بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 015
موضوع: نکاح، طلاق و خاندانی مسائل
تاریخ: 7 فروری 2026 — ہجری: 19 شعبان 1447ھ
سوال

اصل میاں بیوی ڈرامے میں اگر طلاق دے دیں ایک دوسرے کو ایکٹنگ کے دوران تو کیا ہو گا

الجواب
مختصر جواب

شرعی حکم: اگر حقیقی میاں بیوی ڈرامے/فلم/اسٹیج میں اداکاری کے دوران شوہر اپنی حقیقی بیوی کو طلاق کے صریح الفاظ کہہ دے تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ نکاح و طلاق میں مذاق، کھیل اور ایکٹنگ عذر نہیں۔

شرعی حکم: اگر حقیقی میاں بیوی ڈرامے/فلم/اسٹیج میں اداکاری کے دوران شوہر اپنی حقیقی بیوی کو طلاق کے صریح الفاظ کہہ دے تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ نکاح و طلاق میں مذاق، کھیل اور ایکٹنگ عذر نہیں۔

دلیل: "ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ، وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ: النِّكَاحُ، وَالطَّلَاقُ، وَالرَّجْعَةُ" (تین چیزیں سنجیدگی میں بھی حقیقت ہیں اور مذاق میں بھی: نکاح، طلاق اور رجوع) [سنن ابی داؤد: 2194، سنن ترمذی: 1184]

ضوابط: (1) طلاق کے صریح الفاظ میں نیت شرط نہیں — زبان سے نکلتے ہی اثر دکھاتے ہیں۔ (2) عقدِ نکاح مقدس عہد ہے؛ ایکٹنگ کو معاف کر دیا جائے تو رشتہ کھیل بن جائے گا۔ (3) بعض معاصر فتاویٰ کمیٹیوں کے نزدیک فرضی کردار کے نام سے ڈائیلاگ میں بعض حالات میں گنجائش ممکن ہے، لیکن ائمہِ تحقیق کا متفقہ مشورہ یہی ہے کہ حقیقی بیوی کے سامنے ایسے اسکرپٹ سے قطعی اجتناب کیا جائے۔

خلاصہ: حقیقی میاں بیوی کا ڈرامے میں طلاق دینا شرعاً نافذ ہو جاتا ہے — ایسے پروڈکشنز سے دور رہنا چاہیے۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔