سوال
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.. سوال.. حدیث میں ہے کہ سات ہاتھ راستہ چھوڑنا چاہیے... لمبائی میں اسلامی نقطہ نظر سے کتنے فلور بنانے کی اجازت ہے؟
الجواب
مختصر جواب
اسلامی شریعت میں عمارت کی اونچائی یا منزلوں (Floors) کی کوئی مخصوص حتمی تعداد (مثلاً دو، چار یا دس منزلیں) متعین نہیں کی گئی، بلکہ اصل مدار حقوق العباد، عدمِ ضرر (کسی کو نقصان نہ پہنچنے) اور بلدیاتی و شہری قوانین کی پاسداری پر رکھا گیا ہے۔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اسلامی شریعت میں عمارت کی اونچائی یا منزلوں (Floors) کی کوئی مخصوص حتمی تعداد (مثلاً دو، چار یا دس منزلیں) متعین نہیں کی گئی، بلکہ اصل مدار حقوق العباد، عدمِ ضرر (کسی کو نقصان نہ پہنچنے) اور بلدیاتی و شہری قوانین کی پاسداری پر رکھا گیا ہے۔ اس مسئلے کے شرعی اصول اور تفصیلی ضوابط درج ذیل ہیں:
۱. راستے کا حکم (سات ہاتھ والی حدیث کا مفہوم)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (راستے کے تنازع میں) سات ہاتھ کا فیصلہ فرمایا: «قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَشَاجَرُوا فِي الطَّرِيقِ بِسَبْعَةِ أَذْرُعٍ» (جب لوگ راستے (کی چوڑائی) میں جھگڑیں تو (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے) سات ہاتھ (راستہ رکھنے) کا فیصلہ فرمایا)۔ (صحیح بخاری: 2473) اور صحیح مسلم کی روایت میں الفاظ یہ ہیں: «إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ، جُعِلَ عَرْضُهُ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ» (جب تمہارا راستے میں اختلاف ہو جائے تو اس کی چوڑائی سات ہاتھ مقرر کر دی جائے)۔ (صحیح مسلم: 1613)
- سات ہاتھ کی مقدار: شرعی ذراع (ہاتھ) کی لمبائی میں اہلِ علم کے اندازے مختلف ہیں؛ معاصر محققین کا راجح اندازہ تقریباً 48 سینٹی میٹر (ڈیڑھ فٹ سے کچھ زائد) ہے، لہٰذا سات ہاتھ تقریباً ساڑھے تین میٹر کے قریب (لگ بھگ 11 فٹ) بنتے ہیں۔ یہ محض تقریبی مقدار ہے، حتمی پیمائش نہیں۔
- حکم کا دائرہ کار: یہ حکم زمین پر راستے کی چوڑائی (افقی مسافت / Width) کے متعلق ہے، تاکہ لدے ہوئے اونٹ وغیرہ اور آنے جانے والے باآسانی گزر سکیں اور لوگوں کے لیے تنگی نہ ہو — جیسا کہ شارحین نے اس کی علت بیان کی ہے۔ اس کا تعلق عمارت کی بلندی یا منزلوں کی تعداد سے نہیں ہے۔
۲. عمارت کی اونچائی اور منزلوں کا شرعی ضابطہ
عمودی رخ پر منزلیں بنانے کے حوالے سے شریعت کے تین بنیادی قواعد ہیں:
پہلا قاعدہ: «لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ» (کسی کو نقصان نہ پہنچانا)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: «لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ» (نہ نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ بدلے میں نقصان پہنچانا)۔ (سنن ابن ماجہ: 2340، از عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ؛ مسند احمد؛ امام نووی نے اسے حسن کہا ہے اور شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے) یہی حدیث فقہ کے کبریٰ قواعد میں سے قاعدہ «الضَّرَرُ يُزَالُ» (ضرر دور کیا جائے گا) کی اصل ہے۔
- ہوا اور روشنی: اس قاعدے کی روشنی میں اہلِ علم کے درمیان اس بات میں اختلاف ہے کہ پڑوسی کی تعمیر سے اس کی ہوا، سورج کی روشنی یا فضا کا کچھ حصہ رک جانا کس حد تک قابلِ ممانعت ہے؛ کسی کے اپنی ملکیت میں تعمیر کرنے کا اصل حق سب کے نزدیک ثابت ہے۔ البتہ راجح اور مبنی بر انصاف بات یہ ہے کہ جس تعمیر سے پڑوسی کو غیر معمولی اور فاحش ضرر پہنچے — مثلاً اس کا گھر اس حد تک تاریک اور ناقابلِ رہائش ہو جائے کہ رہنا ہی دشوار ہو جائے — تو ایسی تعمیر سے روکا جائے گا، اور مالک کے ذمے ہے کہ ہمسائے کی اجازت لے یا ضرر دور کرے۔ معمولی کمیِ روشنی و ہوا اس حکم میں داخل نہیں۔
- پردے اور پرائیویسی کا تحفظ (کشفِ عورت): اونچی عمارت بناتے وقت اگر کھڑکیاں یا بالکونیاں ایسی رکھی جائیں جن سے براہِ راست پڑوسی کے صحن، چھت یا اندرونی گھر میں جھانکنا ممکن ہو اور ان کا پردہ پامال ہو، تو مالک پر لازم ہے کہ وہ اوٹ/سترہ لگا کر پردے کا مکمل انتظام کرے تاکہ پڑوسی کی رازداری متاثر نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَىٰ أَهْلِهَا» (اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو، یہاں تک کہ اجازت لے لو اور گھر والوں کو سلام کر لو)۔ (سورۃ النور: 27) — اور اجازت کا یہ حکم بنیادی طور پر نظر ہی کی وجہ سے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر اجازت کسی کے گھر میں جھانکنے پر اتنی سخت وعید فرمائی: «مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ، فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ أَنْ يَفْقَؤُوا عَيْنَهُ» (جو شخص کسی قوم کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر جھانکے، تو ان کے لیے حلال ہو گیا کہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں)۔ (صحیح مسلم: 2158؛ صحیح بخاری: 6902 میں بھی اس مضمون کی روایت موجود ہے) فقہائے کرام نے اسی بنیاد پر لکھا ہے کہ اوپر والے (اونچی عمارت والے) پر لازم ہے کہ ایسی اوٹ بنائے جس سے نیچے والے پر جھانکنا ممکن نہ رہے۔ (کشاف القناع؛ نیز شیخ ابن عثیمین، الشرح الممتع: 9/267)
دوسرا قاعدہ: ریاکاری اور فخر سے اجتناب
احادیثِ مبارکہ میں محض تکبر، نمود و نمائش اور ایک دوسرے پر برتری جتلانے کے لیے بلا ضرورت اونچی سے اونچی عمارتیں کھڑی کرنے کو قیامت کی علامات میں گِنا گیا ہے (جیسا کہ حدیثِ جبریل میں فرمایا: «وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ» یعنی تم دیکھو گے کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن، محتاج بکریوں کے چرواہے عمارتوں کو اونچا کرنے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے)۔ (صحیح مسلم: 8؛ صحیح بخاری: 50 میں بھی یہ مضمون موجود ہے) البتہ ضرورت، رہائش کی تنگی دور کرنے یا آبادی کی گنجائش کے لیے مضبوط اور محفوظ عمارت بنانا اصلاً مباح ہے؛ ناپسندیدگی فخر و مقابلے کی نیت اور اسراف کی ہے، محض اونچائی کی نہیں۔
تیسرا قاعدہ: شہری و بلدیاتی قوانین (By-laws) کی اطاعت
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد میں نئے آباد ہونے والے شہروں (امصار) کی منصوبہ بندی میں گلیوں اور شاہراہوں کی چوڑائی کے ضوابط مقرر فرمائے تھے — بصرہ کی تخطیط میں بڑی شاہراہ ساٹھ ہاتھ، عام گلیاں بیس ہاتھ اور کوچے سات ہاتھ رکھے گئے (فتوح البلدان وغیرہ میں منقول تاریخی روایات کے مطابق)۔ یہ اسی اصول کی عملی صورت تھی کہ شہری نظم و نسق اور عام مصلحت کے ضوابط ولیِ امر کی طرف سے مقرر ہوتے ہیں اور ان کی پاسداری لازم آتی ہے۔
- ہر علاقے یا سوسائٹی کے تعمیراتی بائی لاز (Building Regulations) — جن کے تحت سیوریج، گلی کی چوڑائی، مٹی کی مضبوطی اور فائر سیفٹی کو دیکھ کر منزلوں اور اونچائی کی اجازت دی جاتی ہے — کی پابندی اسی اصول کے تحت لازم ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ» (اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے اولی الامر کی)۔ (سورۃ النساء: 59) معاصر اہلِ علم — مثلاً شیخ ابن باز اور شیخ ابن عثیمین رحمہما اللہ — نے ٹریفک جیسے جدید نظامات کے بارے میں یہی فرمایا ہے کہ جو نظامات عام مصلحت کے لیے بنائے گئے ہوں اور شریعت سے متصادم نہ ہوں، ان کی پابندی شرعاً واجب ہے اور خلاف ورزی جائز نہیں؛ تعمیراتی ضوابط کا حکم بھی یہی ہے۔
- بلدیاتی حد سے تجاوز کر کے غیر قانونی منزلیں چڑھانا دھوکہ دہی اور عام آبادی کی حفاظت کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ شریعت نے منزلوں کی کوئی خاص گنتی مقرر نہیں کی؛ آپ اپنے پلاٹ پر اتنی منزلیں بنا سکتے ہیں جن کی اجازت مقامی تعمیراتی قوانین دیتے ہوں، بشرطیکہ اس سے پڑوسی کو فاحش ضرر نہ پہنچے اور اس کے پردے و رازداری کا مکمل تحفظ رہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَاب
ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔