اصل میاں بیوی ڈرامے میں اگر طلاق دے دیں ایک دوسرے کو ایکٹنگ کے دوران تو کیا ہو گا
شرعی حکم: اگر حقیقی میاں بیوی ڈرامے/فلم/اسٹیج میں اداکاری کے دوران شوہر اپنی حقیقی بیوی کو طلاق کے صریح الفاظ کہہ دے تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ نکاح و طلاق میں مذاق، کھیل اور ایکٹنگ عذر نہیں۔
شرعی حکم: اگر حقیقی میاں بیوی ڈرامے/فلم/اسٹیج میں اداکاری کے دوران شوہر اپنی حقیقی بیوی کو طلاق کے صریح الفاظ کہہ دے تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ نکاح و طلاق میں مذاق، کھیل اور ایکٹنگ عذر نہیں۔
دلیل: "ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ، وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ: النِّكَاحُ، وَالطَّلَاقُ، وَالرَّجْعَةُ" (تین چیزیں سنجیدگی میں بھی حقیقت ہیں اور مذاق میں بھی: نکاح، طلاق اور رجوع) [سنن ابی داؤد: 2194، سنن ترمذی: 1184]
ضوابط: (1) طلاق کے صریح الفاظ میں نیت شرط نہیں — زبان سے نکلتے ہی اثر دکھاتے ہیں۔ (2) عقدِ نکاح مقدس عہد ہے؛ ایکٹنگ کو معاف کر دیا جائے تو رشتہ کھیل بن جائے گا۔ (3) بعض معاصر فتاویٰ کمیٹیوں کے نزدیک فرضی کردار کے نام سے ڈائیلاگ میں بعض حالات میں گنجائش ممکن ہے، لیکن ائمہِ تحقیق کا متفقہ مشورہ یہی ہے کہ حقیقی بیوی کے سامنے ایسے اسکرپٹ سے قطعی اجتناب کیا جائے۔
خلاصہ: حقیقی میاں بیوی کا ڈرامے میں طلاق دینا شرعاً نافذ ہو جاتا ہے — ایسے پروڈکشنز سے دور رہنا چاہیے۔