میری بالغ بیٹی حجاب نہیں کرتی اور اس معاملے میں میری بات نہیں مانتی۔ میں باپ ہونے کے ناتے اسے کہاں تک مجبور کر سکتا ہوں؟ کیا میں اس کا نان نفقہ اور جیب خرچ بند کر سکتا ہوں؟ اسی طرح نکاح کے معاملے میں وہ ایک رشتہ پسند کرتی ہے جو مجھے مناسب نہیں لگتا، اور میری پسند کے رشتے سے انکار کرتی ہے — کیا میں اسے نکاح پر مجبور کر سکتا ہوں؟ والد کے حقوق اور ظلم کی حد میں توازن کیا ہے؟
۱۔ حجاب فرض ہے اور اس کی تلقین والد کی شرعی ذمہ داری ہے: حجاب عورت پر فرض ہے۔
الجواب وباللہ التوفیق:
۱۔ حجاب فرض ہے اور اس کی تلقین والد کی شرعی ذمہ داری ہے:
حجاب عورت پر فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ﴾ (سورۃ النور: ۳۱)، اور فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ﴾ (سورۃ الاحزاب: ۵۹)۔ والد پر اپنے اہل کی دینی تربیت فرض ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا﴾ (سورۃ التحریم: ۶)، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا“ (صحیح بخاری: ۸۹۳؛ صحیح مسلم: ۱۸۲۹)۔ پس والد کا بیٹی کو حجاب کی نصیحت کرنا، اس کی ترغیب دینا اور گھر کے شرعی ماحول کا پابند بنانا اس کا حق ہی نہیں، اس کی امانت ہے، جس کے ترک پر وہ بازپرس کا مستحق ہوگا۔
۲۔ جبر کی حد — اطاعت بھی معروف میں ہے اور تادیب بھی ظلم سے خالی ہو:
شریعت نے نہ والد کو مطلق العنان چھوڑا ہے نہ بیٹی کو۔ اللجنۃ الدائمہ کا اصولِ مقررہ ہے کہ اطاعت صرف نیکی اور معروف میں ہوتی ہے — ”اطاعت صرف معروف میں ہے“ (فتاویٰ اللجنہ الدائمہ، فتویٰ نمبر: ۵۹۹۴)۔ اسی طرح تادیب کے نام پر نقصان پہنچانا حرام ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہ نقصان پہنچانا جائز ہے نہ نقصان کا بدلہ نقصان سے دینا“ (سنن ابن ماجہ: ۲۳۴۰، ۲۳۴۱؛ امام البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے)۔ لہٰذا والد نصیحت، ترغیب، ناراضگی کے اظہار اور گناہ میں استعمال ہونے والی زائد سہولتوں کی روک جیسے جائز ذرائع اختیار کر سکتا ہے، لیکن مار پیٹ، جسمانی یا ذہنی اذیت، بے عزتی اور بھوکا رکھنا جائز نہیں؛ یہ تادیب نہیں، ظلم ہے۔
۳۔ واجب نان نفقہ روکنا جائز نہیں:
بیٹی جب تک خود کفیل نہ ہو، اس کا نفقہ والد پر واجب ہے: ﴿وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ (سورۃ البقرہ: ۲۳۳)، اور صاحبِ گنجائش پر حکم ہے: ﴿لِيُنفِقْ ذُو سَعَةٍ مِّن سَعَتِهِ﴾ (سورۃ الطلاق: ۷)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کے گناہگار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو ضائع کر دے جن کی روزی اس کے ذمے ہے“ (سنن ابی داؤد: ۱۶۹۲؛ امام البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن قرار دیا ہے)۔ یاد رہے کہ بیٹی کا نفقہ اس کے حجاب یا اطاعت کی شرط سے مشروط نہیں؛ معاصر علمی اداروں (مثلاً دار الافتاء مصر، فتاویٰ نمبر: ۳۹۱۲ و ۷۲۷۲) کی بھی یہی تحقیق ہے کہ والد بیٹی کی دینی کوتاہی کی سزا میں اس کی مالی کفالت نہیں روک سکتا۔ البتہ واجب نفقے سے زائد جیب خرچ اور وہ سہولتیں جو گناہ میں استعمال ہوتی ہوں، روکنا والد کے اختیار میں ہے۔
۴۔ نکاح میں بیٹی کی رضامندی شرط ہے، جبر جائز نہیں:
نکاح ولی کے بغیر نہیں ہوتا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں“ (سنن ابی داؤد: ۲۰۸۵؛ جامع ترمذی: ۱۱۰۱؛ سنن ابن ماجہ: ۱۸۸۱؛ صحیح عند البانی رحمہ اللہ)، لیکن ولی ہونے کا مطلب جبر کا اختیار نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ثیب (بیوہ یا مطلقہ) کا نکاح اس کے مشورے کے بغیر نہ کیا جائے، اور کنواری کا نکاح اس کی اجازت لیے بغیر نہ کیا جائے“ (صحیح بخاری: ۵۱۳۶)۔ حضرت خنساء بنت خذام رضی اللہ عنہا کے والد نے ان کی ناپسندیدگی کے باوجود ان کا نکاح کر دیا تو نبی ﷺ نے وہ نکاح رد فرما دیا (صحیح بخاری: ۵۱۳۸)۔ فقہاء میں بالغ کنواری کے ”اجبار“ پر اختلاف ہے: مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے ہاں مصلحت و کفو کی شرط کے ساتھ والد کو اختیار حاصل ہے، جبکہ دوسرے گروہ کے نزدیک رضامندی ہی لازم ہے؛ راجح اور نصوص کے قریب تر یہی دوسرا قول ہے، اور ثیب کو مجبور کرنے کی ممانعت پر اتفاق ہے۔ اسی طرح اگر والد پسندیدہ کفو رشتے کو بلاوجہ روکے تو یہ ”عضل“ ہے، اور بیٹی بزرگوں یا قاضی کی طرف رجوع کر سکتی ہے۔
مقاصدی تنبیہ: حفظِ دین اور حفظِ نسل دونوں کا تقاضا ہے کہ گھر میں دین حکمت اور محبت سے قائم ہو۔ زبردستی سے پیدا ہونے والی نفرت بیٹی کو دین ہی سے دور کر دیتی ہے، جبکہ نرمی، دعا اور حسنِ سلوک سے حجاب بھی آتا ہے اور رشتہ بھی باقی رہتا ہے۔