آن لائن اور ویڈیو گیمز کھیلنے کا شرعی حکم کیا ہے؟ گیم کے اندر خریداری ( اِن ایپ پرچیزز)، خصوصاً ”لوٹ باکسز“ جن میں رقم دینے کے بعد انعام اتفاق سے ملتا ہے، جائز ہے یا یہ جوا ہے؟
ایسا کھیل جو فی نفسہ کسی حرام پر مشتمل نہ ہو، اصلاً مباح ہے، بشرطیکہ: (۱) اس میں شرک، جادو، فحاشی یا حرام عقائد کی ترویج نہ ہو؛ (۲) وہ نماز اور دیگر فرائض سے غافل نہ کرے — اللہ تعالیٰ نے جوئے کے بارے میں فرمایا کہ شیطان اس کے ذریعے تمہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روکنا چاہتا ہے ﴿وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ﴾ (سورۃ المائدہ: ۹۱)، اور یہ علت ہر اس مشغلے میں پائی جاتی ہے جو انسان کو عبادت سے غافل کر دے؛ (۳) وقت اس میں برباد نہ ہو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ دھوکے میں پڑے رہتے ہیں: صحت اور فراغت“ (صحیح بخاری: ۶۴۱۲)۔
الجواب وباللہ التوفیق:
۱۔ گیم کھیلنے کا اصل حکم اور اس کی شرائط:
ایسا کھیل جو فی نفسہ کسی حرام پر مشتمل نہ ہو، اصلاً مباح ہے، بشرطیکہ: (۱) اس میں شرک، جادو، فحاشی یا حرام عقائد کی ترویج نہ ہو؛ (۲) وہ نماز اور دیگر فرائض سے غافل نہ کرے — اللہ تعالیٰ نے جوئے کے بارے میں فرمایا کہ شیطان اس کے ذریعے تمہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روکنا چاہتا ہے ﴿وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ﴾ (سورۃ المائدہ: ۹۱)، اور یہ علت ہر اس مشغلے میں پائی جاتی ہے جو انسان کو عبادت سے غافل کر دے؛ (۳) وقت اس میں برباد نہ ہو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ دھوکے میں پڑے رہتے ہیں: صحت اور فراغت“ (صحیح بخاری: ۶۴۱۲)۔ مومن کی صفات میں یہ بھی ہے کہ وہ بے مقصد و لغو کاموں سے اعراض کرتا ہے: ﴿وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ﴾ (سورۃ المؤمنون: ۳)۔ جب کھیل عادت اور لت بن جائے اور پڑھائی، روزگار اور گھر والوں کے حقوق متاثر ہونے لگیں تو وہ مباح کے دائرے سے نکل کر مکروہ و ممنوع کے قریب ہو جاتا ہے۔
۲۔ پانسے (ڈائس) اور اتفاق پر مبنی گیمز:
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے نرد (پانسے کی بازی) کھیلی گویا اس نے اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت اور خون میں رنگ لیا“ (صحیح مسلم: ۲۲۶۰)۔ اور فرمایا: ”جس نے پانسے کھیلے اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی“ (سنن ابی داؤد: ۴۹۳۸؛ سنن ابن ماجہ: ۳۷۶۲ — حسن)۔ اللجنۃ الدائمہ نے فتویٰ دیا ہے کہ پانسے والے کھیل انعام کے بغیر بھی جائز نہیں (فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ: ۱۵/۲۱۰)۔ یہی حکم ان ڈیجیٹل گیمز پر بھی جاری ہوگا جن کا نتیجہ محض اتفاق اور پاسے نما بے ترتیبی (رینڈم) پر مبنی ہو، خصوصاً جب اس میں مال بھی لگا ہو۔
۳۔ لوٹ باکسز اور گیچا: جوا اور غرر کی واضح صورت:
لوٹ باکس میں کھلاڑی رقم دیتا ہے اور بدلے میں اسے کوئی اندرونی شے ملتی ہے جس کی نوعیت اور قیمت پہلے سے معلوم نہیں ہوتی؛ کبھی معمولی چیز نکلتی ہے اور کبھی نایاب۔ یہ دو وجوہ سے حرام ہے: اول، یہ قمار (جوا) ہے، کیونکہ مال ایک غیر یقینی اتفاقی نتیجے پر لگایا جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ﴾ (سورۃ المائدہ: ۹۰)۔ دوم، یہ بیعِ غرر ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے غرر والی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے (صحیح مسلم: ۱۵۱۳)۔ معاصر فتویٰ مراکز نے رقم دے کر بے ترتیبی سے نامعلوم چیز خریدنے کو جوا اور دھوکا قرار دے کر ناجائز کہا ہے (اسلام ویب کا فتویٰ، ۲۰۱۸ء)۔ انعامی سکیموں کے متعلق اللجنۃ الدائمہ کے فتاویٰ بھی اسی اصول پر مبنی ہیں (فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ: ۱۵/۱۹۱، ۱۵/۱۹۵)۔
۴۔ معلوم چیز کی براہِ راست خریداری:
اگر گیم کے اندر کوئی چیز — مثلاً کوئی مخصوص سکن یا سامان — اس طرح خریدی جائے کہ چیز بھی معلوم ہو اور قیمت بھی، تو یہ غرر کے حکم میں نہیں اور فی نفسہٖ اس خریداری کی گنجائش ہے۔ تاہم فضول خرچی اور اسراف سے بچنا واجب ہے: ﴿إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانِ الشَّيَاطِينِ﴾ (سورۃ الاسراء: ۲۷)۔ اسی طرح شرکاء سے فیس لے کر انعامی مقابلہ کرانا قمار ہے؛ وہ مقابلہ جس میں انعام صرف منتظم کی طرف سے ہو اور شرکاء کا مال داؤ پر نہ لگا ہو، اس کا حکم الگ ہے۔
مقاصدی تنبیہ: نوجوان کا وقت، اس کی توجہ اور اس کا مال اس کی زندگی کا سرمایہ ہیں۔ گیم بنانے والی کمپنیاں لوٹ باکس جیسے منصوبہ بند نظام سے اسی سرمائے کو جوئے کی لت میں بدل کر لوٹتی ہیں؛ حفظِ وقت و مال اور نفس کی اس چالاک استحصالی صنعت سے حفاظت ہر مسلمان، خصوصاً والدین کی ذمہ داری ہے۔