خاندانی منصوبہ بندی کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا بچوں میں وقفے کے لیے عارضی مانعِ حمل وسائل استعمال کیے جا سکتے ہیں، اور کیا مستقل نس بندی جائز ہے؟ مہنگائی کے دور میں رزق کی تنگی کا خوف اس کے لیے عذر بن سکتا ہے؟
۱۔ اصل: اولاد اللہ کی نعمت اور نکاح کے مقاصد میں سے ہے: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورتوں سے نکاح کرو، کیونکہ میں (قیامت کے دن) تمہاری کثرت پر دوسری امتوں کے مقابلے میں فخر کروں گا“ (سنن ابی داؤد: ۲۰۵۰ — صحیح)۔
الجواب وباللہ التوفیق:
۱۔ اصل: اولاد اللہ کی نعمت اور نکاح کے مقاصد میں سے ہے:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورتوں سے نکاح کرو، کیونکہ میں (قیامت کے دن) تمہاری کثرت پر دوسری امتوں کے مقابلے میں فخر کروں گا“ (سنن ابی داؤد: ۲۰۵۰ — صحیح)۔ اس لیے کثرتِ اولاد فی نفسہ مطلوب و مستحب ہے، اور مانعِ حمل کو بلا ضرورت عادت بنا لینا اس مقصد کے خلاف ہے۔
۲۔ عارضی وقفہ (تنظیمِ اولاد) شرائط کے ساتھ جائز ہے:
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہم قرآن نازل ہونے کے دور میں عزل کیا کرتے تھے“ (صحیح بخاری: ۵۲۰۸؛ صحیح مسلم: ۱۴۴۰) — یعنی صحابہ کرام حمل روکنے کا طریقہ اختیار کرتے اور نبی کریم ﷺ نے انہیں اس سے منع نہیں فرمایا۔ اسی اصل پر قیاس کرتے ہوئے عارضی وسائل — گولیاں، ٹیکے، حلقہ وغیرہ — درج ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہیں: (۱) میاں بیوی دونوں کی باہمی رضامندی و مشاورت ہو، کیونکہ اولاد دونوں کا مشترکہ حق ہے؛ (۲) اس سے عورت کی صحت کو نقصان نہ پہنچے؛ (۳) وسیلہ بذاتِ خود مباح ہو؛ (۴) جو حمل قائم ہو چکا ہو اسے نقصان نہ پہنچایا جائے۔ اسلامی فقہ کونسل (رابطہ عالم اسلامی) نے اپنی قرارداد میں یہی شرائط بیان کی ہیں۔ شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر بچے زیادہ ہوں اور ان کی اچھی تربیت مشکل ہو تو تربیت کی غرض سے حمل میں وقفے کے لیے وسیلہ استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں (فتاویٰ نور علی الدرب: ۲۱/۳۹۴)۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کے نزدیک مانعِ حمل اصلاً جائز ہے البتہ افضل و بہتر کے خلاف ہے (فتاویٰ نور علی الدرب: ۲۲/۲)۔
۳۔ رزق کے خوف سے اولاد روکنا جائز نہیں:
مہنگائی اور رزق کی تنگی کا خوف شرعی عذر نہیں بن سکتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ ۖ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ﴾ (سورۃ الاسراء: ۳۱)، یعنی اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم انہیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی۔ اور فرمایا: ﴿وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا﴾ (سورۃ ھود: ۶)۔ رزق کا ذمہ اللہ نے خود لیا ہے؛ اس کے وعدے پر بھروسا ہی توکل ہے۔ اللجنۃ الدائمہ نے اسی لیے قرار دیا ہے کہ اولاد سے متعلق خدشات کی بنا پر حمل روکنا جائز نہیں، بلکہ اللہ پر توکل اور اس کے بارے میں حسنِ ظن واجب ہے (فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ: ۱۸/۱۴)۔
۴۔ مستقل نس بندی حرام ہے، الا یہ کہ شرعی ضرورت ہو:
مرد یا عورت کی تولیدی صلاحیت ہمیشہ کے لیے ختم کر دینا — خواہ نس بندی ہو یا ٹیوب باندھنا — شرعاً حرام ہے، کیونکہ یہ اللہ کی خلقت میں مستقل تبدیلی اور نسل کے مقصد کا خاتمہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو رہبانیت و ترکِ نکاح کی اجازت نہیں دی، صحابہ فرماتے ہیں کہ اگر اجازت مل جاتی تو ہم خود کو خصی کر لیتے (صحیح بخاری: ۵۰۷۳) — اس سے دائمی طور پر تولید سے کٹ جانے کی ممانعت کا مفہوم واضح ہوتا ہے۔ اسلامی فقہ کونسل کی قرارداد میں بھی نس بندی کو بلا ضرورت حرام قرار دیا گیا ہے۔ البتہ اگر موثق ماہر معالجین یہ فیصلہ کریں کہ اگلا حمل عورت کی جان یا صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے اور کوئی عارضی وسیلہ کارگر نہیں، تو ضرورت کی اس صورت میں نس بندی کی گنجائش ہے؛ شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے ایسی ہی صورت میں شوہر کی اجازت کے ساتھ ٹیوب باندھنے کو جائز قرار دیا ہے (فتاویٰ المرأۃ المسلمۃ: ۵/۹۷۸)۔
مقاصدی تنبیہ: شریعت کے پانچ بڑے مقاصد میں حفظِ نسل بھی شامل ہے، اور امت کی کثرت و قوت اسی سے وابستہ ہے۔ تربیت و صحت جیسی حقیقی ضرورت کے لیے عارضی وقفہ رحمت و حکمت ہے، مگر رزق کے خوف سے نسل کا دروازہ بند کر دینا اس وعدۂ الٰہی سے بدگمانی ہے جس کا ذمہ خود خالق نے لیا ہے۔