ہیئر ٹرانسپلانٹ کروانے اور بوٹوکس و فلرز کے ٹیکے لگوانے کا شرعی حکم کیا ہے؟ خلقت کی تبدیلی اور عیب کے علاج کے درمیان حد کہاں ہے؟
۱۔ بنیادی قاعدہ: اللہ کی بنائی ہوئی خلقت کو بدلنا حرام ہے: شیطان کی اس گمراہ کن کوشش کا ذکر قرآن مجید میں اس طرح آیا ہے: ﴿وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ﴾ (سورۃ النساء: ۱۱۹)، یعنی میں انہیں حکم دوں گا تو وہ اللہ کی خلقت کو بدل ڈالیں گے۔
الجواب وباللہ التوفیق:
۱۔ بنیادی قاعدہ: اللہ کی بنائی ہوئی خلقت کو بدلنا حرام ہے:
شیطان کی اس گمراہ کن کوشش کا ذکر قرآن مجید میں اس طرح آیا ہے: ﴿وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ﴾ (سورۃ النساء: ۱۱۹)، یعنی میں انہیں حکم دوں گا تو وہ اللہ کی خلقت کو بدل ڈالیں گے۔ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے گودنے والیوں اور گدوانے والیوں، بال اکھاڑنے والیوں اور خوبصورتی کی خاطر دانتوں میں کشادگی پیدا کرنے والی ان عورتوں پر لعنت فرمائی جو اللہ کی خلقت کو بدلنے والیاں ہیں (صحیح بخاری: ۵۹۴۳؛ صحیح مسلم: ۲۱۲۵)۔ اسی طرح مصنوعی بال جوڑنے (وصل) والی پر بھی لعنت آئی ہے (صحیح بخاری: ۵۹۴۰)۔ پس جو عمل محض خوبصورتی بڑھانے کے لیے اللہ کی بنائی ہوئی اصل صورت کو بدل دے، وہ اس وعید میں داخل ہے۔
۲۔ عیب کا علاج اور اصلِ خلقت کی بحالی اس ممانعت سے خارج ہے:
اس کے برعکس کسی حادثے یا بیماری سے پیدا ہونے والے عیب کو دور کرنا اور اصل صورت کی بحالی ”تغییرِ خلق اللہ“ نہیں بلکہ علاج ہے۔ حضرت عرفجہ بن اسعد رضی اللہ عنہ کی ناک جنگ میں کٹ گئی تو انہوں نے چاندی کی ناک بنوائی، اس میں بدبو آنے لگی تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں سونے کی ناک بنوانے کا حکم دیا (سنن ابی داؤد: ۴۲۳۲؛ جامع ترمذی: ۱۷۷۰؛ سنن نسائی: ۵۱۶۱ — حسن)۔ شیخ ابن باز اور شیخ ابن عثیمین رحمہما اللہ سمیت اللجنۃ الدائمہ کے علماء نے واضح کیا ہے کہ عیب دور کرنے کے لیے کی جانے والی سرجری — مثلاً حادثے کے نشانات، جلنے کے داغ یا پیدائشی بگاڑ کی اصلاح — جائز ہے اور تغییرِ خلقت کے حکم میں داخل نہیں (فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ: ۲۵/۵۵)۔
۳۔ ہیئر ٹرانسپلانٹ کا حکم:
ہیئر ٹرانسپلانٹ میں انسان کے اپنے ہی بال ایک جگہ سے لے کر گنجی جگہ منتقل کیے جاتے ہیں؛ یہ مصنوعی بال جوڑنا (وصل) نہیں، کیونکہ وصل میں غیر کے بال یا مصنوعی چیز جوڑی جاتی ہے۔ یہ بال اگانے کے علاج اور کھوئی ہوئی اصل حالت کی بحالی کے حکم میں ہے، لہٰذا شرعاً جائز ہے۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے اس کے جواز کا فتویٰ منقول ہے کہ یہ اللہ کی پیدا کردہ چیز کو واپس لانا اور عیب دور کرنا ہے (فتاویٰ علماء البلد الحرام، ص: ۱۱۸۵)۔ اسی طرح اسلامی فقہ اکیڈمی (او آئی سی) نے اپنے اٹھارویں اجلاس (ملائیشیا، ۲۰۰۷ء) کی قرارداد میں بالوں کے گرنے کے علاج کے طور پر ہیئر ٹرانسپلانٹ کو جائز قرار دیا ہے۔
۴۔ بوٹوکس اور فلرز کا حکم:
بوٹوکس اور فلرز کا اثر عارضی ہوتا ہے اور ان سے خلقت میں دائمی تبدیلی واقع نہیں ہوتی، اس لیے ان کا حکم تغییرِ خلق والی وعید سے الگ ہے۔ اگر مقصد کسی نمایاں عیب کی اصلاح ہو اور درج ذیل شرائط پائی جائیں تو ان کے استعمال کی گنجائش ہے: (۱) ان سے جسم کو نقصان نہ پہنچتا ہو، کیونکہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: ”نہ (خود کو) نقصان پہنچاؤ اور نہ (دوسرے کو) نقصان پہنچایا جائے“ (سنن ابن ماجہ: ۲۳۴۱ — صحیح)؛ اور استعمال ہونے والا مادہ حلال و پاک ہو؛ (۲) اس سے کسی کو دھوکا مقصود نہ ہو، مثلاً رشتے کے موقع پر عمر یا صورت چھپانا؛ (۳) حد سے بڑھی فضول خرچی اور اسراف نہ ہو۔ معاصر فتویٰ مراکز نے بھی ضرر سے خالی ہونے کی شرط کے ساتھ اس کی اجازت دی ہے (اسلام کیو اے، فتویٰ نمبر ۱۴۶۲۸۹؛ اسلام ویب، فتویٰ نمبر ۸۷۷۹۴)۔ البتہ بعض اہلِ علم نے محض زینت کی خاطر چہرے کی جھریاں مٹانے کو بھی کراہت یا ممانعت کے قریب رکھا ہے، اس لیے بغیر حقیقی ضرورت کے فطری صورت بدلنے کی کوشش سے اجتناب ہی احوط اور راجح ہے۔
مقاصدی تنبیہ: یہ جسم اور یہ مال دونوں اللہ کی امانتیں ہیں؛ حفظِ نفس اور حفظِ مال کا تقاضا ہے کہ علاج و ضرورت کی حد سے آگے بڑھ کر مصنوعی حسن کے پیچھے صحت اور دولت دونوں کو خطرے میں نہ ڈالا جائے۔