عدم رفع الیدین کی کوئی ایک اتھنٹک دلیل؟
سب سے قوی و معروف دلیل عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے: «عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ؟ فَصَلَّى، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ» (جامع الترمذی: 257، سنن ابی داؤد: 748، سنن النسائی: 1026، مسند احمد: 3681)۔
سب سے قوی و معروف دلیل عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے: «عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ؟ فَصَلَّى، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ» (جامع الترمذی: 257، سنن ابی داؤد: 748، سنن النسائی: 1026، مسند احمد: 3681)۔
تصحیح: ترمذی: «حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ»؛ ابن حزم (المحلى): بالکل صحیح؛ احمد محمد شاکر: سند صحیح؛ علامہ البانی: صحیح سنن ابی داؤد (748) و مشکاۃ کی تحقیق میں سند صحیح۔
علمی نکتہ: سفیان ثوری، فقہائے کوفہ و احناف اسی حدیث و علی رضی اللہ عنہ کے آثار کی بنیاد پر صرف تکبیرِ تحریمہ میں رفع الیدین کے قائل (ان کے نزدیک یہ آخری عمل، ناسخ)۔ جمہور (مالک، شافعی، احمد) و محدثین (بخاری، ابو حاتم، دارقطنی) علل کی بحث یا ابن عمر و مالک بن حویرث رضی اللہ عنہما کی متواتر روایات کو ترجیح دیتے ہیں؛ تاہم جن اہلِ علم نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی سند صحیح مانی، ان کے نزدیک یہ عدمِ رفع کے جواز و ثبوت کی واضح ترین نص ہے۔