بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 065
موضوع: معاملات، تجارت و ملازمت
تاریخ: 5 نومبر 2026 — ہجری: 24 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

یوٹیوب اور ٹک ٹاک چینلز سے اشتہارات اور ویوز کے ذریعے جو آمدنی حاصل ہوتی ہے اس کا کیا حکم ہے، جبکہ اشتہارات میں بسا اوقات میوزک، بے پردگی یا حرام مصنوعات (مثلاً سودی بینک، شراب، قمار) بھی آ جاتی ہیں اور چینل کے مالک کا ان اشتہارات پر پورا اختیار نہیں ہوتا؟

الجواب
مختصر جواب

سب سے پہلے چینل کے اپنے مواد کو دیکھا جائے گا۔ اگر مواد میں میوزک، رقص و گانا، بے پردگی، جھوٹ، افواہ یا کسی کی تضحیک و استہزا ہو تو وہ مواد خود حرام ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی ناجائز ہے۔

الجواب وباللہ التوفیق:

۱۔ بنیاد مواد کا حکم ہے:

سب سے پہلے چینل کے اپنے مواد کو دیکھا جائے گا۔ اگر مواد میں میوزک، رقص و گانا، بے پردگی، جھوٹ، افواہ یا کسی کی تضحیک و استہزا ہو تو وہ مواد خود حرام ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی ناجائز ہے۔ موسیقی کی حرمت کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے: "میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور ساز و باجوں (معازف) کو حلال سمجھیں گے" (صحیح بخاری: ۵۵۹۰)۔ اور جو شخص گناہ و گمراہی کی طرف بلاتا ہے، اس پر اس کے پیروکاروں کے گناہوں کے مثل بوجھ ہوتا ہے (صحیح مسلم: ۲۶۷۴)۔ پلیٹ فارم بدلنے سے حکم نہیں بدلتا؛ ٹک ٹاک ہو یا یوٹیوب، معیار مواد اور اشتہار ہی کا ہے۔ جو مواد فی نفسہٖ حلال ہو، مثلاً تعلیم، دعوت، دستکاری وغیرہ، اس کی اصل میں کوئی ممانعت نہیں۔

۲۔ مواد حلال ہو اور آمدنی اشتہارات سے ہو تو تفصیل ہے:

- اشتہار حلال اشیا و خدمات کا ہو تو اس کی آمدنی حلال ہے۔ - چینل کا مالک خود کسی اشتہار میں آ کر یا اسپانسرشپ کے ذریعے کسی حرام چیز کی تشہیر کرے تو یہ گناہ پر تعاون ہے: ﴿وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ (سورۃ المائدہ: ۲)، اور اس کی آمدنی حرام ہے۔ - اشتہارات خودکار نظام سے آتے ہوں اور مالک کے براہِ راست اختیار میں نہ ہوں تو اس پر لازم ہے کہ حتی الامکان حرام زمرے (کیٹیگریز) بند کرے اور اپنے مواد کے گرد و پیش کی نگرانی رکھے۔ اس کوشش کے بعد اگر اکثر اشتہارات حلال ہوں اور حرام کبھی کبھار ظاہر ہو تو اہلِ علم کے نزدیک امید ہے کہ آمدنی پر گناہ نہیں۔ لیکن اگر حرام اشتہارات کا غلبہ ہو، یا بند کرنا ممکن ہونے کے باوجود لاپرواہی برتی جائے، تو اس ذریعے کو چھوڑنا لازم ہے، کیونکہ اس صورت میں وہ حرام کی ترویج میں شریک ٹھہرتا ہے۔

۳۔ پس منظر کی موسیقی:

مواد پاکیزہ ہو تب بھی اس میں بیک گراؤنڈ میوزک شامل کرنا جائز نہیں، کیونکہ موسیقی اپنی ذات میں حرام ہے۔ آمدنی عموماً اشتہارات و ویوز کے عوض ملتی ہے، مواد میں شامل موسیقی کے عوض نہیں؛ اس نسبت سے رقم کا حکم الگ ہے اور موسیقی شامل کرنے کا گناہ اپنی جگہ باقی ہے — لیکن مسلمان کو اس گناہ کو ترک کرنا بہرصورت واجب ہے، خواہ آمدنی جاری ہی کیوں نہ رہے۔

۴۔ مقاصدی تنبیہ:

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ﴾ (سورۃ النور: ۱۹)۔ آمدنی کی خاطر فحاشی و گناہ پھیلانے کا ذریعہ بننا حفظِ دین و اخلاق کے مقصد کے خلاف ہے۔ یہی ذریعہ اگر نیکی و فائدے کی اشاعت میں لگے تو اجر کا سبب بن سکتا ہے: "جس نے ہدایت کی طرف بلایا، اس کے لیے اس کے پیروکاروں کے اجر کے مثل اجر ہے" (صحیح مسلم: ۲۶۷۴)۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔