بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 083
موضوع: متفرق / معلوماتی
تاریخ: 5 نومبر 2026 — ہجری: 24 جمادی الاولیٰ 1448ھ
سوال

ویپنگ (الیکٹرانک سگریٹ)، شیشہ اور نیکوٹین پاؤچز استعمال کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا یہ عام سگریٹ سے مختلف ہیں کہ ان میں دھواں کم یا نہیں ہوتا؟

الجواب
مختصر جواب

نبی کریم ﷺ کی صفت قرآن مجید میں یوں بیان ہوئی ہے: ﴿وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمِ الْخَبَائِثَ﴾ (سورۃ الاعراف: ۱۵۷)، یعنی وہ ان کے لیے پاکیزہ چیزیں حلال اور ناپاک و گندی چیزیں حرام قرار دیتے ہیں۔

الجواب وباللہ التوفیق:

۱۔ حکم کی بنیاد:

نبی کریم ﷺ کی صفت قرآن مجید میں یوں بیان ہوئی ہے: ﴿وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمِ الْخَبَائِثَ﴾ (سورۃ الاعراف: ۱۵۷)، یعنی وہ ان کے لیے پاکیزہ چیزیں حلال اور ناپاک و گندی چیزیں حرام قرار دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾ (سورۃ البقرہ: ۱۹۵) اور ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ﴾ (سورۃ النساء: ۲۹)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہ (خود کو) نقصان پہنچاؤ اور نہ (دوسرے کو) نقصان پہنچایا جائے“ (سنن ابن ماجہ: ۲۳۴۱ — صحیح)۔ اور مال کی فضول بربادی پر فرمایا: ﴿إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ﴾ (سورۃ الاسراء: ۲۷)۔ جو چیز طبی ماہرین کے متفقہ مشاہدے سے جسم کے لیے ضرر رساں، خبیث اور لت ڈالنے والی ہو، وہ انہی نصوص کے تحت ممنوع ہے۔

۲۔ تمباکو نوشی پر اہلِ علم کا متفقہ رخ:

سعودی عرب کی اللجنۃ الدائمہ للبحوث العلمیۃ والافتاء اور شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے سگریٹ نوشی کو اس کے خبیث ہونے، صحت کو نقصان پہنچانے، مال برباد کرنے اور لت ڈالنے کی بنا پر صراحتاً حرام قرار دیا ہے (اسلام کیو اے، فتویٰ نمبر ۱۰۹۲۲)۔ جب بھی کوئی نئی صورت انہی علتوں کے ساتھ ظاہر ہوگی، حکم وہی رہے گا؛ حکم علت کے تابع ہوتا ہے، آلے یا ذائقے کے تابع نہیں۔

۳۔ ویپنگ (الیکٹرانک سگریٹ) کا حکم:

ای سگریٹ میں نیکوٹین موجود ہوتی ہے، اس کے بخارات میں زہریلے کیمیائی مادے شامل ہوتے ہیں، یہ پھیپھڑوں اور دل کے لیے نقصان دہ ہے اور باقاعدہ لت پیدا کرتی ہے۔ ان ہی وجوہات کی بنا پر معاصر اہلِ علم نے ویپنگ کو سگریٹ ہی کے حکم میں رکھ کر ممنوع قرار دیا ہے (اسلام کیو اے، فتویٰ نمبر ۲۷۱۵۴۳)۔ ”دھواں نہیں ہوتا“ یا ”ذائقے دار ہے“ جیسی باتیں اس کی حقیقت نہیں بدلتیں، کیونکہ ضرر اور نیکوٹین دونوں موجود ہیں۔

۴۔ شیشے کا حکم:

شیشہ تمباکو ہی کی ایک صورت ہے، بلکہ اس کا ایک سیشن مقدار اور مدت کے اعتبار سے کئی سگریٹوں کے برابر دھواں جسم میں پہنچاتا ہے۔ پانی سے گزرنا نہ اس کے زہر کو ختم کرتا ہے نہ اس کے خبث کو؛ اس لیے شیشہ پینا بھی اسی طرح حرام ہے، اور شیشہ پیش کرنا یا اس کی محفل میں شریک ہو کر اس کی ترویج کرنا بھی درست نہیں۔

۵۔ نیکوٹین پاؤچز کا حکم:

نیکوٹین پاؤچ منہ میں رکھا جاتا ہے اور اس میں دھواں نہیں ہوتا، مگر اس میں خالص نیکوٹین موجود ہوتی ہے جو منہ اور مسوڑھوں کی بیماریوں کا سبب بنتی ہے، خون کی نالیوں اور دل پر اثرانداز ہوتی ہے اور شدید عادت ڈالتی ہے۔ دھوئیں کا نہ ہونا حکم نہیں بدلتا، کیونکہ ممانعت کی علت نیکوٹین، ضرر اور لت ہے، اور وہ یہاں بھی پوری طرح موجود ہے؛ لہٰذا مذکورہ بالا اصولوں کی تطبیق سے نیکوٹین پاؤچ کا استعمال بھی ناجائز ہے۔

۶۔ ان اشیاء کی تجارت:

جس چیز کا استعمال حرام ہو، اس کی خرید و فروخت اور کاروبار بھی جائز نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ (سورۃ المائدہ: ۲)۔

مقاصدی تنبیہ: شریعت کے عظیم مقاصد میں حفظِ نفس، حفظِ عقل اور حفظِ مال شامل ہیں۔ یہ اشیاء تینوں کو ایک ساتھ نقصان پہنچاتی ہیں؛ خصوصاً نوجوان نسل کو ذائقوں اور رنگین اشتہاروں سے اس لت کی طرف کھینچا جا رہا ہے، والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سے خبردار رہیں اور اولاد کی حفاظت کریں۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔