سوشل میڈیا (فیس بک، انسٹاگرام، ایکس وغیرہ) پر نامحرم مرد و عورت کے باہمی تعامل کی شرعی حدود کیا ہیں؟ ایک دوسرے کو فالو کرنا، پوسٹ پر لائک اور کمنٹ کرنا، اور ان باکس یا ڈی ایم میں پیغامات بھیجنا کیسا ہے؟ بعض لوگ دینی معلومات اور ”دعوت“ کے نام پر نامحرم سے مسلسل رابطہ رکھتے ہیں — کیا یہ جائز ہے؟
۱۔
الجواب وباللہ التوفیق:
۱۔ بنیادی اصول — نگاہ، گفتار اور زنا کے اسباب سے اجتناب:
اللہ تعالیٰ نے مرد و عورت دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے: ﴿قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ﴾ (سورۃ النور: ۳۰)، اور عورتوں کو مخاطب کر کے فرمایا: ﴿فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا﴾ (سورۃ الاحزاب: ۳۲)، یعنی بات میں نرمی و لوچ اختیار نہ کرو کہ جس کے دل میں مرض ہے وہ طمع کرنے لگے۔ اور زنا کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا: ﴿وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا﴾ (سورۃ الاسراء: ۳۲)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، کانوں کا زنا سننا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے…“ (صحیح بخاری: ۶۲۴۳؛ صحیح مسلم: ۲۶۵۷)۔ سوشل میڈیا انہی اعضاء کے استعمال کا نیا میدان ہے، اس لیے اس کے احکام بھی یہی اصول طے کریں گے۔
۲۔ خلوت کی ممانعت اور پرائیویٹ پیغام رسانی کا اس میں داخل ہونا:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کوئی مرد کسی (نامحرم) عورت کے ساتھ تنہا نہ ہو، مگر یہ کہ اس کے ساتھ محرم ہو“ (صحیح بخاری: ۵۲۳۳)، اور فرمایا: ”خبردار! جب کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہا ہوتا ہے تو تیسرا ان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے“ (جامع ترمذی: ۲۱۶۵؛ صحیح)۔ اللجنۃ الدائمہ نے خلوت کی تعریف وسیع بیان کی ہے: یہ صرف جسمانی تنہائی نہیں، بلکہ ہر وہ صورت ہے جس میں دونوں آپس میں گفتگو کر سکیں اور دوسرے ان کی بات نہ سن سکیں (فتاویٰ اللجنہ الدائمہ: ۱۷/۵۷)۔ اس تعریف کی رو سے ان باکس، ڈی ایم اور بند چیٹ کی گفتگو بھی خلوت کے دائرے میں داخل ہے، کیونکہ یہاں بھی بات دوسروں کی سماعت سے باہر ہوتی ہے۔ شیخ عبد اللہ بن جبرین رحمہ اللہ نے نوجوان مرد و عورت کے باہمی خط کتابت کو — خواہ وہ بے حیائی سے خالی ہی کیوں نہ ہو — فتنے کی بنا پر ناجائز قرار دیا (فتاویٰ المرأۃ، ص: ۹۶)، اور آج کی چیٹ خط کتابت سے بڑھ کر فوری و مسلسل رابطہ ہے، اس لیے اس کا حکم اس سے خفیف نہیں ہو سکتا۔
۳۔ فالو، لائک اور کمنٹ کی تفصیل:
(الف) دینی و علمی عوامی صفحات کو فالو کرنا اور ان کے مواد سے استفادہ کرنا فی نفسہٖ جائز ہے، بشرطے کہ مواد فحش، بے پردگی اور موسیقی وغیرہ محرمات سے خالی ہو۔ نامحرم کی ذاتی تصاویر و ویڈیوز دیکھنے اور ایسے اکاؤنٹ فالو کرنے سے اجتناب لازم ہے جو نگاہ کی حفاظت کے منافی ہوں۔ (ب) عوامی پوسٹ پر ضرورت و حاجت کے بقدر، مختصر اور بے تکلفی سے پاک کمنٹ — مثلاً علمی سوال یا تصحیح — کی گنجائش ہے، لیکن تعریف و تمجید، دل لبھانے والی گفتگو، بار بار کی آمد و رفت اور لطیفوں کا تبادلہ ممنوع ہے، کیونکہ یہی گفتار کا خضوع اور فتنے کا دروازہ ہے۔ (ج) پرائیویٹ پیغامات صرف حقیقی ضرورت (معاملہ، علمی سوال، خرید و فروخت) پر، بقدرِ ضرورت اور مختصر ہوں؛ دوستی، گپ شپ اور جذباتی وابستگی کے لیے رابطہ قطعاً حرام ہے۔ اللجنۃ الدائمہ نے مرد و عورت کے مابین دوستی کے تعلقات کو حرام ترین کاموں میں شمار کیا ہے (فتاویٰ اللجنہ الدائمہ: ۱۷/۶۶)۔
۴۔ ”دعوت“ کے نام پر اختلاط:
دعوتِ دین کا شرعی طریقہ عوامی بیان، تحریر اور نشریات ہے؛ کسی مخصوص نامحرم سے پرائیویٹ رابطے کو دعوت کا نام دینا اس کی آڑ نہیں بن سکتا۔ شیخ ابن باز رحمہ اللہ کی تحقیق ہے کہ عورت بھی مردوں کو اللہ کی طرف بلا سکتی ہے، مگر پردے کی پابندی اور خلوت سے اجتناب کے ساتھ۔ لہٰذا عوامی پلیٹ فارم پر دینی مواد شائع کرنا جائز، بلکہ مستحسن ہے، لیکن اسی بہانے نجی گفتگو، ذاتی تعلق اور مسلسل رابطہ جائز نہیں ہو جاتا۔ ضرورت پڑے تو سوال و جواب عوامی کمنٹ یا دفتری و ادارتی ذریعے سے ہو۔
مقاصدی تنبیہ: شریعت نے زنا ہی کو نہیں، اس کے اسباب کو بھی حرام کیا ہے — یہی سدِّ ذرائع اور حفظِ عرض و حفظِ دین کا تقاضا ہے۔ سوشل میڈیا پر احتیاط محض رسمی پابندی نہیں، دل کی پاکیزگی اور خاندانوں کے استحکام کی حفاظت ہے۔