بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 045
موضوع: معاملات، تجارت و ملازمت
تاریخ: 6 اگست 2026 — ہجری: 21 صفر 1448ھ
سوال

(رومن اردو ویڈیو اسکرپٹ +) اس کا شرعی حکم بتائیں — اور پھر علیحدہ فالو اپ میں عملی طریقہ بھی پوچھا گیا۔

الجواب
مختصر جواب

میڈیکل کوڈنگ و بلنگ کی خدمت اور اس کی اجرت اصولی طور پر جائز و حلال ہے — "اجارہ علی الاعمال" (جائز محنت و مہارت کی اجرت)۔

جواب (الف) — شرعی حکم

میڈیکل کوڈنگ و بلنگ کی خدمت اور اس کی اجرت اصولی طور پر جائز و حلال ہے — "اجارہ علی الاعمال" (جائز محنت و مہارت کی اجرت)۔

حقیقت: مریض کی بیماری، تشخیص و علاج کی تفصیل کو عالمی کوڈز (ICD, CPT, HCPCS) میں بدل کر انشورنس کمپنی کو بل تیار کر کے بھیجنا — خالص انتظامی/تکنیکی/کلریکل کام، طبی فیصلے سے براہِ راست تعلق نہیں۔

جواز کی وجوہات: جائز مہارت کی اجرت (نہ سود، نہ جوا، نہ حرام کی بیع)؛ باہمی معاہدہ (اجارہ)؛ ایمانداری سے ہو تو کوئی شرعی خرابی نہیں۔

احتیاطیں: (1) فراڈ و جھوٹ حرام — کوڈ بڑھا چڑھا کر لکھنا، نہ ہوئی بیماری/علاج کوڈ کرنا، انشورنس کو دھوکہ دے کر رقم لینا حرام، آمدنی بھی حرام؛ (2) غلط کوڈنگ سے مریض کے ریکارڈ میں غلط معلومات آئندہ علاج کے لیے نقصان دہ — امانت میں خیانت ممنوع؛ (3) انشورنس سے تعلق: اگر کسی نظام میں انشورنس صریحاً سود/جوئے پر مبنی ہو تو اس پہلو سے احتیاط، مگر کوڈنگ/بلنگ کا بنیادی عمل بہرحال جائز۔

خلاصہ: مکمل ایمانداری و درستگی کے ساتھ یہ کام جائز و حلال؛ فراڈ شامل ہو تو حرام۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔