بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء الحکمہ
فتاویٰ لقمانیہ — آن لائن فتویٰ لائبریری
زیرِ نگرانی: ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان حفظہ اللہ
استفتاء و شرعی رہنمائی — دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے
اردو | English | العربية
آرکائیو 024
موضوع: نکاح، طلاق و خاندانی مسائل
تاریخ: 2 اپریل 2026 — ہجری: 14 شوال 1447ھ
سوال

ایک لڑکے عبداللہ کا رشتہ اس کی دادی نے ایک لڑکی زینب سے طے کیا تھا اور دونوں بچوں کی مائیں زندہ ہیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ زینب کی ماں گلناز نے عبداللہ کو بچپن میں پوری زندگی میں صرف ایک مرتبہ دودھ پلایا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایک مرتبہ دودھ پلانے سے عبداللہ اور زینب کا آپس میں نکاح حرام ہو جاتا ہے یا یہ رشتہ قائم رہ سکتا ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا تفصیلی حکم کیا ہے؟

الجواب
مختصر جواب

شریعتِ اسلامیہ اور منہجِ سلف کے راجح اور مستند موقف کے مطابق، بچپن میں کسی خاتون کا صرف ایک مرتبہ دودھ پلانے سے نکاح کی حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ لہذا، عبداللہ اور زینب کا یہ رشتہ اپنی جگہ بالکل قائم رہ سکتا ہے اور ان کا آپس میں نکاح شرعاً بالکل جائز اور حلال ہے۔

شریعتِ اسلامیہ اور منہجِ سلف کے راجح اور مستند موقف کے مطابق، بچپن میں کسی خاتون کا صرف ایک مرتبہ دودھ پلانے سے نکاح کی حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ لہذا، عبداللہ اور زینب کا یہ رشتہ اپنی جگہ بالکل قائم رہ سکتا ہے اور ان کا آپس میں نکاح شرعاً بالکل جائز اور حلال ہے۔

اس حکم کی دلیل یہ ہے کہ رضاعت سے حرمت تبھی ثابت ہوتی ہے جب بچے نے دو سال کی عمر کے اندر کم از کم پانچ مرتبہ الگ الگ اوقات میں اچھی طرح پیٹ بھر کر دودھ پیا ہو۔ پانچ سے کم مرتبہ (ایک، دو یا تین مرتبہ) دودھ پینے سے رضاعی بہن بھائی کا رشتہ قائم نہیں ہوتا اور نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحیح مسلم میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دورِ مبارک میں یہ شرعی اصول طے ہوا تھا کہ پانچ مرتبہ واضح طور پر الگ الگ دودھ پینے سے ہی نکاح کی حرمت ثابت ہوتی ہے۔ اس سے کم بار دودھ پینے کو شریعت نے نکاح کی ممانعت کا سبب نہیں بنایا۔

چونکہ گلناز صاحبہ نے عبداللہ کو پوری زندگی میں صرف ایک ہی مرتبہ دودھ پلایا تھا، اس لیے زینب شرعی طور پر عبداللہ کی رضاعی بہن نہیں بنی۔ دادی نے جو رشتہ طے کیا تھا وہ درست و برقرار ہے، دونوں مائیں مطمئن رہیں، خاندان والوں کو پریشانی یا شک کی ضرورت نہیں — یہ شادی شرعاً پوری طرح جائز ہے۔

ڈاکٹر مفتی ابو طیب لقمان — دار الافتاء الحکمہ
نوٹ: یہ جواب عمومی شرعی رہنمائی کے لیے ہے؛ اپنے مخصوص حالات کی مکمل تفصیل کے ساتھ الگ سے استفتاء بھیجیں۔