ڈراپ شپنگ کا طریقہ یہ ہے کہ فروخت کنندہ اپنے پاس مال رکھے بغیر ویب سائٹ پر تصاویر اور تفصیل لگا دیتا ہے؛ آرڈر ملنے پر وہی مال سپلائر سے خرید کر براہِ راست گاہک کو بھجوا دیتا ہے اور دونوں قیمتوں کا فرق اس کا نفع ہوتا ہے۔ اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ نیز مصنوعات کی تفصیل میں مبالغہ آرائی اور غلط بیانی کیسا ہے؟
کسی ایسی چیز کو بیچنا جو نہ بیچنے والے کی ملکیت میں ہو اور نہ اس کے قبضے میں، صریح نص سے حرام ہے۔
الجواب وباللہ التوفیق:
۱۔ مروجہ ڈراپ شپنگ کی ممانعت:
کسی ایسی چیز کو بیچنا جو نہ بیچنے والے کی ملکیت میں ہو اور نہ اس کے قبضے میں، صریح نص سے حرام ہے۔ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آدمی میرے پاس آ کر وہ چیز مانگتا ہے جو میرے پاس نہیں ہوتی، کیا میں اسے بیچ دوں پھر بازار سے خرید کر اسے دے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو چیز تمہارے پاس نہ ہو، اسے مت بیچو" (جامع ترمذی: ۱۲۳۲، سنن ابو داؤد: ۳۵۰۳، سنن نسائی: ۴۶۱۳، سنن ابن ماجہ: ۲۱۸۷)۔ اور فرمایا: "اس چیز کا نفع جائز نہیں جس کا ضمان (نقصان کا خطرہ) تم پر نہ ہو" (جامع ترمذی: ۱۲۳۴، سنن ابو داؤد: ۳۵۰۴)۔ ڈراپ شپنگ کی مروجہ صورت عین یہی ہے: فروخت پہلے، خرید بعد میں، اور ضائع ہونے کا خطرہ بھی سپلائر پر۔ امام ابن قدامہ رحمہ اللہ نے "المغنی" میں اس ممانعت پر اہلِ علم کا اتفاق نقل کیا ہے۔ اسی طرح جو مال خرید لیا ہو، اسے قبضے سے پہلے آگے بیچنا بھی جائز نہیں؛ پہلے قبضہ ہو — حقیقی ہو یا حکمی، مثلاً مال اس کے گودام یا اس کے تصرف میں آ جائے — پھر فروخت ہو۔ غیر موجود مال کی فروخت میں بیعِ غرر کی خرابی بھی پائی جاتی ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے (صحیح مسلم: ۱۵۱۳)۔
۲۔ جائز متبادل صورتیں:
- خرید کر قبضے کے بعد فروخت: یہ اصل تجارت ہے جس کی اللہ نے اجازت دی ہے: ﴿إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ﴾ (سورۃ النساء: ۲۹)۔ - وکالت و دلالی: فروخت کنندہ مالکِ مال کا وکیل بن کر متفقہ کمیشن پر گاہک لائے اور فروخت کروائے؛ اس کا نفع اجرتِ وکالت ہے، جائز ہے۔ - بیعِ سلم اپنی شرائط کے ساتھ: قیمت مجلسِ عقد میں مکمل وصول ہو، مال کی صفات، مقدار اور ترسیل کی مدت متعین ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو سلم کرے تو معلوم ناپ، معلوم وزن اور معلوم مدت تک کے لیے کرے" (صحیح بخاری: ۲۲۴۰)۔ عام آن لائن پلیٹ فارموں میں قیمت فروخت کنندہ کے بجائے پلیٹ فارم کے پاس رکی رہتی ہے، اس لیے سلم کی بنیادی شرط عموماً پوری نہیں ہوتی؛ ہر اسکیم کا حکم اس کے اصل معاہدے کو دیکھ کر لگے گا۔
۳۔ تفصیل میں مبالغہ و دھوکا:
تصویر و تفصیل میں ایسی صفات بیان کرنا جو مال میں موجود نہ ہوں، نقلی تصویر لگانا، یا عیب چھپانا — یہ دھوکا ہے: "جو ہمیں دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں" (صحیح مسلم: ۱۰۱)۔ اور مقدار و وصف میں کمی بیشی کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے وعید فرمائی ہے: ﴿وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ﴾ (سورۃ المطففین: ۱)۔ اگر مال بیان کردہ وصف کے مطابق نہ نکلے تو خریدار کو واپسی کا اختیار (خیار الوصف) حاصل ہے، اور فروخت کنندہ پر اس کی تلافی لازم آتی ہے۔
۴۔ مقاصدی تنبیہ:
شریعت نے تجارت میں امانت و شفافیت کو حفظِ مال کا ذریعہ بنایا ہے۔ بغیر ملکیت اور بغیر ضمان کے نفع کمانا مال کو باطل طریقے سے کھانے کی ایک صورت ہے۔ جب حلال متبادل موجود ہو تو مشتبہ صورت اختیار کرنے کی کوئی حاجت نہیں۔