بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 050
موضوع: عبادات (نماز، روزہ وغیرہ)
تاریخ: 5 ستمبر 2026 — ہجری: 22 ربیع الاول 1448ھ
سوال

(1) کیا عورتیں جمعہ گھر میں ادا کر سکتی ہیں؟ مسجد نہ جائے تو گھر میں جمعہ پڑھے یا ظہر؟

(2) جمعہ سے پہلے کتنی سنتیں؟ کوئی مخصوص سنتِ مؤکدہ ہے؟ گھر میں بھی پڑھ سکتے ہیں یا صرف مسجد میں؟

(3) جمعہ کے بعد کتنی سنتیں؟ مسجد میں اور گھر میں تعداد مختلف ہے؟

الجواب
مختصر جواب

1۔ خواتین: عورتوں پر جمعہ فرض نہیں اور وہ گھر میں جمعہ نہیں پڑھ سکتیں — فرضیت بالغ، عاقل، مقیم، آزاد مردوں پر ہے۔ مسجد نہ جانے والی عورت گھر میں ظہر (چار رکعت فرض) پڑھے گی۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

1۔ خواتین: عورتوں پر جمعہ فرض نہیں اور وہ گھر میں جمعہ نہیں پڑھ سکتیں — فرضیت بالغ، عاقل، مقیم، آزاد مردوں پر ہے۔ مسجد نہ جانے والی عورت گھر میں ظہر (چار رکعت فرض) پڑھے گی۔ دلیل: طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ: «الجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فِي جَمَاعَةٍ إِلَّا أَرْبَعَةً: عَبْدٌ مَمْلُوكٌ، أَوِ امْرَأَةٌ، أَوْ صَبِيٌّ، أَوْ مَرِيضٌ» (سنن ابی داؤد: 1067)۔ البتہ عورت مسجد جا کر باجماعت جمعہ ادا کر لے تو جمعہ ادا ہو جائے گا، ظہر کی ضرورت نہیں (جمعہ ظہر کا بدل ہے)؛ مگر اس کی اصل نماز ظہر ہی ہے اور گھر میں پڑھنا اس کے لیے افضل ہے۔

2۔ جمعہ سے پہلے (قبلیہ): کوئی مخصوص سنتِ مؤکدہ مقرر نہیں (ظہر کی چار رکعت مؤکدہ جیسی نہیں)۔ مسجد پہنچ کر خطبے سے پہلے دو دو رکعت کر کے جتنی نوافل چاہیں پڑھ لیں — تعداد مقرر نہیں (2، 4، 6، 8 سہولت کے مطابق)۔ گھر میں بھی نوافل پڑھ سکتے ہیں مگر لازم نہیں؛ مسنون طریقہ مسجد میں خطبے سے پہلے پڑھنا ہے۔ دلیل: سلمان فارسی رضی اللہ عنہ — جو جمعہ کے دن غسل کرے، مسجد آئے اور "جو نماز اس کے لیے مقدر ہو" پڑھے، پھر خطبہ خاموشی سے سنے تو دو جمعوں کے درمیان کے گناہ معاف (صحیح بخاری: 883، صحیح مسلم: 857)۔

3۔ جمعہ کے بعد (بعدیہ): مسجد میں چار رکعتیں: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ الْجُمُعَةَ فَلْيُصَلِّ بَعْدَهَا أَرْبَعًا» (صحیح مسلم: 881)۔ گھر میں دو رکعتیں: ابن عمر رضی اللہ عنہما — نبی ﷺ جمعہ کے بعد گھر جا کر دو رکعت پڑھتے تھے (صحیح بخاری: 937، صحیح مسلم: 882)۔ تطبیق (محققین): مسجد میں پڑھیں تو چار، گھر جا کر پڑھیں تو دو — دونوں مسنون۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔