اے آئی جنریٹڈ تصاویر تخلیق میں آتا ہے اور یہ بالاجماع حرام ہے — جیسے میں اپنی پکچر دے کر ویڈیو بناتا ہوں؟ یہ بات کتنی درست ہے، حقائق کیا ہیں، اور اگر نہیں بنا سکتے تو دلائل کیا ہو سکتے ہیں؟
1۔ ممانعت کی اصل: جاندار کی تصویر بنانا — ہاتھ سے، کیمرے سے یا AI سے — احادیثِ صحیحہ میں سخت وعید: «إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ» (صحیح بخاری: 5950، صحیح مسلم: 2109)؛ «كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ» (صحیح مسلم: 2110)۔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
1۔ ممانعت کی اصل: جاندار کی تصویر بنانا — ہاتھ سے، کیمرے سے یا AI سے — احادیثِ صحیحہ میں سخت وعید: «إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ» (صحیح بخاری: 5950، صحیح مسلم: 2109)؛ «كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ» (صحیح مسلم: 2110)۔
2۔ AI تصویر "تخلیق" کیوں ہے: AI محض نقل (copy) نہیں کرتا — ہدایات و تصویر کے ڈیٹا سے نئی مکمل جاندار شکل بناتا ہے جو پہلے موجود نہ تھی؛ یہ "تصویر کشی" و "مضاہاتِ خلق اللہ" (اللہ کی تخلیق کی مشابہت) میں داخل ہے۔ اپنی تصویر دے کر ویڈیو بنوانا بھی اسی ممانعت میں شامل۔
3۔ "بالاجماع" کے دعوے کی تفصیل: جمہور علماء و معاصر فقہی اداروں کا موقف: جاندار کی تصویر کسی بھی ذریعے سے ہو، حرام — لہٰذا AI تصویر بھی حرام۔ بعض معاصرین نے کیمرے کی عکس بندی (reflection) میں گنجائش کی بحث کی ہے، مگر AI تصویر عکس بندی نہیں، نئی تخلیق ہے — اس پر گنجائش والی رائے کا اطلاق نہیں۔ "بالاجماع" کا لفظ بعض صورتوں میں محلِ بحث ہو سکتا ہے، لیکن AI سے جاندار کی نئی تصویر/ویڈیو کے حرام ہونے پر جمہور کا اتفاق ہے۔
4۔ اپنی تصویر سے ویڈیو: اسی حکم میں داخل — نئی صورت کی تخلیق، تصویر کشی کی وعید کے عموم میں شامل، مضاہاتِ خلق اللہ کا مفہوم۔
خلاصہ: AI سے جاندار کی تصویر/ویڈیو بنانا — اپنی تصویر سے بھی — تصویر کشی کی ممانعت میں داخل ہے؛ اس سے بچنا لازم۔