؛ بعد از نماز جو چیز قطعی و تواتر سے ثابت ہے وہ انفرادی اذکار ہیں (تین بار استغفار، "اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْكَ السَّلاَمُ..."، آیت الکرسی، 33/33/33 تسبیحات)۔ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں کہ آپ ﷺ سلام کے بعد مقتدیوں کی طرف ہاتھ اٹھا کر باقاعدہ اجتماعی دعا فرماتے اور صحابہ آمین کہتے — روزانہ پانچ وقت ہزاروں صحابہ کے سامنے ہونے والا عمل ہوتا تو احادیث میں بکثرت ذکر ملتا۔
2۔ صرف جمعہ کے بعد: پھر بھی درست نہیں — جس ہیئت کی تخصیص نبی ﷺ و صحابہ نے نہیں فرمائی اسے اپنی طرف سے خاص دن سے جوڑنا درست نہیں۔ جمعہ میں قبولیت کی ساعت ضرور ہے مگر راجح وقت عصر کے بعد تا غروب، یا خطبہ و نماز کے دوران ہے؛ جمعہ کے فوراً بعد مائیک پر اجتماعی دعا نہ نبی ﷺ سے ثابت، نہ خلفائے راشدین سے۔
3۔ ائمہ کا موقف: ابن تیمیہ رحمہ اللہ: نبی ﷺ اور خلفاء نے نماز کے بعد مقتدیوں کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا نہیں کی — نہ فجر، نہ عصر، نہ کسی نماز کے بعد؛ آپ کی دعا نماز کے اندر ہوتی تھی؛ نماز کے بعد مستقل اجتماعی دعا بدعت ہے (مجموع الفتاویٰ: 22/513)۔ امام شاطبی (الاعتصام): اس رواج کو "بدعتِ اضافی" قرار دیا۔
4۔ دعا کا افضل مقام: دعا عبادت کا مغز ہے؛ افضل و مسنون مقام نماز کے اندر ہے — سجدے میں اور تشہد میں سلام سے پہلے۔ انفرادی طور پر کبھی کبھار اذکار کے بعد یا سنت/نفل کے بعد تنہائی میں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے میں کوئی حرج نہیں — خرابی صرف مستقل اجتماعی ہیئت و پابندی بنانے میں ہے۔
خلاصہ: باقاعدہ مائیک پر امام کی اجتماعی دعا و مقتدیوں کا لازمی آمین سنت سے ثابت نہیں؛ مسنون طریقہ سلام کے بعد انفرادی اذکار و تسبیحات کا اہتمام ہے۔